مضامین

نار سے نور تک۔۔۔ ایک نئے مسلمان بھائی کا رودادِغم

ایک المناک حقیقت۔۔لحمئہ فکریہ۔۔۔۔

ترتیب۔ریاض فردوسی
میں برطانیہ میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ھوا جو اسرائیل سے ھجرت کر کے وھاں پہنچا تھا، بہن بھائیوں میں میرا نمبر چوتھا اور آخری تھا، یوں کچھ لاڈلا بھی تھا،، یہودی مذھب میں بھی ھر مذھب کی طرح سوال کرنے کو بہت برا جانا جاتا ھے اور سوال کو مذھب یا خدا کے خلاف سازش سمجھا جاتا ھے،ادھر میں تھا کہ سوال نہ کروں تو کھانا ھضم نہیں ھوتا تھا، والدین میری اس عادت سے بہت تنگ تھے وہ حتی الامکان میرے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کرتے اور آخرکار وھی امرت دھارا استعمال کرتے جو ساری دنیا کے والدین کرتے ھیں یعنی پٹائی،، میرے بہن بھائیوں کو جب بھی،اور جو بھی ملتا ان کی سب سے پہلی ترجیح اسے کھانا ھوتی تھی جبکہ میں جب تک پوچھ نہ لوں کہ کس نے دیا ھے؟ کیوں دیا ھے؟ اور کتنا دیا ھے؟؟ کھاتا نہیں تھا،والدہ اکثر جب مجھے کوئی چیز دیتیں تو سوال سے پہلے ھی کہتیں،،تیری خالہ نے دیا ھے، ان کی بیٹی کے گھر بچہ پیدا ھوا ھے اور سارے رشتیداروں کو دیا ھے اور اب مر۔۔ کھا لے!
مذھب کے معاملے میں ان کو کوئی خاص علم نہیں تھا، وہ ھوں ھاں کر کے چپ ھو جاتے یا جو کہانی سنی ھوتی سنا دیتے، انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ میں مطمئن ھوا یا نہیں ھوا،البتہ یہودیت میں اسلام کی طرح ذرا ذرا سی بات پر کان پکڑ کر نکال نہیں دیا جاتا کہ یہ کافر ھو گیا،، بلکہ آپ یہودی ھیں اور عمل کریں یا نہ کریں آپکی یہودیت کو کوئی خطرہ نہیں، اسرائیل میں حکومت ھمیشہ سے بے عمل یہودیوں کی رھی ھے اور یہ مسئلہ میں نے جتنے مذاھب تبدیل کئے سب میں دیکھا کہ ھر مذھب میں حکومت بے عمل لوگوں کی ھی ھے،، باعمل لوگ صرف جلنے کڑھنے کے لئے ھی رہ گئے ھیں،، عوام میں ان کی پذیرائی نہیں اور حکومت چلانے کی ان میں صلاحیت نہیں،، اس کی وجہ یہ ھے کہ حکومت چلانے کے لئے جس وسعت قلب و نظر کی ضرورت ھے وہ ان میں نہیں ھے، لہذا ان کے مقدر میں ھی لوگوں کو کوسنا اور اور خود بھی جلنا کڑھنا ھے،، میں کبھی کبھی سوچتا ھوں یوسف علیہ السلام نے تنِ تنہا کس طرح کافروں سے بھرے ملک میں حکومت کر لی،،کس طرح پورے ملک کو اپنے ذاتی محاسن اور نظم و ضبط،و عدل و انصاف سے حکومت کر کے مسلمان کر دیا،، کہاں وہ پیغمبر اور کہاں آج ان کے نام لیوا؟
یہودیت کے جوھڑسے نکل کر میں نے عیسائیت کے سمندر میں چھلانگ لگا دی،، اس سے کوئی خاص طوفان تو برپا نہیں ھوا کیونکہ یہودیت سے عیسائی ھونا یا عیسائی سے یہودی ھونا، ایک معمولی تبدیلی سمجھا جاتا ھے، جس طرح مسلمانوں میں فقہ کی تبدیلی ھوتی ھے،، بندہ کسی بھی امام کی پیروی کر لے رھتا مسلمان ھی ھے،، مگر میرے سوالوں کا جواب عیسائیت کے پاس بھی نہیں تھا،، اور میں زیادہ دیر وھاں بھی ٹک نہ پایا،، ایک سکھ دوست کی دوستی نے جو کہ میرا یونیورسٹی کا کلاس فیلو تھا مجھے سکھ بنا لیا،میرے سوالات نے اسے بھی سکھ مذھب سے فارغ کر دیا اور میں گیا تو اکیلا تھا مگر سکھ ازم سے نکلنے والے دو تھے،، اب دو آدمیوں کو مذھب کی تلاش تھی،،میں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا، اگرچہ نسلی تعصب کی وجہ سے جو کہ مسلمانوں کے خلاف ھمارے خون میں شامل ھے، قرآن کو پڑھنا میرے لئے ایک قیامت سے گزرنا تھا،، لیکن میں جوں جوں قرآن کو پڑھتا گیا میرے اندر کی میل اور میرے سوالوں کی کاٹ کم ھوتی چلی گئی،،قرآن تو بھرا ھی جوابوں سے ھے،،وہ سوال بھی خود کرتا ھے،اس لئے دوسروں کو سوال سے منع کرتا ھے،اور جواب بھی خود دیتا ھے انسانی ذھن آج جن سوالوں تک پہنچا ھے،قرآن نے صدیوں پہلے ان سوالوں کو اٹھا کر ان کا تسلی بخش جواب دے دیا ھے،، مگر میرا مسئلہ مسلمان ھونے کے بعد شروع ھوا!
