پٹنہ

مولانا گیلانی عظیم دانشور ہونے کے ساتھ ہندو ومسلم اتحاد کے علمبردار بھی تھے:ڈاکٹر اشفاق کریم

پٹنہ:مولانا مناظر احسن گیلانی عبقری اور تاریخی شخصیت تھے لیکن یہ میری بدنصیبی کہیئے کہ میری ولادت اسی دن ہوئی جس دن مولانا کی وفات ہوئی ۔مجھے اس بات کا بیحد افسوس ہے کہ میں اس عظیم شخصیت کو اپنی زندگی میں نہیں دیکھ سکا ۔مولانا مناظر احسن گیلانی ایک ہمہ جہت اور عالم گیر شخصیت کے ساتھ ہندومسلم اتحاد کے بھی علمبردار تھے اوراپنی کتابوں میں انہوںنے مسلم اقلیتی ملک میں اکثریتی طبقے کے ساتھ ملکر رہنے کا نظریہ بتایا ہے ۔ان خیالات کا اظہار کٹیہار میڈیکل کالج کے چیرمین اور راجیہ سبھا ایم ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے پٹنہ کے اے این سنہا انسٹی ٹیوٹ میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیزکے زیر اہتمام بیسویں صدی کے عظیم مفکر مولانا مناظر احسن گیلانی کی حیات وخدمات پر ہونے والے دوروزہ قومی سمینار کے اختتامی اجلاس میں کیا ۔انہوں نے مزیدکہاکہ ابھی ملت ٹائمز کے صحافی نے ہم سے سوال کیاتھاکہ آپ مولانا مناظر احسن گیلانی کے نام پر کوئی تعلیم ادارہ قائم کریں گے تو ہم انہیں جو جواب دیاہے اسی کا یہاں اعادہ کررہے ہیں کہ مجھے مولانا مناظر گیلانی کی شخصیت کے بارے میں بہت بعد میں معلوم ہواکہ وہ اتنے اہم اوصاف کے مالک تھے اگر پہلے پتہ ہوتاہے الکریم یونیورسیٹی کا نام مولانا مناظر احسن گیلانی یونیورسیٹی ہوتا ۔انہوں نے پورے عزم ووثوق کے ساتھ کہاکہ ہم مولانا مناظر احسن گیلانی کے نام سے ایک ادارہ اور یونیورسیٹی ضرور قائم کریں گے ۔اس کے علاوہ ہمارا منصوبہ ایک ریسرچ ٹیم بنانے کا ہے جو مولانا گیلانی کی خدمات پر تفصیل کے ساتھ کام کرے گی۔اس موقع پر انہوں نے آئی او ایس کی ہمہ جہت خدمات کو سراہتے ہوئے اس عظیم شخصیت پر سمینار کا انعقاد کرانے کیلئے معرف اسکالر ڈاکٹر محمد منظور عالم کا شکریہ ادا کیا ۔ مہمان خصوصی ڈاکٹراحمد عبد الحئی نے اپنے خصوصی خطاب میں مولانا گیلانی کے ساتھ اپنی بچپن کی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سادہ مزاج اور خرد نواز تھے ۔ان کا چہر ہ نورانی اور روحانی تھا ۔ایسی عظیم شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے ۔معروف صحافی اور قومی تنظیم کے چیف ایڈیٹر اشرف فرید نے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مناظر احسن گیلانی کی ہمہ جہت خدمات کا تذکرہ کیا ۔انہوں نے بتایاکہ جب سمینار کا علم ہواتو ہم نے قومی تنظیم کی پرانی فائلوں میں ان کے مضامین ومقالات تلاش کئے جسے دیکھ کر اندازہ ہواکہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ،مفسر،محدث ،ادیب ،ماہر تعلیم اور ماہر معاشیات تھے ۔ہمیں فخر ہے کہ اس عظیم شخصیت کا تعلق بھی بہار کی سرزمین سے ہے جس نے بے شمار لعل وگوہر پیدا کئے ہیں ۔
