بین الاقوامی

ناسا کی سورج کو قریب سے جاننے کی کوشش، مصنوعی سیارہ روانہ

واشنگٹن ،12اگست امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے پہلی بار سورج کا انتہائی قریب سے مشاہدہ کرنے کے لیے ایک سیٹلائیٹ روانہ کیا ہے۔اتوار کو فلوریڈ سے پارکر نامی خلائی تحقیقاتی سیٹل ائیٹ سورج کی جانب بھیجا گیا۔پارکر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے کہ وہ انسانی تاریخ میں سب سے تیز رفتار مصنوعی سیارہ ہے اور اس کے علاوہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی مصنوعی سیارہ کا نام حیات سائنسدان کے نام پر رکھا گیا ہو۔91 سالہ ماہر فلکیات ایوجین پارکر نے پہلی بار 1958 میں شمسی ہوا کے بارے میں بتایا تھا ۔ یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر ایوجین پارکر نے فلور یڈا میں مصنوعی سیارے کی روانگی کی مناظر کو دیکھتے ہو ئے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ آئندہ کئی برس تک ہمیں کچھ سیکھنے کو ملے گا۔پارکر سٹیلائیٹ سورج کے گرد چکر لگاتے ہوئے معلومات ارسال کرے گا جس سے سور ج کے بارے میں عرصے سے پائی جانے والی پراسرا ئیت اور اس کی صلاحیتوں کے علاوہ شمسی ہواؤں کے بارے میں تحقیق کرے گا۔خلائی مشن کو ڈیلٹا فور را کٹ کے ذریعے مقامی وقت کے مطابق رات 3.31 منٹ پر روانہ کیا گیا۔خلائی مشن کو ایک دن پہلے روانہ کیا جانا تھا لیکن روانگی سے پہلے کچھ تکنیکی مسائل کی وجہ سے روانہ نہیں کیا جا سکا۔ناسا نے خلائی مشن کی روانگی کے ایک دن بعد تصدیق کی کہ خلائی جہا ز کامیابی سے راکٹ سے الگ ہو گیا ہے اور اب اپنے مدار میں سفر کر رہا ہے۔پارکر آئندہ سات برس تک سورج کے گرد 24 چکر لگائے گا اور اس دوران سورج سے اٹھنے والی شعاعوں کا مشاہدہ کرے گا جس کے بار ے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زمین پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ناسا کے مطابق پارکر نامی تحقیقاتی سیٹلائیٹ پر ڈیڑھ ارب ڈالر لاگت آئی ہے اور اس دوران پارکر کو 13 سو سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اس پر نصف خصوصی شیٹ کی وجہ سے آلات کو نقصان نہیں پہنچے گا۔اس سے پہلے 1976 میں سورج پر تحقیق کے لیے بھیجا گیا مصنوعی سیارہ سورج سے تقریباً چار کروڑ 30 لاکھ کلومیٹر کے فا صلے پر رہا تھا۔مصنوعی سیارہ معلومات حاصل کرنے کے لیے سورج کی باریک فضا میں جائے گا جہاں اس کا سورج کی سطح سے فاصلہ صرف تقریباً 61 لاکھ کلومیٹر ہو گا۔جان ہاپکنز لیبارٹری سے منسلک ڈاکٹر مکی فوکس نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو لگے یہ سورج سے زیادہ نزدیک نہیں تو اس طرح سے سوچیں کہ سورج اور زمین ایک دوسرے سے ایک میٹر دور ہیں اور مصنوعی سیارہ سورج سے صرف چار سینٹی میٹر دور ہو گا۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انسانی تاریخ میں پارکر سیٹلائیٹ سب سے تیز رفتار مصنوعی سیارہ ہے جو کہ چھ لاکھ 90 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گا جس کا مطلب ہے کہ نیویارک اور ٹوکیو کے درمیان فاصلہ ایک منٹ سے بھی کم میں طے ہو گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close