مضامین

’می ٹومہم‘ : وہ بلاجس کو وقوع ہونا ہی تھا

ہندوستان جیسے ’’مہذب ‘‘ ملک میں بھی اب می ٹو ہیش ٹیگ کا سیلاب آگیا ہے اور اس سیلاب کی زد میں بڑی بڑی نامی گرامی ’ہستیاں‘ آرہی ہیں۔یہ کوئی طبع تفریح نہیں ؛بلکہ بین الواوین میں درج لفظ مہذب کو ذرا عکس معنوی صورت میں پڑھیں تو یہ واضح ہو جائے گا کہ اب اپنا یہ ملک کتنا مہذب رہ گیا ہے ۔ ہمیں اس پر تعجب بھی نہیں ہونا چاہیے کہ اب ہندوستان میں بھی می ٹو جیسی مہم کا آغاز ہوگیا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ مہم بہت تاخیر سے شروع ہوئی ہے ۔اس مہم کااس وقت آغاز ہونا چاہیے تھا، جب2014 کے اوائل میںگجرات میں’’ صاحب ‘‘ کسی نادیدہ پری پیکر کے عشق میں مبتلا ہوگئے تھے ۔یہ ملک ہی ایسا ہے کہ جہاں ہر ایک چیز پر مذہب کارنگ چڑھا کر پیش کردیا جاتا ہے اور پھر اسی مذہب رنگ کو گناہ اور جرم پر بھی پردہ ڈالنے کا کام کیا جاتار ہا ہے ۔عوام کو شاید یا د نہ ہو؛لیکن یاد رکھنا چاہیے ؛کیوں کہ یہ واقعات شخصیت کو نمایاں کرتے ہیں کہ مذکورہ شخصیت میں کتنی ’’ہندوستانیت‘‘ باقی ہے ۔صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا او راس پر ہندوتوا کا رنگ چڑھا کرہندو-مسلم تنازعات لالی پاپ کے مثل تھما کر اس تعلق سے ہر ایک چیز کو فراموش کرادیا گیا ۔ خیر دیر آید درست آید !اب بھارت میںبھی می ٹو کا آغاز ہوچکا ہے ۔ اور توجہ طلب امریہ ہے کہ اُن خواتین کی جانب سے الزمات لگائے جارہے ہیں جنہوں نے کبھی ’’ہمارا جسم ہماری مرضی ‘‘ کا نعرہ بلند کیا تھا یا پھر قدرت کی طرف سے عائدتمام تفریقات کو کالعدم قراردے کر مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر سماج میں اپنی شراکت یا پھر’’ حصہ داری‘‘ کا اعلان کیا تھا ۔جن خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے یا پھر اس میں کسی طرح کی ’’رضا مندی ‘‘ کی گئی تھی اور ان خواتین نے سربرآوردہ شخصیات کی رضا مندی میں اپنی رضا مندی شامل کی تھی اور ان کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی ، قابل مذمت ہے ۔ اس کے علاوہ اس شق پر بھی توجہ رکھنی چاہیے کہ جب ان کے ساتھ غلط اور فحش مطالبات کئے گئے تھے ، اس وقت ان متاثرین خواتین نے آخر کیوں نہیں اس کے خلاف آواز بلند کی ؟ ۔ می ٹو کا آغاز ہالی ووڈ میں ہوا تھا جب ایک اداکارہ نے جنسی زیادتی کے خلاف آواز بلند کی تھی ۔معروف ہندی روزنامہ دینک بھاسکر کے مطابق : ’’می ٹو مہم کا آغاز ہالی وڈ سے ہوا۔ 2006 میں امریکن سماجی کارکن ’’ترانہ برک(برق) نے پہلی بار ا س کا آغاز کیا تھا۔ترانہ برق نے اپنے اوپر جنسی زیادتی کا انکشاف کیا تھا ۔ ان کے انکشافات کے 11 سال بعد 2017 میں یہ سوشل میڈیا پر بھی #می ٹو مہم کا عمومی شیوع (وائرل )ہوا۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ہالی وڈ کے معروف پروڈیوسر’’ہاروی وائنسٹن ‘‘ کے متعلق انکشافات کئے تھے۔ اس کے بعد انہیں (ترانہ برق )کو کمپنی چھوڑنا پڑی ،گرچہ جنسی زیادتی کے انکشاف کی پاداش میں ترانہ برق کا کیریئر بھی ختم ہوگیا۔