بین الاقوامی

مہاجرین کا بحران اور میرکل کا غیرمعمولی فیصلہ

برلن:تین برس قبل جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے لاکھوں پناہ گزینوں کے لیے جرمنی کی سرحدیں کھولنے کا فیصلہ کیا۔ انسانی ہمدردی کے پیش نظر کیے گئیے اس فیصلے کو پذیرائی کے ساتھ شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔مورخہ چار ستمبر 2015ء جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے شام اور عراق میں خانہ جنگی سے متاثرہ لاکھوں پناہ گزینوں کو ملک میں پناہ دینے کا ایک ’جرات مندانہ‘ فیصلہ کیا تھا۔ تاہم تین برس بعد جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے مظاہرین کی جانب سے جرمن شہر کیمنٹز میں غیرملکیوں کا پیچھا کرنے کے مناظر نے دنیا کو حیران کردیا ہے۔دوسری جانب یورپ بھر میں پناہ گزینوں کی ایمد ہر سیاسی اور سماجی امور کی بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ ہونے میں چند ماہ باقی ہیں، ایسٹریا اور اٹلی کی حکومتوں میں انتہائی دائیں بازوں کی سیاسی جماعتیں شراکت دار ہیں، جبکہ جرمن پارلیمان میں بھی عوامیت پسند سیاسی جماعت متبادل برائے جرمنی ’اے ایف ڈی‘ اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت ہے۔”Wir Schaffen das” یا ’ہم یہ کر سکتے ہیں‘‘ پر مبنی مہاجرین دوست پالیسی کے باوجود حالیہ دنوں میں یورپ پہنچنے والے مہاجرین پر سخت موقف اختیار کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں سن 2015 کے مقابلے میں جرمنی میں پناہ گزینوں کی تعداد میں واضح کمی دیکھی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق 2015ء کے بعد جرمنی میں مقیم ہر چوتھا تارک وطن اب برسرِ روزگار ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق ’مہاجرت یورپ کے لیے ابھی بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے‘۔ پروفیسر اشٹیفان لیہنے سمجھتے ہیں کہ یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں کمی واقع ہونے کے باوجود چند عوامیت پسند سیاستدان مہاجرین مخالف جذبات کے ذریعے اپنے قدامت پسند سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔مہاجرین کے بحران نے یورپی یونین میں مغربی یورپی ممالک اور سابقہ کمیونزم کی پیروی کرنے والے مشرقی یورپی ممالک کے درمیان دوریاں مزید بڑھا دی ہیں۔ آئندہ برس منعقد ہونے والے یورپی پارلیمانی انتخابات سے قبل دائیں بازو کے سیاسی وزراء نے چیک رپبلک، پولینڈ، ایسٹریا اور ہنگری کے درمیان ’مہاجرین دوست پالیسی کے خلاف‘ اتحاد قائم کیا ہے۔ پروفیسر لیہنے کہ مطابق یہ ’بین الاقوامی قوم پرست‘ دیگر یورپی سیاسی طاقتوں کے برعکس کام کریں گی۔ البتہ چند ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ ’یورپ میں مقیم لاکھوں پناہ گزینوں کو واپس بھیجنا اب کسی ناممکن عمل کم نہیں۔‘

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close