بہارکوسی

مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم مفکر اور سیاست داں تھے: محمد صدرعالم نعمانی

سیتامڑھی :مولانا ابوالکلام آزاد,آزاد ہندو ستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے,جنکی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں ۔ وہ ایک عظیم مجاہد آزادی تھے توایک جید عالم دین , عظیم خطیب, بہترین ادیب, نامور صحافی ، عظیم دانشور ، بلند پایہ مفکر ، فلسفی,سیاستداں اور آزاد ہندوستان کے عظیم قومی رہنما بھی تھے ۔ان خیالات کا اظہار مولانا محمدصدرعالم نعمانی صدر جمعیت علماء سیتامڑھی ومہتمم مدرسہ مصباح العلوم ہرپوروا عالم نگر باجپٹی سیتامڑھی بہار نے قومی یوم تعلیم کے موقع پر طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ملک کی جد وجہد آزادی میں مولانا آزاد نے بہت ہی اہم کردار ادا کیا تھا بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مولانا آزاد کی آزادی کے لئے کی جانے والی جد وجہد کے ان گنت نقوش مہاتما گاندھی پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں,مولانا آزاد نے ملک و قوم کے لئے جو خد مات انجام دی ہیں وہ نا قابل فراموش ہیں, مولانا محی الدین ابوالکلام آزاد 11 نومبر 1888 ء کو دنیا کےسب سے مقدس ترین مقام مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے ۔انکے والد دہلی کے رہنے والے تھے اور والدہ عرب نزاد تھیں, عربی آپ کی مادری زبان تھی ,بچپن عرب اورمصر میں گذرا جامعہ ازہر مصر میں تعلیم حاصل کی پھر والدین کے ساتھ 1895ء میں ہندوستان آئے اور کلکتہ میں سکونت اختیار کی, بارہ برس کی عمر میں ایک لائبریری ,اور ایک دارالمطالعہ قائم کیاتھا ۔ اللہ نے انہیں بہت ہی ذہین بنایاتھا, انہوں نے چودہ برس کی عمر میں فقہ ، حدیث ، منطق اور ادبیات پر مکمل عبور حاصل کرلی تھی 1902 تک آپ کی تعلیم کا سلسلہ مکمل ہوچکا تھا ۔ اپنے والد مولانا خیر الدین کے علاوہ مولوی ابراہیم ، مولوی محمد عمر ، مولوی سعادت حسن وغیرہ سے تعلیم حاصل کی ۔ آپ نے دس برس کی عمر میں شعر گوئی کا آغاز کیا اور مولوی عبدالواحد کی تجویز پر آزاد تخلص پسند کیا ۔ بعد میں نثر نگاری کی طرف توجہ کی ۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے قرآن و حدیث و فقہ کا گہرا مطالعہ کیا تھا مولانا کا عقیدہ تھا کہ قرآن ہماری زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے مولانا کی ادبی ، سماجی ، تاریخی اور سیاسی تحریروں میں قرآن کے حوالے موجود ہیں ۔ رانچی قیام کے زمانے میں ترجمان القرآن ترتیب دیا اور فقہ اسلامی کی روشنی میں ’الصلوۃ و الزکوۃ‘ اور ’النکاح‘ وغیرہ تصانیف مکمل کی ۔ مولانا کی زندگی کا بڑا حصہ ادبی اور سیاسی میدان میں گزرا ۔ آپ نے بہت سے رسالوں میں مضامین لکھے اور کئی ادبی رسالے شائع بھی کئے ۔ مولانا نے سب سے پہلا رسالہ ماہ نامہ ’’نیرنگِ عالم‘‘ 1899 میں جاری کیا ۔ اس وقت مولانا کی عمر صرف گیارہ برس تھی ۔ یہ رسالہ سات ، آٹھ مہینے جاری رہا بعد میں المصباح ، احسن الاخبار, ہفت روزہ پیغام ، الجامعہ وغیرہ رسائل میں خدمات انجام دیں ۔ 1909 میں ’’لسان الصدق‘‘ ماہ نامہ رسالہ کا پہلا شمارہ کلکتہ سے شائع ہوا ۔ اس کا اول مقصد اصلاح معاشرت ، دوسرا مقصد ترقی ، تیسرا مقصد علمی ذوق کی اشاعت اور چوتھا مقصد تنقید یعنی اردو تصانیف کا منصفانہ جائزہ لیناتھا ۔ مولانا نے 31 جولائی 1906 ء کو ہفت روزہ ’’الہلال‘‘ کا پہلا شمارہ شائع کیا ۔ اس کا اہم مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنا تھا ۔ الہلال مسلمانوں کی ملی غیرت ، ایمانی حرارت اورمذہبی حمیت کا بڑا محاذ بن گیا ۔ الہلال میں ادبی ، علمی ، سیاسی اور تاریخی مضامین شائع ہوتے تھے ۔ سماجی و تہذیبی مسائل پر اظہار خیال ہوتا ۔ مختصراً یہ کہ الہلال نے اردو صحافت کو نیا راستہ دکھایا ۔ الہلال ہندوستان کا پہلا اخبار تھا جس نے ہندوستانی مسلمانوں کو ان کے سیاسی و غیر سیاسی مقاصد کی تکمیل اور اپنے اعمال میں اتباع شریعت کی تلقین کے ساتھ ساتھ ادبی ، علمی ، سیاسی اور تاریخی مضامین بھی شائع ہوتے تھے ۔ حکومت نے الہلال پریس کو ضبط کرلیا تو مولانا نے ’’البلاغ‘‘ کے نام سے دوسرا اخبار جاری کیا۔ جس میں ادب ، تاریخ، مذہب اور معاشرت کے مسائل بیان کئے جاتے تھے ۔ البلاغ کو مذہبی تبلیغ کا ذریعہ بنایا گیا ۔ جنگ آزادی کی طویل جد وجہد میں جو شعلہ بیان مقرر پیدا ہوئے ان میں مولانا آزاد کا نام سرفہرست ہے ۔ مولانا ایک بے باک مقرر تھے ۔ جب وہ کسی موضوع پر بات کرتے تھے تو ان کا ایک خاص پروقار اور پرجلال انداز ظاہر ہوتا تھا ۔ غالباً مولانا پہلے جلیل القدر مسلم رہنما تھے جنھوں نے اپنی زور قوت کے ساتھ ہندوستان کی متحدہ قومیت کا تصور پیش کیاتھا
رپورٹ:ابرار نعمانی

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close