میں مسلمان تو برطانیہ میں ھی ھو گیا تھا اور میں یہ چاھتا تھا کہ کسی مسلمان ملک میں جا کر اسلام کو عملی طور پر دیکھوں،،میرے والد صاحب جو دس سال پہلے 1977 کے زمانے میں پاکستان میں برطانوی سفارت خانے میں اتاشی کے طور پر کام کر چکے تھے انہوں نے جب سنا کہ میں مسلمان ھو چکا ھوں اور سعودی عرب جانے کا سوچ رھا ھوں تو انہوں نے مجھے بلا کر کہا کہ اگر تم مسلم ملک میں جانا چاھتے ھو تو پھر پہلے پاکستان جاؤ،یہ وہ واحد ملک ھے جو اسلام کی بنیاد پر بنا ھے اور تمہیں اسلام کو سمجھنے میں جتنی مدد اس ملک سے ملے گی کہیں اور ممکن نہیں ھے، اب اللہ جانتا ھے اس مشورے کے پیچھے کیا عوامل کار فرما تھے،مگر میں ان کے مشورے پر پاکستان کی طرف چل نکلا! کراچی پہنچ کر میں نے ایک فائیو اسٹار ھو ٹل میں قیام کیا! ایک سروس بوائے سے میں نے اپنا مقصد بیان کیا کہ میں اس نیت سے پاکستان آیا ھوں اور کوئی اچھا سا ادارہ جو مجھے اسلام کو سمجھنے میں مدد دے اس کی تلاش میں ھوں اگر تم مجھے گائیڈ کر سکتے ھو تو تمہاری مہربانی ھو گی اور اگر ایک دو چھٹیاں لے لو گے تو میں ان کے پیسے بھی تمہیں دے دوں گا،، سروس بوائے نے میرا انٹرویو شروع کیا اور پوچھا کہ میں کون سا مسلمان ھوا ھوں تا کہ متعلقہ اسلام کے کسی ادارے کو وزٹ کیا جائے،، میں جس کی ساری زندگی سوال کرتے گزری تھی، اس سوال پر ھی چکرا کر رہ گیا کہ میں کون سا مسلمان ھوا ھوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟
میں نے اسے بتایا کہ میں نے قرآن پڑھا ھے اور اس کے مطابق اللہ کو ایک مانا ھے،،محؐمدﷺ کو اللہ کا رسول مانا ھے اور مرنے کے بعد اٹھنے اور حساب کتاب پر ایمان لایا ھوں، اللہ نے جبریل کے ذریعے قرآن نازل کیا ھے جو اللہ کا کلام ھے،، اب تم بتاؤ کہ یہ کونسا اسلام ھے؟ وہ بولا اس سے کام نہیں چلے گا،، اتنا سارا اسلام پاکستان میں نہیں چلتا،اس کے ساتھ کچھ اور ضروریات بھی ھیں جن کے لئے آپ کو ھمارے ایک عالم ھیں ان سے ملنا ھو گا! اگلے دن وہ مجھے کراچی کی ایک جامعہ میں لے گیا، جہاں ایک بہت موٹے تازے بزرگ بیٹھے تھے جو سبز پگڑی پہنے بیٹھے تھے، انہوں نے مجھ سے تفصیل پوچھی اور میرے علم میں یہ اضافہ کیا کہ چونکہ ھند میں اسلام کچھ بزرگوں کے ذریعے آیا ھے ان بزرگوں کے بارے میں میرا عقیدہ اگر خراب ھوا تو میں مسلمان نہیں ھو سکتا، لہذا انہوں نے مجھے ایک بندے کے سپرد کیا جو مجھے کسی درگاہ پر لے گیا جہاں میرے نفس کا تزکیہ کرنا مقصود تھا! وہ غالباً منگھو پیر کی درگاہ تھی اور جامعہ امجدیہ کے مہتمم نے مجھے وھاں کے سجادہ نشین کے نام رقعہ دیا تھا جو میں نے ان کے سپرد کر دیا،، مجھے غسل دلوایا گیا، سبز کپڑے پہنائے گئے اور میری انگلیوں میں چار انگوٹھیاں جو مختلف رنگوں کے پتھروں سے مزین تھیں پہنا کر میری بیعت لی گئی اور ایک ڈنڈا میرے ھاتھ میں پکڑایا گیا،، اور اسلام میں داخل کر لیا گیا،
صبح صبح مجھے ناشتے کے بعد ریلوے اسٹیشن لے جایا جاتا جہاں انے جانے والے مسافروں کو مجھے اسلام کی دعوت دینی تھی اور ساتھ بتانا تھا کہ میں کن کے ھاتھ پر مسلمان ھوا ھوں!یہ معمول کوئی دو ماہ رھا اس دوران میں نے جب بھی قرآن کی تلاوت اور مطالعہ کرنے کی کوشش کی میرا انگلش ترجمے والا قرآن بڑے پیار اور ادب کے ساتھ میرے ھاتھ سے لے کر واپس میرے سامان میں رکھ دیا گیا اور بتایا گیا کہ قرآن نے جو کام کرنا تھا وہ کر دیا ھے،اب آپ کو تربیت کی ضرورت ھے مطالعے کی نہیں! دو ماہ بعد کی بات ھے جب میں ریلوے اسٹیشن پہنچا تو وھاں ایک تبلیغی جماعت ریل گاڑی میں سے اتر رھی تھی، میں نے جب ان کو اپروچ کرنے کی کوشش کی تو میرے گائڈ نے میرا ھاتھ سختی سے پکڑ لیا اور کہا کہ ان کے قریب مت جاؤ،یہ بات جماعت کے ایک ساتھی نے بھی محسوس کر لی اور وہ اپنے ساتھیوں کو چھوڑ میری طرف لپکے،، سلام کے بعد انہوں نے مصافحہ کیا اور بہت شستہ انگلش میں مجھ سے پوچھا کہ میں کہاں سے ھوں اور کیا میں مسلمان ھوں،،؟ بعد میں پتہ چلا کہ وہ ڈاکٹر تھے،میرے جواب کے بعد ڈاکٹر صاحب نے، مجھ سے پوچھا کہ آپ کا سامان کدھر ھے؟ میں نے بتایا کہ اس بھائی کو پتہ ھے کسی درگاہ پر ھے،، اب باقی جماعت بھی اپنا سامان لئے ھمارے اردگرد کھڑی ھوگئے!
میرے گائڈ کو ھاتھ پاؤں پڑے ھوئے تھے،،وہ بار بار واپس چلنے کے لئے اصرار کر رھے تھے،،مگر اب واپسی پر ڈاکٹر صاحب بھی ھمارے ساتھ تھے جو میرا سامان لے کر مجھے ساتھ لے جانے آئے تھے کیونکہ میں نے ان کے ساتھ جانے پر رضامندی کا اظہار کر دیا تھا! وھاں سے سامان کس مشکل سے چھوٹا یہ الگ داستان ھے، مگر وھی مکالمے کے دوران مجھے پتہ چلا کہ ایک دوسرے کی نظر میں یہ دونوں مسلمان نہیں، ڈاکٹر صاحب کے نزدیک میں اب تک مشرکوں کے چنگل میں تھا اور سجادہ نشین مجھے بتا رھے تھے کہ تو اب مرتد ھو گیا ھے اور اسلام سے خارج ھو کر جا رھا تھا، مگر مجھے سمجھ یہ نہیں لگی تھی کہ جب میں اسلام میں اپنی مرضی سے داخل ھوا ھوں تو میری اپنی مرضی اور نیت کے بغیر کوئی مجھے اسلام سے نکال کیسے سکتا ھے،جو مرضی سے آیا ھے مرضی سے جائے گا،اعلان کے ساتھ داخل ھوا ھے اعلان کے ساتھ خارج ھو گا، خیر سوالات کی چکی جو قرآن پڑھ کر بند ھوئی تھی،مسلمانوں میں آ کر بہت تیزی سے چل پڑی تھی! مجھے نقد جماعت کے ساتھ فوراً رائے ونڈ روانہ کر دیا گیا،، جہاں میں نے دو ماہ کے لگ بھگ تو رائے ونڈ میں گزارے جو مختلف ممالک سے آنے والی جماعتوں سے خصوصی ملاقاتوں اور باھم تبادلہ خیالات میں گزرے جبکہ چالیس دن ایک جماعت کے ساتھ لگائے، یہاں کا ماحول بہت اچھا تھا،،لوگ بہت ھی خلوص اور محبت سے پیش آتے تھے اور ھر وقت اللہ اللہ کے چرچے چلتے تھے،، ھر جمعرات کو مرکز کے باھر کتابوں کے اسٹال لگتے تھے جن پر خریداروں کا بہت رش رھتا تھا،
پھر سالانہ اجتماع شروع ھو گیا اسٹالوں کی تعداد بھی بڑھ گئی اور خریداروں کا رش بھی بہت زیادہ ھو گیا،میں عصر کی نماز کے لئے وضو کر کے آ رھا تھا کہ میری نظر ایک اسٹال پر کھڑے ایک نوجوان پر پڑی جو اپنی ھیئت اور کیفیت دونوں میں الگ تھلگ نظر آ رھا تھا،، مجھے دیکھتے ھی اس نے سلام دعا کے بعد پہلا سوال یہ کیا کہ کیا میں نو مسلم ھوں،میں نے مسکرا کر اثبات میں جواب دیا اور ایک کتاب جو انگلش میں تھی اٹھا لی، کتاب کا ٹائٹل تھا ’’ٹووارڈز انڈر اسٹینڈنگ اسلام ’’جونہی میں نے کتاب پر قیمت دیکھی اور اسے پیسے دینے کے لئے بٹوہ کھولا،، جھٹ پٹ کہیں سے ڈنڈا بردار جوان نمودار ھوئے اور اس جوان کو اسٹال ھٹانے کا حکم دیا،، اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر جوانوں نے اس کا اسٹال الٹ دینے کی دھمکی دی، جس پر اس نے بیچارگی سے اپنا اسٹال سمیٹنا شروع کر دیا،، میں نے اسے پیسے دینے کی کوشش کی مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ میں اسے اس کی طرف سے گفٹ سمجھوں اور کتاب کی قیمت اپنی جیب سے نکال کر اس نے پیسوں والے لفافے میں ڈال دی،،میں زندگی بھر اس جوان کو نہیں بھول سکا،