‘‘ می ٹو مہم اب ایک عنوان بن گیا ہے جسے بھی اپنے اوپر جنسی زیادتی کا انکشاف کرنا ہو وہ می ٹو ہیش ٹیگ کے ذریعہ اپنی آپ بیتی (پاپ بیتی) کا ذکر کرسکتا ہے ،جنس او رمذہب کی کوئی قید نہیں ہے ۔ بھارت میں سب سے پہلے تنوشری دتا نامی اداکارہ نے نانا پاٹیکر پر می ٹو کے ذریعہ الزام لگائے تھے ۔ واضح ہو کہ یہ ایک یہودی شرپسند تنظیم کے کارکنان کی طرف سے پھیلائی ہوئی چال ہے جس کا آغاز جیسا کہ ہالی ووڈ سے ہوا ہے ۔ اس سلسلے میں یہ ثبوت بھی کافی ہے کہ می ٹو نام نہاد احتجاجی اصطلاح کے ذریعہ دروان حج بھیڑ میں سہواً ٹکر کو بھی #می ٹو مہم کے زمرے میں لا کر حرم پاک کی بھی توہین کی گئی ہے۔اس ذیل میں نام نہاد لبرل خواتین کو بی بی سی نے اپنے خصوصی پروگرام میں بلاکر اپنے مقاصد کے تئیں سوالات پوچھے ، خواتین کو اسی تعلق سے مدعو بھی کیا گیا تھا ان نام نہاد خواتین نے حرم پاک کی توہین میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا ۔ یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ یہ می ٹو مہم سات سمندر پار کا ناسور ہے جس طرح اپنی رضا مندی سے جنسی آوارگی ، آزادی کے نام پر آبروفاختگی کو ترجیح دی گئی تھی ، اسی زیاں کاری کے خلاف تماشہ گری کو می ٹو کا نام دے دیا گیا ہے ۔
ہندوستان میں جن لوگوں پر می ٹو کے ذریعہ جنسی زیادتی کا الزام لگایا گیا ہے ان میں تمام کے تمام معروف شخصیات ہیں۔برسراقتدار طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایم جے اکبرکا نام بھی اس فہرست میں آرہا ہے ۔ ان پر خواتین صحافیوں نے الزام لگایا ہے کہ سابق میں ایم جے اکبر جب صحافی ہواکرتے تھے اور معروف ایڈیٹر ہوا کرتے تھے ان دنوں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے ۔ایم جے اکبر کے علاوہ اداکار نانا پاٹیکر ، کیلاش کھیر، زلفی سعید،ابھیجیت بھٹا چاریہ ، آلوک ناتھ وغیرہ کے نام می ٹو کے ذریعہ بدنام ہوئے یا بدنام کئے گئے ۔ اس کے تحت قانونی دفعات بھی ہیں ،تاہم یہ سوال اہم ہوگا کہ ان الزامات میں صداقت کتنی ہے یا پھر محض الزام ہی ہیں ۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں دیومالائی عقائد کی رو سے ’’دیوی ‘‘ کہا گیا ہے ؛لیکن اسی ہندوستان میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نربھیا کا واقعہ پیش آجاتا ہے ، خواتین کو اگرچہ ایک دیوی کے ’’روپ‘‘ میں دیکھا گیا ہے؛لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تعلیم ، ملازمت ، ترقی ، آزادی، روشن خیالی اورمغربی ممالک کی ’تقلید‘ پر خواتین کی عفتیں تار تار کی جاتی رہی ہیں ۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ؛بلکہ آئے دن اخبارات کی زینت بننے والی خبریں ہیں ۔ ان خبروں کے باوجود ناقص العقل ’مخلوق‘ کی دیدہ دلیری، ہمت ؛بلکہ ذہنی آوارگی اور فکری دیوالیہ پن کا طرہ امتیاز ہے کہ وہ بھیڑیئے نما انسانوں کی صف میں گھس کر اپنے حقوق کی جنگ میں مصروف ہے۔درحقیقت یہ اولوالعزمی یا پھر دلیری نہیں ہے ؛بلکہ ذہنی آوارگی اور نام نہاد جدت پسندی ہے کہ وہ مردوں کی صف میں گھس کر ملازمت اور ان جیسے امور سے وابستہ ہوکر زندگی گزارنا چاہتی ہیں جو کہ کسی طوفان بلا کے ’استقبال ‘سے کم نہیں ہے ۔تنو شری دتانے نانا پاٹیکر پر زیادتی کے الزامات لگائے تھے ، اس کے بعد می ٹو کے تحت ایسی خواتین کا بھی ظہور ہواجو منظرنامے سے غائب تھیں ۔
