بہارپٹنہ

مونگیر یونیورسٹی کردار سازی کے ساتھ تعلیم کا مرکز بنے تو یہ ایک خاص یونیورسٹی کی شکل میں جانی جائے گی:وزیر اعلیٰ

پٹنہ:وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار نے آج مونگیر واقع راجا دیوکی نند اینڈ ڈائیمنڈ جوبلی کالج احاطہ میں واقع مونگیر یونیورسٹی کے نو تعمیر ایڈمنسٹریٹوعمارت کا نیم پلیٹ کی نقاب کشائی کر کے افتتاح کیا ۔ اس موقع پر منعقد پروگرام کا شمع روشن کر کے وزیر اعلیٰ نے افتتاح کیا۔پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج اس پروگرام میں حاضر ہو کر قلبی اطمینان کا احساس پیدا ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مونگیر یونیورسٹی کی تعمیر کا نوٹیفکیشن جاری ہوا اور پھر قانون ساز کونسل سے اس کی منظور ی لی گئی ۔ آج اس یونیورسٹی کی ایڈ منسٹریٹو عمارت بن کر تیار ہو گئی ہے ۔ اس میں انتظامی کا م کے ساتھ ساتھ دیگر کام کیے جائیں گے ۔انہوںں نے کہا کہ پورنیہ یونیورسٹی اور پاٹلی پترایونیور سٹی کی بھی حال میں تعمیر کا کام شروع کیا گیا ہے ۔ اس یوینورسٹی کے بارے میں تفصیلی جانکاری اس کے وی سی نے آپ کو دی ہے ۔ مستقبل کا ایک روڈ میپ بتا یا ہے ۔ دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ تکنیکی ، کھیل کود ،انسانی سلوک کی تعلیم ہو گی ۔ ہمارا ماننا ہے کہ یونیورسٹی میں ایسی تعلیم ہو کہ تعلیم حاصل کر نے والے کی زندگی بہتر ہو سکے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نومبر 2005 میں اقتدا ر آنے کے بعد ہم نے سروے کرا یا توساڑھے بارہ فیصد بچے اسکول سے باہر تھے ۔ ہم لوگوں نے اسے چیلنج کے طور پر لیا اور 22ہزار سے زیاد پرائمری اسکول کی تعمیر کرائی ، ساتھ ہی کئی اسکولوں کو اپگریڈ کیا 3لاکھ سے زاید اساتذہ بحال کیے گئے ۔ تعلیمی مرکز کا قیام ، ٹولہ سیوکو کی بحالی ، ان تمام کا نتیجہ نکلا کہ اب ایک فیصد سے بھی کم بچے اسکول سے باہر ہیں ۔سال 2007 میں لڑکیوں کے لیے پوشاک منصوبہ کی شروعات ، لڑکیوں کے لیے سائیکل منصوبہ کے سبب اسکولوں میں پڑھنے والی لڑکیوں کی تعداد 1لاکھ 70ہزار سے بڑھ کر 9لاکھ کے قریب پہنچ گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے ہر پنچایت میں ایک پلس ٹو ہائی اسکول کھولنے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے لیے اب تک ایک ہزار سے زیادہ اسکولوں کو منظوری مل چکی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2015 میں جب سروے کراگیا تو پتہ چلا کہ انٹر میڈیٹ پاس لڑکیاں جو زچہ بنتی ہیں ان کی شرح 1.7تھی ،جبکہ ان لڑکیوں کی بہار میں 1.6 شرح تھی ، ہم نے یہ سوچا کہ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دے کر جننے کی شرح کو کم کیا جائے ۔بہار کا گراس انرالمنٹ ریٹ 13.9فیصد ہے جبکہ ملک کا 24فیصد ہے ہم لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بہار کی جی ای آر کم سے کم 30فیصد تک پہنچے اس کے لیے طلبا و طالبات کو انٹر میڈیٹ کے بعد آگے کی تعلیم جاری رکھ سکیں ، چاہے وہ تکنیکی ہو یا عام گریجویشن ہو ، ماسٹر ڈگری ہو ، تمام حلقوں میں تعلیم حاصل کر یں ، اس کے لیے بہار حکومت نے 4فیصد سود کی شر ح سے اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ کے توسط سے ایجوکیشن لون دیا جارہا ہے، جولڑکیوں کے لیے معمولی شرح سود 1فیصد ہے ۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں 5نئے میڈیکل کالج قائم کیے جارہے ہیں ۔ ریاست کے تمام میڈیکل کالج میں نرسنگ کی تعلیم ہو گی ۔ ہرایک ضلع میں انجینئرنگ کالج ،پالیٹنک کالج ، پارامیڈیکل سینٹر ، خواتین آئی ٹی ائی ، جے این ایم سنیٹر کا قیام اور ہر ایک سبڈویزن میں آئی ٹی آئی اسکول اور این ایم اسکول قائم کیے جارہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کو ہم لوگ فروغ دیے رہے ہیں ۔ بہار انجینئرنگ کالج کو اپگریڈیڈ کر کے این آئی ٹی بنا یا گیا ۔ ائی ٹی اور نفٹ قائم کیا گیا ۔ بی آئی ٹی میسرا کی برانچ کھلی ، ان سب کے لیے ہم لوگوں نے کافی کو شش کی ، زمین مہیا کرایا اور رقم بھی دیا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آریہ بھٹ یونورسٹی میں میڈیکل ، انجینئرنگ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ نینوسائنس ٹیکنا لوجی ، اسکول آف ایکنومکس ، انوائر منٹ سائنس ، ریوراسٹڈی سسٹم ، جیوگرافیکل اسٹڈی سینٹر ، مانس کمیونیکیشن بھی ہو گا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ راجندر ایگرکلچر اسکول قائم کیا گیا ، ہم لوگوں نے کئی طرح کے سینٹروکی تعمیر کرائی ہے ، تاکہ بہار میں ہر چیز کی تعلیم ہو سکے ۔ نالند ہ یونیورسٹی کا پھر سے ریوائیول کرایا جارہا ہے ، جو سوپرانٹر نیشنل یونیورسٹی کی شکل میں ابھرے گی ۔ وکرم شیلا یونیورسٹی کوپھر سے قائم کیا جانا ہے ۔ یہاں یونیورسٹی سروس کمیشن کا قیام کیاگیا ہے ، تاکہ اساتذہ کی کمی کو دور کیا جاسکے ۔ بی پی ایس سی کے توسط سے 4ہزار یونیورسٹی اساتذہ کی بحالی ہو نی ہے ، جس میں 1600 کا سلیکشن کیا گیا ہے اور باقی کے لیے بھی کام جاری ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مونگیر میں دنیا کا مشہور یوگ اسکول ہے ، تاریخی مقام ہے ،میں اس سرزمین کو سلام کر تا ہوں ۔انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ مونگیر یونیورسٹی کو اس طرح سے بنائیں کہ جس میں تعلیم کا اہم کردار ہو اور تاریخ کی بھی جھلک ہو ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا فریضہ ہے کہ کالج بہتر ڈھنگ سے چلے ۔ ہم لوگوں کا ماننا ہے کہ کالج کو آٹونامی کی طرف لے جائیں ۔ ہم لوگ یونیورسٹی کے آٹونامی میں مداخلت نہیں کرتے ہیں بلکہ مشورہ دیتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ کالج میں پی جی تک کی تعلیم بہتر طریقہ سے ہو ۔ طلبا و طالبات کالج آئیں اس سے طلباو طالبات کے درمیان تعلیمی تعلق قائم رہتا ہے اور تعلیم بھی حاصل کر تے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ریاستی حکومت ہر طرح کا تعاون یونیورسٹی کو مہیا کرائے گی ۔تعلیم کی توسیع ہو ،تعلیم کا مقصدصرف کاغذی پڑھائی نہیں بلکہ اس کا وسیع مطلب ہے ۔ لوگوں کو اس کی وسعت کے تئیں یونیوسٹی بیدار کرے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گاندھی جی ماحولیات کے متعلق بہت بیدار رہتے ہوئے کہتے تھے کہ زمین لوگوں کی ضرورتوں کو پوراکرتی ہے لالچ کو نہیں ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے گاندھی جی کے بتائے ہوئے سات سماجی پاپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سات سماجی پاپ اور ماحولیاتی پیغام کو ہم لوگ سرکاری اداروں اور اسکولوں میں درج کرا رہے ہیں ۔اس سے اگر 10فیصد لوگ بھی متاثر ہوئے تو سماج بد ل جائے گا ۔ مونگیر یونیورسٹی کردار کے ساتھ تعلیم کا سینٹر بنے تو یہ ایک عالمی یونیورسٹی کی شکل میں جانی جائے گی ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تب میں آپ کی یونیورسٹی کا مداح بن جائوں گا ۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ لوگ آپ کی یونیورسٹی کا فائدہ اٹھاپائیں گے۔ آپ کے زیر نگرانی کالج کی توسیع ہو گی ، زیادہ سے زیادہ تعداد میں طلبا یہاں پڑھنے آئیں گے ۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ سووینر کا اجرا کیا ۔ وزیر اعلیٰ یونیورسٹی کی ویب سائٹ کا مائونس کے ذریعہ افتتاح کیا ۔ وزیر اعلیٰ اور دیگر وزرا نے یونیورسٹی کی نو تعمیر عمارت کا معائنہ کیا ۔وزیر اعلیٰ کا استقبال یونیورسٹی کے وائس چانسر ڈاکٹر رنجیت کمار ورما نے شال اور مومنٹو پیش کر کے کیا ۔
پروگرام کو نائب وزیر اعلیٰ جناب سشل کمار مودی ، تعلیم کے وزیر جناب کرشنانندن ورما، مونگیر ضلع کے انچارج وزیر و صنعت و سانئس اور ٹیکنا لوجی کے وزیر جنا اجے کمار سنگھ اور مونگیر یونیورسٹی کے وی سی جناب ڈاکٹر رنجیت کمار ورما نے خطاب کیا۔
اس موقع پر آبی وسائل کے وزیر جناب راجیورنجن سنگھ عرف للن سنگھ ، رورل ورک کے وزیر جناب سیلیش کمار ، لیبر وسائل کے وزیر جناب وجئے کمار سنہا دیگر عومی نمائندے ، مونگیر یونیورسٹی کی وی سی پروفیسر کسم کماری ، محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سیکریٹر جناب آر کے مہاجن ، وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری جناب منیش کمار ورما ،دیگر یونیورسٹیوں کے وی سی ،مونگیر ڈویزن کے دیگر سینئر عہدیداران ، اساتذہ ، مونگیرڈی ایم ، ایس پی سیمت دیگر شخصیات اور این سی سی اور این ایس ایس کیڈٹ سمیت بڑی تعداد میں طلبا و طالبات موجود تھے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close