جو شاید میری طرح اب بوڑھا ھو چکا ھو گا یا اللہ کو پیارا ھو چکا ھو گا،، مگر میں نے ھمیشہ اسے اپنی دعاؤں میں یاد رکھا ھے،، اسے اللہ نے میرے لئے ھی بھیجا تھا اور جب کام ھو گیا تو ھٹانے والے بھی پہنچ گئے،
میں نے ڈنڈا بردار محافظوں سے پوچھا کہ آپ نے اسے کیوں بھگا دیا؟ کہنے لگے یہ ھمارا ایریا ھے اور یہاں کوئی اسٹال ھماری مرضی کے بغیر نہیں لگایا جا سکتا،اس کے لئے انتظامیہ کی اجازت ضروری ھے،نیز یہ گمراہ لوگ ھوتے ھیں جن کا نشانہ آپ جیسے لوگ ھوتے ھیں جن کو اسلام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ھوتا،ورنہ یہاں اجتماع والے کبھی ایسے اسٹال کو گھاس نہیں ڈالتے،،اب اس کتاب کا مطالعہ ایک مسئلہ بن گیا میں نے اندازہ کیا کہ ان حضرات کا جاسوسی کا نظام بہت تیز ھے،آپ کی ھر حرکت پر نظر رکھی جاتی ھے،کبھی اکرام اور کبھی راھنما کے نام پر ایک بندہ ھمیشہ آپ کے ساتھ لگا رھتا ھے،، انہیں اطلاع مل گئی تھی کہ میں نے کونسی کتاب خریدی ھے،اب پہلے تو مجھے صاحب کتاب کے بارے میں بتایا گیا کہ اسلام کے بارے میں اس کے خیالات کس قسم کے تھے اور وہ کوئی عالم بھی نہیں وغیرہ وغیرہ،نیز یہ بھی جتایا گیا کہ یہ وقت میں نے امانت کے طور پر اللہ کو دیا ھوا ھے اس لئے صرف وھی کتابیں پڑھی جا سکتی ھیں جو بزرگ تجویز کریں، یعنی فضائل اعمال،فضائل صدقات حیات الصحابہ اور ریاض الصالحین،،مجھے کتاب خطرے میں نظر آئی اس کی حفاظت اب میرے لئے مسئلہ بن گئی تھی،پڑھنا تو دور کی بات،مگر اس کے دیباچے نے ھی مجھے بتا دیا تھا کہ میرے سوالوں کا جواب شاید اسی کتاب میں ملے گا!
میں نے ایک بات تمام مذاھب میں دیکھی ھے کہ یہاں لوگ،اللہ یا بھگوان یا یسوع مسیح کی عبادت اس لئے کرتے ھیں کہ ان کے اللہ کے پاس جنت ھے،سورگ ھے،پیراڈائیز ھے،، جہنم ھے، نرکھ ھے،ھیل ھے،، حوریں ھیں،اپسرائیں ھیں، گویا یہ سارے اللہ کے نہیں بلکہ اللہ کی مٹھی میں موجود جنت کے متلاشی ھیں،،حوروں کا ذکر کرتے ھوئے جو جتنا بوڑھا ھوتا ھے وہ اتنی زیادہ تفصیل سے حوروں سے ملاقات کی کیفیات بیان کرتا ھے،بعض دفعہ مجھے تصور میں ان کے چہروں پر رال ٹپکتی محسوس ھوتی ھے، میں نے گورودارے میں چرچ میں سینگاگ میں اور پھر یہاں میں نے جس طرح یہ تذکرے سنے مجھے مذھب سے گھن آنے لگی،، سارے عیاشی اور سیکس کے دیوانے،، اللہ کو کون پہچانتا ھے،،آج اللہ کے ھاتھ سے جنت نکل جائے تو ان میں سے کوئی پلٹ کر اسے نہ پوچھے کہ وہ کون ھے!(معاذاللہ صد بار معاذ اللہ) میرے اندر ایک ملحد کروٹیں لینے لگا، وہ ملحد کسی دلیل کو اپنے آگے ٹھہرنے نہیں دیتا تھا،مذاھب میں نے سارے دیکھ لیئے تھے،،سب دنیا اور آخرت دونوں جگہ روٹی کے چکر میں تھے،، میرے اندر ایک آگ بھڑک اٹھی،،میرے اللہ تیری تلاش کسی کو نہیں؟ سب کی نظریں ترے ھاتھ کی جنت کی طرف ھیں، تیرے چہرہ اقدس کا خیال کسی کو نہیں،،مجھے اپنا اندر اور خدا دونوں افسردہ افسردہ سے لگے،،جیسے جس چیز کو میں روتا ھوں خدا کو بھی اسی کا شکوہ ھے!
میں جب پاکستان آیا تھا تو اسلام اور اللہ کے بارے میں قرآن کے حوالے سے ایک واضح تصور لے کر آیا تھا،، اللہ پاک نے انسان کو محبت سے بنایا ھے اور محبت کی خاطر بنایا ھے، وہ انسان سے ٹوٹ کر محبت کرتا ھے اور ٹوٹ کر محبت چاھتا ھے، اور جو لوگ اللہ ایمان لائے وہ اللہ کی محبت میں زیادہ شدید ہیں۔(سورہ البقرہ۔ آیت۔165)،، وہ چاھتا ھے کہ نماز کو محبوب سے ملاقات کے پس منظر میں دیکھا جائے اور اسی شوق و ذوق سے بن سنور کر آیا جائے اور رب سے مکالمہ کر کے جانے کے بعد نہ صرف انسان کی ھستی کے اندر باھر اور قول و فعل میں اس ملاقات کی چاشنی پورا محلہ محسوس کرے بلکہ،سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود کے تحت ان کے چہروں پہ نظر پڑے تو سجدوں کا نور و سرور دیکھنے والے کو اپنی جھلک دکھائے،،گھر جا کر بھی دل مسجد میں اٹکا رھے اور پروگرام بن رھا ھو کہ اگلی ملاقات میں کیاکیا بات کرنی ھے،،کیسے راضی کرنا ھے،، کیسے معافی مانگناکرراضی کرناھے،، کیا یہی وہ لوگ نہیں جن کو عرش کے سائے تلے جگہ دی جائے گی؟ اللہ نے انسان کو اس کی دنیا کی زندگی میں ھر سہولت فراھم کی ھے،اگر انسان کے اندر،اس کی فطرت میں کوئی پیاس رکھی ھے تو دنیا مین اسے بجھانے کا سامان بھی رکھا ھے،،وھی اللہ جب اپنی رضا کے لئے کچھ قربان کرنے کو کہتا ھے ، یا اپنی محبت میں کچھ چھوڑنے کو کہتا ھے تو ساتھ گارنٹی دیتا ھے کہ جس اللہ نے تمہاری دنیا کی ضرورتوں کی کفالت کی ھے،،وھی اخرت میں بھی تمہیں سامان زیست فراھم کرے گا،،بیویاں بھی دے گا گھر بھی دے گا،دنیا مین دنیا کی زندگی کی نسبت سے اور آخرت میں آخرت کی زندگی کی نسبت سے عطا فرمائے گا،، فانی اس کی خاطر چھوڑو گے تو ابدی و باقی عطا کرے گا،
اس پس منظر میں جب حوروں کا ذکر آتا ھے تو وہ ایک فطری بات لگتی ھے،،مگر جب ساری نیکی حوروں اور کھانوں اور سامان عیاشی کے گرد گھومتی ھو تو پھر اللہ کہیں دور پس منظر میں چلا جاتا ھے، بلکہ اللہ کا امیج مسخ ھو جاتا ھے کہ، شیطان بھی عورت کے ذریعے اپنی طرف مائل کرتا ھے اور اللہ بھی انسان کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے مرد کی سیکس کی بھوک کو استعمال کرتا ھے،تو رب قدیر کا مقام و مرتبت کہاں(معاذ اللہ )،پھر موبائل کمپنیوں کے پروموشن اشتہاروں اور جنت کے ان مناظر میں فرق کیا رہ جاتا ھے،،؟ قرآن حکیم نے جہاں بھی اور وہ بھی گنتی کے چند مواقع پر استعمال کیا ھے وھاں دو مقاصد کے لئے استعمال کیا ھے،، یہ ثابت کرنے کے لئے کہ آخرت کی زندگی میں انسان کا وجود فزیکلی موجود ھو گا،،تبھی وہ صوفوں پر بیٹھے گا اور ٹیک لگائے گا’’متکئین علی فرش بطائناھا من استبرق’’چونکہ روح ٹیک نہیں لگا سکتی،،روح فروٹ نہیں کھا سکتی،،شہد اور دودھ نہیں پی سکتی اور سیکس نہیں کر سکتی،،لہذا ایک تو وجود کی دلیل میں ان چیزوں کو پیش کیا ھے،نہ کہ اپنی طرف مائل کرنے کے لئے،، دوسرا وھاں کسی نہ کسی قربانی کا ذکر ھے،،کچھ کھونے کا حوالہ ھے،، یطعمون الطعام علی حبہ مسکینا و یتیما و اسیرا،، و آتی المال علی حبہ ذوی القربی،،،مگر جس بے دردی سے اور بے موقع حوروں کی تفصیلات بیان کرتے میں نے سنا ھے،،اس سے تو پھر عورت پیش کر کے کام کرانے کا تصور ھی ابھرتا ھے،،اور یہی وہ تصور ھے جس سے میں یہودی سے عیسائی پھر سکھ اور پھر اسلام میں آیا تھا،،مگر پاکستان نے میرے سارے کانسپٹ دھندلا کر رکھ دیئے!