می ٹو کے تحت ان کے الزامات کی نوعیت کے تئیں غور کرنا ہوگاکہ آخرخواتین کوہراساں کیوں کیاجاتا ہے ؟ قانونی دفعات بھی ہیں عدلیہ بھی ہیں اس کے باوجودخواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ، زیادتی ، استحصال اور عصمت دری جیسے واقعات آئے دن پیش آرہے ہیں ۔اس کے پس پردہ حقائق سنسنی خیز ضرورہیں ؛لیکن مادر پدر آزاد ہوتے ہوئے معاشرہ میں ، سیکس فری ماحول میں ،مجازاور قانونی قرار دیئے گئے ہم جنس پرستی کی متعفن فضا میں اگر خواتین کے ساتھ جنسی استحصال ہوتا ہے تو پھر اچنبھے اور تعجب کی بات نہیں ہے ۔ حیرانی ان پر ہے جو اس کا شکار ہوئی ہیں، اورکئی سال گزرجانے کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعہ می ٹو نام نہاد اصطلاح کے ذریعہ اپنی’’ پاپ بیتی ‘‘بیان کررہی ہیں ۔اب اگر گھوڑا گھاس سے ہی عشق کربیٹھے تو اپنی بھوک کس سے مٹائے گا ؟نام نہاد مغرب نواز نے اپنا جسم خود ان درندوں کو سونپا ہے ؛لہٰذا اس کے عواقب و نتائج سامنے ہیں ۔خواتین کے ساتھ ہونی والی زیادتی یقینا قابل مذمت ہے اس کی مذمت ہونی چاہیے،البتہ نام نہاد آزادی ،روشن خیالی کے نام پر مغرب کی تقلید سے گریز بھی لازمی ہے ۔ ہم اور ہمارا معاشرہ جس طرح دیوانہ وار مغرب سے مرعوب ہوکر اس کے پیچھے بھاگ رہا ہے ، اسی تعشق کا نتیجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر می ٹو مہم چل پڑی ہے ۔یہ بھی وثوق کے ساتھ کہہ لیجئے کہ وہ دن بھی قریب ہے ،جب می ٹو کے ذریعہ ہم جنس پرست مرد حضرات بھی استحصال کی ’’کہانی‘‘ بیان کرتے پھریں گے ۔ کیوں کہ ملک میں مجازی طور پر ہم جنس پرستی کو قانون تصور کرلیا گیا ہے اور اب اس کی ہولناکی کا انتظار ہے ۔ ان افراد کی عقل اور فکر پر افسوس ہے کہ جنہوں نے ان امور کو’مجاز‘ تصور کیا ہے ان کی دلیل بھونڈی ہے ، اس میں کوئی دم خم نہیں ؛ بلکہ بے جان اور لاغر ہے ۔انسان کو اپنی زندگی گزارنے کا حق ہے ،مگر ایسی بھی آزادی کیوں ؟ جو عین فطرت کے منافی ہے ۔ می ٹو تو اس تباہ کاری کا تلچھٹ ہے اس میں پوشیدہ کئی اور کہانیاں ہیں جس سے اور بھی افسانے تراشے جاسکتے ہیں ، می ٹومہم جنسی آوارگی سے طبیعت سیر ہوجانے کی مختصر داستاں ہے ، نہ جانے اس کے پس پردہ کتنی جوانیاں ’مست بدمست‘ ہورہی ہیں اور فریب خوردگی کا شکار ہوکر بھی لطف اندوز ہیں ، ان گم شدہ حسیناؤں کی آنکھ اس وقت کھلے گی جب حسن کی جلوہ فروشی معدوم ہو جائے گی اور شام زندگی کی تصویر ان کے سامنے ہو گی ۔
٭٭٭

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close