پٹنہسیاستہندوستان

مہا گٹھبندھن کے رتھ پرسوار ہوئے کشواہا

نئی دہلی: قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) سے تقریباً ایک ہفتے پہلے الگ ہوئے قومی لوک سمتا پارٹی کے سربراہ اور سابق مرکزی وزیر اوپیندر کشواہا نےجمعرات کو بہار میں راشٹریہ جنتا دل کی قیادت والے مہاگٹھ بندھن کا حصہ بن گئے۔مسٹر کشواہا نے یہاں کانگریس ہیڈ کوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے میں ان کی توہین ہوئی ہے اس لئے انہوں نے کانگریس، راشٹریہ جنتا دل، ہندوستانی عوامی مورچہ جیسی پارٹیوں کے مہاگٹھ بندھن کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر کانگریس خزانچی احمد پٹیل، لوکتانترک جنتا دل کے سربراہ شرد یادو، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو،بہار کے سابق وزیر اعلی جتن رام مانجھی اور کانگریس کے بہار کے انچارج شکتی سنگھ گوہل سمیت کئی اہم رہنما موجود تھے۔سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ وہ کانگریس صدر راہل گاندھی سے متاثر ہوئے ہیں۔ مسٹر گاندھی نے حال ہی میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران کسانوں کا قرض معاف کرنے کا اعلان کیا تھا اور حکومت بننے کے بعد پہلا کام اسی اعلان کو پورا کرنے کا کیا ہے۔کانگریس لیڈر کے اس طریق کار سے وہ بہت متاثر ہوئے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ سماج کے جس طبقے کے مفادات کے لئے وہ لڑ رہے ہیں، اس کا مفاد مہاگٹھ بندھن کے ذریعے ہی حاصل جا سکتا ہے۔مسٹر کشواہا نے کہا کہ گزشتہ عام انتخابات کی مہم کے دوران وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار نریندر مودی نے بہار میں تقریبا تمام انتخابی ریلیوں میں وعدہ کیا تھا کہ ان کی حکومت بننے کے بعد بہار کے لوگوں کو پڑھائی، دوائی اور کمائی کے لئے باہر نہیں جانا پڑے گا . یہ وعدہ کتنا پورا ہوا ہے اسے سب جانتے ہیں اور بہار کو کتنا نظرانداز کیا جارہ ہے یہ بھی بہار کے لوگ خوب سمجھ رہے ہیں۔سابق مرکزی وزیر نے کہا’’این ڈی اے میں رہ کر میں نے سماجی انصاف کی آواز بغیر ڈرے اٹھاتا رہا۔ بہار میں تعلیم کی سطح کو بہتر بنانے کی باتیں کرتا رہا، تو این ڈی اے لیڈروں کو لگا کہ سماجی انصاف کی بات کرنے والے کشواہا اور اس کی پارٹی کو کمزور کرنا ضروری ہے۔ مجھے اور میری پارٹی کو برباد کرنے میں بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کی‘‘۔رالوسپا سربراہ نے کہا کہ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے این ڈی اے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں احساس ہو گیا تھا کہ این ڈی اے کو سماجی انصاف کی بات قبول نہیں ہے، تو اس کے اتحادیوں سے مل کر رالوسپا کو کمزور کرنے میں لگ گئے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر نتیش کمار نے تو ایک طرح سے مہم شروع کر دی تھی کہ ’اوپیندر‘ اور ان کی پارٹی کو برباد کرنا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close