اور مجھے الحاد کی منزل پر لا کھڑا کیا،، مگر ٹووارڈز انڈر اسٹینڈنگ اسلام نے مجھے عین وقت پر اس مخمصے سے نکالا اور یوں اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا کہ جو ھماری راہ چل نکلتا ھے ھم اسے اپنی راہ سجھا دیتے ھیں،،وہ اسٹال والا لڑکا میرے لئے ایک فرشتہ ھی ثابت ھوا جسے خاص اسی کام کے لئے بھیجا گیا تھا اور ٹھیک جب وہ کام ھو گیا تو اس بیچارے کا اسٹال بھی اٹھوا دیا گیا،، میں نے جب بعد میں برطانیہ جا کر اپنا مذھب اور نام سرکاری طور پر تبدیل کیا کیونکہ حج پر جانے کے لئے یہودی نام اور مذھب کی وجہ سے مجھے حج کا ویزہ نہیں ملا تھا،،تو میں نے اپنا نام اسی لڑکے ناصر محمود کے نام پر رکھا! میرا ارادہ تھا کہ میں براستہ ایران، عراق اور اردن،یروشلم سے ھوتا ھوا جاؤں اور اپنے عزیز و اقرب سے بھی ملتا جاؤں،، میں جب ٹرین پر زاھدان جا رھا تھا تو میرے ساتھ ایک ایرانی نوجوان بھی اسی بوگی میں تھا،، جو کہ ملحد ھو چکا تھا، وہ برطانیہ کا پڑھا ھوا ایک ذھین، بہت نفیس اور سادہ سا نوجوان تھا،، باتوں باتوں میں جب اسے پتہ چلا کہ میں مسلمان ھو چکا ھوں تو کہنے لگا کہ میں نے اسلام چھوڑ دیا ھے اور تم اسلام میں آ گئے ھو،، پھر مزاح کے انداز میں کہنے لگا ”گویا اللہ کا سپاھی اور اللہ کا باغی ایک ھی بوگی میں اکٹھے ھو گئے ھیں،،
میں نے اس سے الحاد کی وجہ پوچھی تو اس نے جو تفصیلات بتائیں ان سے میں سکتے میں آ گیا،،کیا کوئی عقلمند انسان اس صدی میں بھی ایسے عقائد رکھ سکتا ھے،،پہلی بات کہ یہ قرآن اصلی قرآن نہیں ھے بلکہ حقیقی قرآن کا صرف فٹ نوٹ ھے،، وہ حقیقی قرآن ایک امام کے پاس ھے جو اسے لئے غار مین چھپا بیٹھے ھے،،دنیا ھدایت کے بغیر مر رھی ھے،،اتمام حجت کا رب کا وعدہ کہاں گیا؟
،، وہ یزدانی جوان کہنے لگا،بس یہ سب کچھ دیکھ کر اور ھمارے علامہ حضرات کے روئیے دیکھ کر میں نے دین سے جان چھڑا لی ھے،،دین اس لیئے ھوتا ھے کہ انسان سکون اور اطمینان حاصل کرے مگر جب دین الٹا رات کی نیندیں اڑا دے،،کسی سوچ کا جواب نہ دے صرف سوال پیدا کرتا چلا جائے تو بہتر ھے خواہ مخواہ روز کی خواری اور آہ و زاری سے ایک دفعہ رو کر جان چھڑا لی جائے،، پھر اس نے مجھے پوچھا کہ تمہیں اسلام کے عشق میں کس چیز نے مبتلا کر دیا ھے؟ میں نے کتاب اس کے حوالے کر دی،،وہ سارے رستے اس کتاب کو رہ رہ کر پڑھتا رھا،،کبھی کبھار سوال و جواب ھوتے اور بحث بھی ھوتی مگر الحمد للہ وہ جوان زاھدان پہنچنے تک دوبارہ مسلمان ھو چکا تھا اور جہاں کہیں ھمیں موقع ملتا ھم نماز اکٹھی پڑھتے،،میں اسے امامت کے لئے آگے کرتا اور لوگ بھی کھڑے ھو جاتے،، اب نماز میں پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا معاملہ ھوتا کہ جب وہ تلاوت کرتا تو اس کی گھگھی بندھ جاتی جیسے سامنے رب کھڑا ھے،اس کے رونے میں میرے سمیت کئی لوگوں کی سسکیاں بھی نکل جاتیں،،ڈبے والوں نے اسے پکا پیر بنا لیا اس کے ھاتھ چومتے اور کھانے پینے کی چیزیں لا لا کر ڈبے میں ڈھیر کرتے جاتے،،میرا ڈبہ ایک دفعہ پھر منگھو پیر کی درگاہ بن چکا تھا! واہ رے مسلمان۔۔۔۔۔۔
حقیقت میں یہ کتاب انسان کو اللہ سے ملا دیتی ھے،،میں پیدائشی مسلمانوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ اس کتاب کے انگلش ایڈیشن کو ضرور پڑھیں،،لکھنے والے نے کمال کر دیا ھے،، خود کو بالکل ایک غیر جانبدار شخص بنا کر دلائل سے اسلام کے تقاضوں کو ثابت کیا گیا ھے،،کسی بھی غیر مسلم یا نو مسلم کے لئے اس کتاب سے بڑھ کر بہترین اور کوئی چیز تحفہ نہیں ھو سکتی،، یزدانی نے مجھے ڈاکٹر علی شریعتی کے 7 مقالوں پر مبنی کتاب ’’مین اینڈ اسلام دی،، اس کتاب نے انسانی تخلیق کے ربانی پروگرام،،انسان کی اھمیت اور رب کے ساتھ اس کے تعلق کو اس طرح واضح کیا ھے کہ میں کئی دفعہ آبدیدہ ھو گیا،،یہ دو کتابیں پڑھنے کی ھیں،، ایران سے رخصتی کے وقت یزدانی نے مجھے یہ کتاب گفٹ کر دی،،مگر میں اسے اپنی کتاب گفٹ کرنے کا حوصلہ نہ کر سکا،، شاید اس کتاب نے ابھی میرے والدین کو مسلمان کرنا تھا ، ایران میں یزدانی کے توسط سے مجھے تین ملاقاتیں نصیب ھوئیں،،پہلی طہران میں ایک یہودی ربی کے ساتھ،جس میں ربی کو آگاہ کیئے بغیر کہ میں مسلمان ھو چکا ھوں،یہودی عقائد پر کافی تفصیلی اور لمبی چوڑی گفتگو ھوئی،، یہودیت کا دفاع آج کے دور میں کیسے کیا جائے،اس لئے کہ یہودیت نسلی مذھب ھے نظریاتی نہیں،،یعنی کوئی شخص یہودی نہیں ھو سکتاجب تک کہ یہودی پیدا نہ ھو،اس لئے اس کی تبلیغ کی بھی کوئی ضرورت نہیں،جب کوئی چیز سیل پر ھی نہ لگے تو اس کی کوالٹی کی فکر بھی کسی کو نہیں ھوتی!
