ہندوستان

مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ہندو جاگرن سمیتی کے مزید 14 افراد کو دہشت گردانہ سر گرمیوں میں ملوث هونے کے الزام میں گرفتار کیا

ممبئی:ممبئی کے نواح میں واقع نالاسوپارہ میں گزشتہ روز مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ہندو جاگرن سمیتی (ایچ جے جے )کے ایک انتہاپسندسرغنہ کی گرفتار ی کے بعد ریاست بھر سے مزید 14 افراد کو دہشت گردانہ سر گرمیوں میں ملوث هونے کے الزام میں گرفتار کیا هے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے ویبھو راؤت نامی سر غنہ کے قبضہ سے دھماکہ خیز اشیاء برآمد کی ہے اور عدالت نے 18 اگست تک پولیس تحویل میں دے دیا هے جب کہ پونے سے بھی کئی افراد گرفتار کیے گیے هہیں اور ان سے تفتیش جاری هے۔پولیس کے مطابق گرفتار کنندہ کا نام ویبھوراؤت بتایا گیا ہے۔نالاپورہ علاقہ میں جمعہ کی صبح راؤت کو ایک جاسوس کتے کی مدد سے پکڑا گیا۔اس کا تعلق ہندوجاگرن سمیتی سے ہے۔اے ٹی ایس نے اس کے قبضہ سے بم تیار کرنے کی اشیاء بشمول ڈیٹونیٹر،دھماکہ خیز پوڈراور دیگر حساس اشیاء اس کی دکان اورگھرسے برآمد کی ہیں۔فی الحال برآمد اشیاء کے استعمال کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہوئی ہے۔پالگھر سے اسے ممبئی لے آیا گیا ہے اورایک عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ایک ہندو کارکن کی گرفتاری پر ہندو جاگرن سمیتی نے سخت ردعمل میں اس کارروائی کو مالیگاؤں دو قرار دیا ہے اور کہاکہ راؤت ہندو گئو شالہ رکھشا سمیتی کا سرگرم رکن ہےاس گرفتاری بدبختی قراردیا گیا ہے۔ہندوجاگرن سمیتی کے آرگنائزر برائے مہاراشٹر اور چھتیس گڑھ گناوت نے کہاکہ راؤت ہندوتنظیموں کے اتحاد اور اتفاق کے پروگراموں میں سمیتی کے نمائندے کے طور پر شریک ہوتا رہا ہے لیکن گزشتہ چند ماہ سے وہ تقریبات میں شریک نہیں ہورہا ہے۔گناوت نے کہاکہ کچھ عرصہ سے ہندوتنظیموں کے کارکنان کو ہراساں کرنے کا طریقہ جاری ہے ،بالکل اسی طرح یہ بھی اسی مہم کا حصہ ہے۔یہ بھی مالیگاؤں کی طرح بے بنیاد ثابت ہوگا جس میں سناتن سنستھا کارکنان کو گرفتار کیا گیا تھا۔انہوں نے پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور دیگر کی گرفتاری کا حوالہ دیا اس تعلق سے راؤت کے وکیل سنجیو پونیکر نے کہاکہ راؤت سناتن کا ممبر نہیں ہے اور اس کا نام تنظیم کوبدنام کرنے کی غرض سے استعمال کیا گیا ہے۔جبکہ اے ٹی ایس نے نالاسوپارہ سے سناتن سنستھا کے رکن ویبھوراوت کو گرفتار کرتے ہوئے اس کے گھر اور دوکان سے زندہ بم اوربم بنانے کے دیگر ساز وسامان برآمد کیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سناتن سنستھا دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے۔ ریاست کی سیاسی اور سماجی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کیا هے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close