آئی او ایس کی دوروزہ قومی کانفرنس میں ایک آٹھ نکاتی قرارد اد بھی پیش کی گئی جس میں سر فہرست ہیں امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل کیلئے مولانا گیلانی اور اس جیسی شخصیات کے نظریات کی روشنی میں لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔آئی او ایس ان آراء اور تجاویز کا خیر مقدم کرے گا جو اسے دوروزہ سمینار میں ہونے والی گفتگو اور مباحثہ کی روشنی میں پیش کی جائے گی اور اس ضمن میں کوئی کام کرنے کا مشورہ دیا جائے گا ۔مختلف گروہوں کے درمیان اتحاد واتفاق قائم کرنے کیلئے ایک معنی خیزکوشش ہونی چاہیے۔مولانا گیلانی کے اسلامی ہوسٹل والے نظریہ پر سنجیدگی سے غورکرنے اور لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے ۔اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ مختلف یونیورسیٹی میں مولاناگیلانی کے نام سے کوئی چیئر قائم کیا جائے ۔آئی او ایس حکومت بہار سے اس بارے میں رابطہ کرے گی ۔اختتامی سیشن کی صدارت کا فریضہ آئی او ایس کے وائس چیرمین پروفیسر افضل وانی نے کیاجبکہ مذکورہ تجاویز جنرل سکریٹری پروفیسر زیڈ ایم خان نے پیش کیا ۔
واضح رہے کہ بیسویں صدی کے نامور مفکر مولانا مناظر احسن گیلانی کی حیات وخدمات پر پٹنہ کے اے این سنہاء انسٹی ٹیوٹ میں معروف تھنک ٹینک ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز میں کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا دوروزہ قومی سمینار آج اختتام پذیر ہوگیا ۔سمینار میں افتتاحی اور اختتامی اجلاس کے علاوہ کل سات تکنیکی اجلاس کا انعقاد عمل میں آیاجس میں 45 سے زائد علماء ،دانشوران اور نوجوان اسکالرس نے اپنے مقالات مختلف عناوین پر پیش کئے ۔ سمینار میں مولانا کے تعلیمی نظریات ،معاشی اصلاحات اور قرآن کریم کی تفیسر کے تعلق سے گرمام گرم بحث بھی ہوئی ۔تقریباسبھی مقالہ نگاران نے تعلیمی اور معاشی میدان میں مولانا کے نظریات کو سراہتے ہوئے اسے آج کے زمانے کی اہم ضرورت بتاکر اپنا نے کا مشورہ دیا ۔دوروزہ قومی سمینار کے مقالہ خوانوں میں مولانا مفتی ثناء الہدی قاسمی ناظم امارت شرعیہ پٹنہ ۔مولاناڈاکٹر سعود عالم قاسمی پروفیسر علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی ۔پروفیسر محسن عثمانی ندوی ۔ پروفیسر منظر اعجاز ۔پروفیسر ابوذکمال ۔مولانا شاہ مشہود احمد قادری پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ ۔پروفیسر شکیل احمد قاسمی ۔صحافی شمس تبریز قاسمی چیف ایڈیٹر ملت ٹائمز ۔ ڈاکٹر محمد ارشد ۔فاروق اعظم قاسمی مولانا ابرار اجراوی وغیرہ کے نام سر فہرست ہیں ۔
بیشتر تکنیکی اجلاس کی نظامت کا فریضہ آئی او ایس میں شعبہ اردو کے انچارج مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی نے بحسن وخوبی انجام دیا ۔آئی او ایس پٹنہ شاخ کے اعزازی ڈائریکٹر تمام مہمانوں ،سامعین ،اسکالرس اور اپنے معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ اس دوروزہ سمینار میں ہمیں اپنے چیرمین اور آئی او ایس کے بانی ڈاکٹر محمد منظور عدم موجودگی کا بہت احساس ہوا تاہم ان کی مخلصانہ کوششوں اور آئی او ایس کی ٹیم کی انتھک جدوجہد کی وجہ سے سمینار کامیاب رہا ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close