یہی یہودیت کا مسئلہ ھے کہ وہ سکڑتی جا رھی ھے،، معاشی حالت نے اسے اولاد کو محدود رکھنے پر مجبور کر دیا ھے،، نتیجہ یہ ھے کہ یہودیت کرپٹ بھی ھو گئی ھے،کرخت بھی ھو گئی ھے اور محدود بھی،، یہودی کسی مذھب میں بھی چلا جائے اس کے جینز تبدیل نہیں ھوتے،،اس کا مطلب ھے مذھب بھی تبدیل نہیں ھوتا،کیونکہ یہ ایک جینٹیکل مذھب ھے،، نظریات بدلنے سے آپ کے جسم میں موجود ابرھیم علیہ السلام کے جینز تبدیل نہیں ھوتے،،وہ جینز جن کو اللہ نے دنیا کی آگ سے بچایا ان کو آخرت کی آگ میں کیسے جلائے گا؟ جن کو دشمنوں کی آگ سے بچایا ان کو اپنی آگ میں کیسے جلائے گا،، یہ یہودی نفسیات ھے،جس کا بھانڈا اللہ پاک نے قرآن حکیم میں جگہ جگہ پھوڑا ھے،اور اس پر سوال کھڑے کیئے ھیں،، سورہ المائدہ اور البقرہ اس میں پیش پیش ھیں،، ایک ھمدردانہ ڈسکشن کے بعد اب میرے سوالات ذرا تیکھے ھونا شروع ھوئے اور میں نے اپنے اشکالات پیش کرنا شروع کیئے،، میں نے محسوس کیا کہ یہودی عالم ھی نہیں بلکہ ھر مذھب کی مذھبی قیادت ایک جیسی ھی سوچ کی حامل ھوتی ھے،، آپ کے سوال کا ایک ھی جیسا رٹا رٹایا جواب دیا جائے گا،جواب دینے میں کبھی آپ کے کیلیبر اور آئی کیو کو مدنظر نہیں رکھا جائیگا، میں نے قرآن کی طرف سے دیا گیا جواب،ما کان ابرھیم یہودیاً ولا نصرانیاً ولٰکن کان حنیفاً مسلماً ’’ان چیف ربی صاحب کے سامنے رکھا،، اور یہ کہ آگ ھمیں نہیں چھوئے گی،عذاب آخرت ھمیں نہیں ھو گا،پر قرآنی جواب،، قل فلما یعذبکم بذنوبکم؟ پھر وہ دنیا میں تمہیں بار بار عذاب عظیم میں مبتلا کیوں کرتا رھا؟ لوگوں کا عذاب آخرت پر مؤخر کر دیتا ھے۔تمہیں نقد کیوں دیتا رھا،، کہنے لگے ھمیں دنیا میں دے دیتا ھے اس لئے آخرت میں نہیں دے گا،، میں نے کہا مگر اللہ تو کہہ رھا ھے کہ ولھم فی الآخرۃ عذابٓ عظیم،،،
اس پر انہیں شک ھونا شروع ھوا کہ شاید میں مسلمان ھو چکا ھوں،، کیونکہ عام یہودی نہ قرآن پڑھتا ھے نہ ان باتوں کا اسے علم ھوتا ھے اور نہ قرآن کی بات کو سچ سمجھتا ھے،،انہوں نے سوال کیا کہ کیا آپ مسلم ھو چکے ھیں،میں نے اعتراف کیا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ھے،کہنے لگے یہ خیانت ھے کہ آپ نے یہودی بن کر اپنا تعارف کروایا،،میں نے کہا جناب آپ نے خود تسلیم کیا کہ یہودی کے جینز تبدیل نہیں ھوتے چاھے کسی مذھب میں چلا جائے،میں نے اپنا جیٹیکل تعارف کروایا تھا،، نظریاتی نہیں،، اگلی ملاقات قم کے منتظری صاحب سے ھوئی جن سے میں نے ان شیعہ عقائد پر بات کی جن کے بارے میں مجھے یزدانی نے بتایا تھا ۔۔
منتظری صاحب سے وقت لینا بھی ایک مسئلہ تھا،وہ ان دنوں حکومت کے زیرِ عتاب تھے،،کبھی ھاؤس اریسٹ تو کبھی جیل،،خمینی صاحب سے ان کی کھٹ بھٹ چل رھی تھی،،آدھا ایران خمینی صاحب کے پیچھے تھا تو آدھا منتظری صاحب کے ساتھ،، آیت اللہ منتظری وہ شخصیت تھے جنہوں نے خمینی صاحب کی عدم موجودگی میں تحریک کو سنبھالا تھا اور شاہ ایران کی ھر دھونس اور دھاندلی کا مقابلہ کیا تھا،، آیت اللہ خمینی پکی پکائی پر تشریف لائے تھے اور اب آیت اللہ المنتظری صاحب کا آیت اللہ کا ٹائٹل بھی ختم کرنا چاھتے تھے تا کہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے،، جن لوگوں نے خمینی صاحب کو پردیس میں سنبھالا تھا،، فنڈز کا بندوبست کیا تھا نیز آیت اللہ کا ایک سافٹ امیج دنیا کو دکھایا تھا،، امام خمینی صاحب نے سب سے پہلے ان ھی کا صفایا کر کے اس ضرب المثل کو سچ کر دکھایا کہ انقلاب سب سے پہلے اپنے بچے کھاتا ھے،، صادق قطب زادے،بنی صدر وغیرہ کا گھونٹ بھرنے کے بعد آج کل سختی المنتظری صاحب کی آئی ھوئی تھی مگر المنتظری بھی آیت اللہ تھے،اور لوگوں کے محبوب،، مقابلہ برابر کا تھا مگر پاسداران خمینی صاحب کے ساتھ تھے کیونکہ ان کی حیثیت امام کے ذاتی گارڈز کی تھی!
آدھا گھنٹہ وقت ملا اور شرط یہ کہ سوال پہلے لکھ کر دیں،، یزدانی کے ساتھ مشورے کے بعد ٹوٹل تین سوال لکھے گئے مگر اس وضاحت کے ساتھ کہ ان تین سوالوں پر مزید سوال جواب ھو سکیں گے،، اسلام کی دعوت جو ایک یہودی کو پیش کی جائے گی(اصل میں ملاقات کا وقت ھی اس بات پر دیا گیا تھا کہ ایک یہودی خاندان کا جوان آپ کے دست مبارک پر اسلام قبول کرنا چاھتا ھے،مگر کچھ وضاحتیں درکار ھیں) اسلام مین اختلافات کی حد اور عبادات کا فرق،، اجازت کے بعد داخلہ ھوا،، میری فائل جس میں میرے پاسپورٹ کی کاپی اور تفصیل درج تھی ان کو ایک دن پہلے پہنچا دی گئی تھی جو کہ ان کے سامنے موجود تھی،، نشست کا اھتمام نیچے قالین پر تھا اور بہت بارعب اور با ادب ماحول تھا،، سلام دعا ھوئی یزدانی میرا ترجمان تھا،وہ برطانوی لہجے میں انگلش بولتا تھا اور ایرانی لہجے میں فارسی،،میں آج تک فیصلہ نہیں کر پایا کہ یزدانی کی انگلش دلکش ھے یا فارسی،، فارسی اتنی میٹھی زبان ھے کہ نہ سمجھ آنے کے باوجود بھی یزدانی کے چہرے سے نظریں نہیں ھٹتیں،، آپ اسلام کی دعوت کیسے پیش کریں گے،یعنی مجھے مسلمان بنانے کے لئے کیا شرط پیش کریں گے؟ اللہ کی توحید کی شہادت محمد ﷺ کی رسالت کی گواھی،علی کی ولایت کی گواھی اور ان کے خلیفہ بلا فصل ھونے کا اقرار،، سوال- کیا محمدﷺ خود بھی ان ھی شرائط پر مسلمان کرتے تھے؟
جی نہیں!
