بہارسیمانچل

میئر انتخاب میں بیلیٹ پیپر سے ہوگی ووٹنگ

پورنیہ:میئر کے انتخاب کیلئے بیلیٹ پیپر کے ذریعے خفیہ ووٹنگ ہوگی۔ میئر کے خلاف عدم اعتمادکی تجویز کے بعد 28 جولائی کو ووٹنگ کی تاریخ طے کر دی گئی ہے۔ ووٹنگ میں اب صرف پانچ دن باقی رہ گئے هہیںسياستدانوں کے 24 کے اعداد و شمار کے لئے ہیرا پھیر کیا جا رہا ہے، کارپوریشن انتظامیہ ووٹنگ کی تیاری میں لگ گئی ہے۔ نگر آیکت وجئے سنگھ نے بتایا کہ بورڈ کی بیٹھک کو لے کر قانونی رائے لی جارہی ہے۔ ہر پہلو پر باریکی سے رائے لینے کے بعد قانونی رد عمل کے تحت بیٹھک ہوگی۔
معلومات کے مطابق28 جولائی کو30:11 بجے بیٹھک شروع ہو گی۔بیٹھک شروع ہونے سے پہلے بحث ہوگی۔ اپوزیشن کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا میئر جواب دیں گے۔ اسکے بعد اپوزیشن کی طرف سے پولنگ کا مطالبہ ہوگا ۔ خفیہ پولنگ ہوگا، اس کے لیے نگم کے ذریعہ بیلیٹ پیپر تیار کیا جا رہا ہے۔اس کی شکل اور سائز کے لئے حکام سے اجازت لی گئی ۔ووٹنگ کے تھوڑی دیر بعد ہی نتیجہ کا اعلان کردیا جائے گا۔بیٹھک میں شامل ہونے والے کونسلروں شناختی کارڈ لانا ہوگا۔اس سے قبل بھی شناختی کارڈ دیا جاچکا ہے۔جس کے پاس نہیں ہے انہیں نیا بنا دیا جائےگا۔ دی ایم کی ہدایت پرنگم میں سی آر پی ایف بھی تعینات رہیں گے۔ چھان بين کے بعد ہی کونسلرز کو اندر جانے دیا جائےگا۔ تحفظ پر دھیان دیتے ہوئے نگم پوری طرح پولس چھاؤنی میںتبدیل ہوگی۔ واضح ہو کہ 26 جون کو دو سال کی مدت مکمل کر چکی میئر وبھا کماری (وارڈ 42 کی کونسلر) کے خلاف وارڈ پانچ کونسلر سوتا دیوی نے نگر پالیکا ایکٹ 2007 کی دفعہ 25 (4) کے تحت اورنگر پالیکاغیر اعتمادی پیشکش عمل دستور العمل 2010 کے تحت 10 جولائی کوعدم اعتماد کی تجویز پیش گیا تھا۔تجویز کی حمایت میں 20 کونسلروں کی طرف سے دستخط کیا گیا ہے۔اس کے بعد میئر کی طرف سے 16 جولائی کو بورڈ کی میٹنگ کے لئے 28 جولائی کی تاریخ مقررکی گئی ہے۔ میٹنگ کے بارے میں امیدواروں کو معلومات جاری کی گئی ہے۔
میئر کے انتخاب کے بارے میں کونسلر دوخیموں میں بٹ گئے ہیں ۔ کوئی اس کو موقع کا تقاضہ بتا رہے ہیں تو کوئی اسے رشتے کا نام دے رہے ہیں۔مگر ان کونسلر میں دو کونسلر کے قریب آنے کو لے کر خاصی بحث ہے۔سال 2016 میں نگر نگم کی تشکیل کے وقت دونوں کے خیمے مختلف تھے، آج دونوں نہ صرف ایک خیمے میں ہیں بلکہ کرسی کی دوڑ میں تمام ہتھکنڈے بھی اپنا رہے ہیں۔اسے دیکھ کر ہر کوئی حیران ہے، وہیں دوسرے خیمے میں خاصی بے چینی کا ماحول ہے شہر میں چرچا ہے کہ تاجر کے حق میں ایک کونسلر سے دوستی توڑوا کر دوسرے کونسلر کے قریب لادیا۔پالا بدلنے کے اس کھیل میں ایک بڑے ٹھیکے کو کافی اہم مانا جارہاہے۔ اس ٹھیکے کا تعلق دوسرے ضلع سے ہے۔ اور یہ ضلع ایک کونسلر کی رہائش گاہ ہے۔ وارڈ 15 کی کونسلر ریکھا دیوی کا بیٹا کنال کمار اور وارڈ 46 کی کونسلر پھليا دیوی کا بیٹا جيوچھ کمار نے ایس سی، ایس ٹی کمیشن کو درخواست دی ہے، درخواست کی کا پی وزیر اعلی کو بھی بھیجی گئی هہے۔ درخواست میں متاثرہ نے کہا ہے کہ دلت کونسلرہونے کی وجہ سے سیاسی دبنگوں کے ذریعہ ان کو یرغمال بنالیا گیا ہے۔
میئر کے انتخاب کولے کر جہاں گروہ میں تفرقہ ہے وہیں ایک گروہ اپنی انتخابی مساوات کے بارے میں فکر مند ہے۔ یہ بےچینی آر جے ڈی خیمے میں ہے۔ آرجے ڈی میں مائی مساوات کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ کبھی بندکمرے سے سیاسی بازی پلٹنے میں ماہر رہے سابق مرکزی وزیرمرحوم تسلیم الدین کے بعد اس طرح کے حالات میں اب ان کے بڑے بیٹے اور ارریہ کے آر جے ڈی ایم پی سرفراز عالم کا تعلق ہے۔میئر انتخاب بھی مائی مساوات کو بچانے میں ارریہ ایم پی کے شمولیت کافی چرچا ہے۔ اس بیٹھک میں کئی اور سیاسی رسوخ داروں کے بارے میں بھی ذکر ہوا جو ہوا کا رخ بدلنے کی منشا اور طاقت رکھتے ہیں۔ سبھی پہلوؤں پر بحث کرتے ہوئے آگے کی کارروائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سٹی آرجے ڈی صدر شبیہ احمد نے کہا کہ میئر کا انتخاب پارٹی بنیاد پر نہیں ہورہاہے۔ پارٹی سے جڑے کونسلروں کے ساتھ سیمانچل کے اعلیٰ لیڈروں نے میئر انتخاب کو لے کر چرچا کی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close