وہ کس پیکیج پر اسلام قبول فرماتے تھے؟
اللہ کی توحید اور محمدﷺ کی رسالت،،فرشتوں اور کتابوں پر ایمان، یوم آخرت پر ایمان، مرنے کے بعد دوبارہ زندگی پر ایمان!
پھر آپ نے یہ اضافی شرائط میرے ایمان کے لئے کیوں لگائی ھیں کیا اُتنا ھی کافی نہیں تھا جتنا نبیﷺ نے بتایا تھا؟
یہاں اس ملک کے عرف کے مطابق یہ شرائط ھیں اگر آپ کو منظور نہیں تو آپ جا سکتے ھیں!
آپ کے امام خمینی صاحب کے ساتھ اختلافات ھیں،، زیرِ حراست بھی رھتے ھیں،، گھر پر بھی نظربند کیا جاتا ھے اور نقل و حرکت تقریر و تحریر پر بھی پابندی ھے، یہانتک کہ جمعے کا خطبہ بھی نہیں دے سکتے،، ان سب اختلافات اور تنگیوں تکلیفوں کے باوجود آپ کے اور امام صاحب کے عقیدے میں کوئی فرق پڑا؟
جی نہیں!
عبادت کے طریقے مختلف ھوئے؟
بالکل نہیں! یہ سیاسی اختلافات ھیں ان کا دین کے ساتھ کیا تعلق؟
اچھا جناب جب آپ کے سیاسی اختلافات آپکے عقیدے اور طریقہ عبادت پر اثر انداز نہیں ھوئے اور آپ دونوں اماموں کی اس سرپھٹول کے باوجود آپ دونوں کی امامت پر کوئی اثر نہیں پڑا تو صحابہ میں سیاسی اختلاف کی وجہ سے ان کی صحابیت میں کیوں کر فرق پڑ جاتا ھے اور صحابہ کرام کے سیاسی اختلافات کے اثرات ان کے عقیدے پر کیسے مرتب ھو گئے اور ان کے طریقِ عبادت میں اختلاف کیوں کر پیدا ھو سکتا ھے؟،،کیا ان میں آپ جتنا صبر اور شعور بھی نہیں تھا، ان کے سیاسی اور خاندانی جھگڑوں کی بنیاد پر دین کی تقسیم کیوں کی گئی؟ جیسا ابھی آپ نے مجھے کہا کہ مسلمان ھونے کے لئے علیؓ کی خلافت بلافصل کا اقرار کروں درآںحالیکہ وہ بلافصل قائم ھی نہیں ھوئی چوتھے مقام پر جا کر قائم ھوئی، گویا میں اپنے اسلام کی ابتدا ھی جھوٹ سے کروں!
جب حضرت امام حسین ؓ کا محاصرہ جاری تھا کربلا میں تو یزید کا لشکر حر سمیت سارے کا سارا امام حسینؓ کی امامت میں نمازیں پڑھتا رھا؟
جی بالکل سات دن وہ لوگ امام معصوم کی اقتدا میں نماز پڑھتے رھے! کیا آپ یہ تسلیم نہیں کر رھے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود ان لوگوں کی نماز کا طریقہ اور اوقات ایک ھی تھے اور ان میں دین کا کوئی جھگڑا نہیں تھا؟
یہاں انہوں نے پہلے اپنے سیکرٹری سے کچھ کہا جس نے میری فائل کھول کر ان کے سامنے کی جس کو انہوں نے دوبارہ غور سے دیکھا،پھر یزدانی سے فارسی میں کہا کہ کیا یہ پہلے مسلمان ھو چکا ھے؟ یزدانی نے کہا کہ ”مجھے اس نے اسلام قبول کرنے کو کہا تھا’’مگر اس نے اسلام کو اچھی طرح پڑھا ھوا ھے،،
کیا آپ اس قرآن کو حقیقی اور اصلی قرآن مانتے ھیں؟
بالکل ھم اس کو اللہ کا کلام مانتے ھیں اور نماز میں اس کی تلاوت کرتے ھیں،،مگر یہ پورا نہیں ھے،، اس کا کچھ حصہ گُمشدہ ھے،،
وہ حصہ کہاں ھے؟
ھمارے بارھویں امام کے پاس ھے جو غائب ھیں اور ھم منتظر! اس دوران جو لوگ دنیا میں پیدا ھو کر کافر مر رھے ھیں ان کا ذمہ دار کیا وہ امام نہیں جو قرآن لے کر ھی نہیں آ رھا تا کہ اتمام حجت ھو؟
اتمام حجت موجودہ قرآن کے ساتھ بھی ھو جاتا ھے کیونکہ عقائد تمام اس میں بیان ھو گئے ھیں،کچھ سیاسی و انتظامی معاملات کے بارے میں حصہ کم ھے،جو سیاسی غلبے کے بعد ھی امام نکلیں گے تو لاگو ھو گا!
تو کیا آپ میرا اسلام اللہ کی توحید اور نبیﷺ کی رسالت کی شہادت پر قبول نہیں کریں گے؟ جو سرٹیفیکیٹ ھم آپ کو دیں گے یہ پوری عبارت اس میں درج ھے اور اس کی عبارت میں کوئی تبدیلی کرنے کا میں مجاز نہیں ھوں،یہ مجلس خبرگان کا کام ھے، اگر آپ پوری عبارت سے اتفاق نہیں کرتے تو پھر ھم آپ سے معذرت خواہ ھیں،، اس کے ساتھ ھی مجلس برخواست ھوئی اور منتظری صاحب گھر کے اندر اور ھم ان کے دفتر سے باھر نکل آئے،، میرے انگلینڈ آنے کے بعد یزدانی بے چارے کو اتنا تنگ کیا گیا کہ اسے لندن میں سیاسی پناہ لینی پڑی!
منتظری صاحب سے ملاقات کے بعد اگلے دن طھران میں ایک صوفی صاحب کے یہاں حاضری ھوئی،، بہت سارے لوگ موجود تھے کچھ تو اپنے جسمانی عوارض اور کچھ معاشی مشکلات کچھ جن جنات اور جادو والے لوگ تھے، البتہ ایک انتظام میں نے پہلی دفعہ دیکھا جو کہ پیر منگھو کے یہاں نہیں دیکھا تھا کہ خواتین کا الگ پورشن تھا،درمیان میں پردہ تھا خواتین پردے کے پیچھے سے سوال کرتیں اور یہ بزرگ نہایت دھیمی آواز مین ان سے کچھ کہتے یا ھدایات دیتے تھے،، اس کے بعد ھاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے،، تعویز دیتے میں نے کسی کو نہیں دیکھا، مردوں سے انہوں نے نماز کی پابندی کا کہا،تقریباً ھر ادمی کو کہتے کہ نماز کی پابندی کرو اور فلاں نماز کے بعد یہ پڑھو اور فلاں کے بعد یہ،،عشاء کے بعد سونے سے پہلے 100 دفعہ استغفار پڑھ کر سوؤ،، آخر میں انہوں نے کہا کہ مسائل سے متعلق کوئی سوال ھیں تو کر سکتے ھیں! لوگ مسائل پوچھتے رھے اور وہ جواب دیتے رھے،،،ھمت کر کے میں بھی اٹھا اور سوال کیا کہ ’’جہنم کیا ھے اور جنت کیا ھے؟؟ یزدانی نے جھٹ سے ترجمہ کر دیا،مگر بزرگ نہ تو میری انگلش پر چونکے اور نہ ھی انہوں نے میری بات سنی نہ ترجمے پہ کوئی غور فرمایا،بلکہ یوں لگا گویا میرا اور یزدانی کا وجود اس مجلس میں تھا ھی نہیں،،
بلکہ انہوں نے پھر مجمعے سے ھی سوال کیا کہ ’’اور کچھ ”،، میں نے پھر اپنا سوال دھرایا،،انہوں نے نہ میری طرف دیکھا اور نہ یزدانی کے ترجمے کا کوئی نوٹس لیا اور پھر مجمعے ھی سے مخاطب ھو کر فرمایا کہ تو آپ کو اور کوئی سوال نہیں کرنا، اب میں تقریباً عصبی ھو چکا تھا،، میں نے غصے سے کہا کہ میری بات کا جواب دیں! اب انہوں نے مجھے نگاہ اٹھا کر دیکھا اور کہا کہ اپنا سوال دھراؤ! میں نے کہا کہ جہنم کیا ھے اور جنت کیا ھے،،؟؟ انہوں نے انتہائی مختصر مگر جامع جواب دیا! فرمایا’’جب میں نے تمہاری طرف توجہ نہیں دی تھی تو تم جس کیفیت سے گزر رھے تھے، وہ تیری جہنم تھی اور جب میں نے تیری طرف توجہ کی اور تو نے راحت محسوس کی یہ تیری جنت ہے،، یہ جہنم اور جنت تیری اور میری نسبت سے تھی،، رب جس سے اعراض برتے گا اور توجہ نہیں دے گا‘ ترجمہ۔’تو وہ جس عذاب سے گزریں گے وہ اللہ کی عظمت کی نسبت سے ھوگا،، اسی طرح جن کی طرف اللہ پاک توجہ فرمائے گا تو وہ راحت بھی اللہ کی عظمت کی نسبت سے ھو گی اور وہ ان کی جنت ھو گی،، اللہ کا پیار سے دیکھنا،خالی نہیں جائے گا، جو راحت محسوس ھو گی وہ مجسم بھی ھو جائے گی وہ تیری جنت ھو گی،،اور جن سے وہ اعراض برتے گا یا غضب کی نگاہ سے دیکھے گا وہ غضب مجسم بھی ھو گا اور وہ ھی اس کی جہنم ھو گی، جواب اتنا مدلل تھا کہ مانے بغیر چارہ نہ تھا اور چونکہ میں ابھی تجربے سے گزرا تھا،اس لئے اثر بھی کچھ زیادہ ھوا،، آپ کو بھی کبھی احساس ھوا ھو گا کہ محبوب کی ناراضگی کے بعد بستر راحت بھی کانٹوں کا بستر بن جاتا ھے! اور وسوسوں کے سانپ ڈستے رھتے ھیں کہ کس کس بات نے اسے بدظن کیا ھو گا،، کبھی ایک خیال آتا ھو گا تو ڈستا ھو گا اور کبھی دوسرا،،یہ سانپ بچھو ھم ادھر سے ھی لے کر جائیں گے،، اللہ کی رضا سب سے بڑا انعام ھے اور اللہ کا غصہ سب سے بڑا عذاب!
اگلے دن والد صاحب کا پیغام ملا فوراً واپس پلٹو ایمرجینسی ھے! جھٹ پٹ ٹکٹ لیا اور طھران سے دبئی اور پھر لندن کو واپسی ھوئی، سارے پروگرام دھرے کے دھرے رہ گئے،گھر میں داخل ھوتے ھی ماحول میں اداسی کا احساس ھوا، پتہ چلا والدہ صاحبہ کو جگر کا کینسر تشخیص ھوا ھے اور وہ بھی آخری اسٹیج پر، والدہ کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی، میں جس طرح چھوڑ کر گیا تھا وزن اس سے آدھا ھو چکا تھا،رہ رہ کے خیال آتا شاید میرا اس طرح گھر سے چلے جانا،اس داغِ جگر کا سبب نہ بنا ھو! میرا دل چاھتا تھا کہ والدہ مسلمان ھو جائیں اور اسلام ھمارے خاندان کو ٹیک اوور کر لے،مگر والدہ کی تمنا ایک روایتی ماں والی تھی یعنی مرنے سے پہلے بیٹے کا سہرا دیکھنے کی، لڑکی ھمارے خاندان سے ھی تھی اور مذھب کے معاملے میں کسی حد تک میری ھم خیال بھی تھی کیونکہ ھم دونوں کلاس فیلو بھی تھے،، مجھے امید تھی کہ وہ بھی مسلمان ھو جائے گی، رہ گئیں والدہ تو ان کے اسلام کی راہ میں میرے والد صاحب کا پہاڑ کھڑا تھا،وہ ایک روایتی گھریلو خاتون تھیں جنہوں نے اپنی ذات کو شوھر میں گم کر دیا تھا، میں نے جب ان سے اسلام کی بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں مرتے مرتے تیرے باپ کی نافرمانی نہیں کرنا چاھتی،
آخرکار میں نے اللہ کا نام لے کر اس پہاڑ کو خود سر کرنے اور والد صاحب سے بات کرنے کا فیصلہ کیا، والدین ھماری نفسیات کی رگ رگ سے واقف ھوتے ھیں بلکہ یوں کہنا چاھیئے کہ اللہ کے بعد ھماری ذات کے سب سے زیادہ واقف ھمارے والدین ھوتے ھیں،، ادھر ھمیں کوئی خیال آیا نہیں کہ ان کی چھٹی حس نے ان کو بتایا نہیں،، آپ کے دکھ درد اور بیچینی کو محسوس کرنے کے لئے انہیں آپ کے بتانے یا الفاط دینے کی ضرورت نہیں ھوتی وہ ھماری ذات کی مین برانچ ھوتے ھیں، ھماری ساری ٹرانزیکشن انہیں کے ذریعے ھوتی ھے، جونہی میں والد صاحب کے پاس جا کر بیٹھا، انہوں نے ایک گہری نظر مجھ پر ڈالی اور جان لیا کہ میں ان سے کوئی اھم بات کرنا چاھتا ھوں،وہ ایک منجھے ھوئے سفارتکار تھے اور انسانی کیمسٹری سے آگاہ! فرمانے لگے کیا کچھ سیکھا ھے؟ میں نے کہا وہ سب کچھ جس کے لئے آپ نے مجھے پاکستان تجویز کیا تھا! البتہ میں آپ سے کچھ عرض کرنا چاھتا ھوں،میں چاھتا ھوں کہ امی جان مرنے سے پہلے مسلمان ھو جائیں،مگر وہ آپکی رضامندی لیئے بغیر یہ کام نہیں کر پائیں گی، وہ مرتے مرتے آپ کی نافرمانی نہیں کرنا چاھتیں، اگر آپ اجازت نہیں دیں گے تو اپنے ساتھ دوسری جان کا بوجھ بھی آپ کو اٹھانا پڑے گا، میں نے زندگی آپ سے کبھی کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا،مگر اب میں آپ سے گزارش کرتا ھوں کہ آپ اسلام کو اسٹڈی کریں اور دو چار دن میں کوئی فیصلہ کر لیں،، اس سلسلے میں جو بھی وضاحت طلب باتیں ھوں وہ آپ مجھ سے پوچھ سکتے ھیں مگر مجھے امید ھے کہ یہ دو کتابیں پڑھ لینے کے بعد آپ کو اسلام کے بارے میں تو کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ھو گی،،
البتہ یہودیت کے بارے مین شاید کچھ ڈسکشن کرنا چاھئیں تو میں اس پر بھی بات کر لوں گا،، کتابیں میں نے ان کے حوالے کر دیں اور والد صاحب ان کتابوں کو لے کر اپنے کمرے میں مقید ھو گئے،،یہ ان کی پرانی عادت تھی جب بھی کوئی اھم فیصلہ کرنا ھوتا تھا تو وہ کھانے پینے کا بندوبست کر کے اپنے کو اپنے کمرے میں قید کر لیتے اور جب تک کوئی فیصلہ نہ کر لیتے کمرے سے نہ نکلتے،، دو دن گزر گئے ایک رات تو پوری رات ان کے کمرے کی لائٹ جلتی رھی گویا وہ مطالعہ کرتے رھے، اگلا دن گزرا وہ باھر نہیں آئے، ادھر والدہ شادی کی تفصیلات طے کرتی رھیں اگلے دن شام کے بعد والد صاحب باھر نکلے اور باغیچے میں آ کر اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھ گئے، وہ تھکے تھکے لگ رھے تھے،آنکھیں اور چہرہ متورم تھا،، میں نے نوکر کے ھاتھ انہیں کافی بھیجی جو انہوں نے لے لی! میں والدہ کے پاس بیٹھا ان کے پاؤں دبا رھا تھا جو یخ بستہ لگ رھے تھے کہ والد صاحب آکر میرے پیچھے کھڑے ھو گئے،، میں سمجھ رھا تھا وہ کس قیامت سے گزر رھے ھیں،اپنی اولاد سے کچھ پوچھنا یہ والدین توھین سمجھتے ھیں،میں کھڑا ھو گیا اور انہیں تھام کر والدہ کے سرھانے پڑی کرسی پر بٹھایا،میں چاھتا تھا جو کچھ وہ پوچھنا چاھتے ھیں وہ والدہ کے سامنے ھی پوچھیں تا کہ بیک وقت دونوں میرے دلائل کو سن سکیں،،
والد صاحب نے کہا ھمارے جینیٹکل مذھب کا کیا بنے گا؟ کیا ھم سب سے کٹ جائیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ ابا جان جہاں تک میں نے سوچا ھے اور نہ صرف راتوں کو جاگ کر سوچا ھے چلتے پھرتے اور سفر میں ھر جگہ سوچا ھے کہ اس جینٹیکل مذھب کے فلسفے کے پیچھے حقیقت کیا ھے؟ میں تو اس نتیجے تک پہنچا ھوں کہ یہ ھمارے علماء کا اپنی علمی کمزوری کو چھپانے کا بہترین حربہ ھے اور بس! اس کا تعلق دین سے نہیں نفسیاتی جنگ سے ھے، وہ نئے آنے والوں کو مطمئن نہیں کر سکتے اور جانے والوں کو دلیل سے روک نہیں سکتے لہذا انہوں نے یہ جینیاتی مذھب کا نظریہ گھڑ لیا ھے،وہ جانتے ھیں کہ جب انسان کسی چیز کو اپنی کہہ کر اپنا لیتا ھے تو پھر اسکی حفاظت اور عزت کی خاطر کٹ مرتا ھے یہ اس کی ایگو کا مسئلہ بن جاتا ھے،یہانتک کہ وہ اپنی گائے بھینس کی توھین کو بھی اپنی ذات پر حملہ تصور کرتا ھے اور بدلے میں قتل کر دیتا ھے،،ھمارے علماء جوان نسل کو چونکہ دلیل سے قائل نہیں کر سکتے لہذا انہوں نے اس کی راہ میں تعصب کی جینیاتی دیوار کھڑی کر دی ھے،،
ابا جان جب ابراھیم علیہ السلام نے اپنی بستی کے لوگوں پر اسلام پیش کیا تھا تو کیا وہ پوری بستی اور نمرود ان کا جینیاتی رشتہ دار تھا؟ جب یوسف علیہ السلام نے جیل میں قیدیوں پر اسلام پیش کیا تھا تو کیا وہ بنی اسرائیل کے جینیاتی رشتے دار تھے،پھر انہوں نے سارا مصر مسلمان کر لیا تو کیا مصری ان کے جینیاتی رشتے دار تھے؟
ابا جان جینز خاندان اور قوم بناتے ھیں،نظریات اور دین کا جینز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ھوتا،نہ اللہ کا انسانوں سے تعلق جینایتی رشتے داری کا ھے – آپ ایک ذھین و فطین آدمی ھیں، میں نے زندگی بھر آپ کو اپنا آئیڈیل بنا کر رکھا ھے،ھر جگہ ھر معاملے میں سوچا ھے کہ میرے ابا اگر ھوتے تو وہ کیسے ری ایکٹ کرتے، اور بالکل ویسا ری ایکٹ کیا ھے،میں آج بھی یہ سمجھتا ھوں کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ میرے آئیڈیل کو ڈیمیج نہیں کرے گا،، میں آج جس جگہ کھڑا ھوں یہ سب آپ کی تربیت کا نتیجہ ھے،حق کی پیروی اور سچ کو سچ کہنے اور پھر اس پر ڈٹ جانے کا سبق مین نے آپ سے سیکھا ھے اور آج اس سبق کا پریکٹیکل آپ میں دیکھنا چاھتا ھوں،،
میں جانتا تھا والد صاحب دل سے قائل ھو چکے ھیں،بس اعلان کی ضرورت ھے ادھر والدہ ان کو ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنی دیکھ رھی تھیں،، والد صاحب اٹھے میری کرسی کے پیچھے آئے تھوڑا سا جھجھکیے اور اپنے دونوں ھاتھ میرے کندھوں پر رکھ کر ھلکا سا تھپتھپایا اور بولے شام کو مسجد چلیں گے اور باھر نکل گئے،،، یہ بھی اچھا ھوا مرد مرد کے سامنے روتا ھوا اچھا نہیں لگتا جونہی ابا جان باھر نکلے میں نے اپنی کرسی سے جھک کراپنے ھونٹ والدہ کے قدموں پر رکھ دیئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا،، اسلام ھمارے گھر مین داخل ھو گیا تھا،،میں نے کبھی اتنی بڑی نعمت کا سوچا تک نہ تھا، اب مجھے یقین تھا کہ میری بہن اور باقی بھائی بھی مسلمان ھو جائیں گے! شام کو ھم محلے کی مسجد میں گئے اور والد صاحب نے اسلام قبول کر لیا ان کا اسلامی نام جابر تجویز کیا گیا،جبکہ امی جان نے میرے ھاتھ پر اسلام قبول کیا، اور اپنے لئے آمنہ نام پسند کیا ہے۔یہ والدہ کا ھی مطالبہ تھا کہ میں بیٹے کے ھاتھ پر ایمان لاؤں گی،، اگلے دس دن شادی کے بندوبست میں لگے شادی ھوئی اور شادی کے چھٹے دن میری والدہ اللہ کو پیاری ھو گئیں،،
میری دنیا گویا اجڑ کر رہ گئی مگر یہ تو ایک فطری پراسیس ھے، ھر ایک کو پیدا ھونے کی طرح مرنا بھی ضروری ھے،، ایک ایک کر کے میرے دونوں بھائی پھر میری بہن میرا بہنوئی بھی مسلمان ھو گئے جبکہ یہ بتانا تو مین بھول گیا کہ میری بیوی نے بھی شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا! یہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ھے 30 سے زیادہ عزیز مسلمان ھو چکے ھیں اور مزید کی امید رکھتا ھوں،اس دعا کے ساتھ کہ اللہ پاک اس سعی کو قبول و منظور فرمائے،آپ سے اجازت چاھوں گا ۔ اللہ حافظ!۔۔آپ کا بھائی۔۔ناصر بن جابر۔(معرفت ۔جناب مولانا مہر الدین صاحب غازی آباد ۔یوپی۔انڈیا)

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close