بین الاقوامی

نقاب اور برقعے کا مذاق اڑانے پر بورس جانسن تنقید کی زد میں

لندن ،10اگست چند روز قبل برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف میں برقعے کے بارے میں متنازع رائے پر مبنی کالم لکھنے کے بعد برطانیہ کے سابق سیکریٹری خارجہ اور کنزرویٹو پارٹی کے اہم رہنما بورس جانسن پر ان کی پارٹی کی جانب سے دباؤ شدید بڑھ گیا ہے اور ان کی اپنی جماعت کے رہنماؤں نے ان پر تنقید کی ہے جن میں وزیر اعظم ٹریزا مے بھی شامل ہیں۔بورس جانسن نے پانچ اگست کو لکھے گئے اپنے کالم میں ڈنمارک میں نافذ کیے گئے اس نئے قانون کا ذکر کیا تھا جس کے تحت ملک میں چہرہ چھپانے یا نقاب پہننے پر پابند عائد کر دی گئی تھی۔انھوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ وہ ڈنمارک کے نئے قانون کے حامی نہیں ہیں لیکن انھوں نے برقع پہننے والی مسلمان خواتین کا مذاق اڑاتے ہوئے انھیں ‘بینک ڈاکو’ اور ‘ڈاک خانہ’ قرار دیا تھا۔ ساتھ ساتھ انھوں نے مزید یہ بھی لکھا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام سے ملاقات کے دوران ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ نقاب ہٹا کر بات کریں۔بورس جانسن کے اس کالم پر برطانوی وزیر اعظم نے ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے جماعت کے چئیرمین برانڈن لوئیس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس کالم پر بورس جانسن کو معافی مانگنی ہوگی کیونکہ اس سے مسلمان برادری کی دل آزاری ہوئی ہے۔تاہم بورس جانسن نے اب تک اپنی جماعت کے اعلی رہنماؤں کی نہ مانتے ہوئے معافی نہیں مانگی ہے۔ادھر کنزرویٹو مسلم فورم کے لارڈ شیخ نے بھی وزیر اعظم کی تنقید کے بعد زور دیا ہے کہ بورس جانسن کے خلاف کاروائی کی جائے اور ان کو پارٹی کے عہدے سے ہٹایا جائے۔بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘ان سے چابک لے لینی چاہیے۔ وہ کوئی مافوق الفطرت شخص نہیں ہیں۔ وہ صرف پارٹی کے ایک رکن ہیں اور جماعت کے چئیرمین اور وزیر اعظم کے پاس پورا حق ہے کہ وہ ان سے ’وہپ‘ لے لیں اور میں یہی دیکھنا چاہتا ہوں۔’کنزرویٹو جماعت کے سابق چئیرمین ایرک پکلز نے بھی زور دیا کہ بورس جانسن اپنے بیان پر معافی مانگیں۔بورس جانسن کے بیان پر شروع ہونے والا تنازع اس حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ڈنمارک میں نافذ کیے جانے والے قانون کے بعد برطانیہ میں اسلام مخالف رجحان کے اضافے پر بحث دوبارہ چھڑ گئی ہے۔برطانوی وزیر اعظم سے جب سوال پوچھا گیا کہ کیا بورس جانسن اسلام مخالف ہیں، تو انھوں نے براہ راست جواب نہیں دیا لیکن کہا کہ ‘میں نے ہمیشہ سے یہ واضح کیا ہے کہ جو کوئی بھی اس بارے میں بات کر رہا ہے اس کو بہت دھیان سے، سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے اور الفاظ کا چناؤ کرنا چاہیے۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ بورس کے الفاظ نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔’دوسری جانب بورس جانسن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والی اس تنقید کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ یہ ان پر دباؤ کی کوشش ہے اور پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے معافی مانگنے کے مطالبے کو وہ ایسی کوشش سمجھ رہے ہیں جس سے ایک ضروری، مگر دشوار موضوع پر بحث نہ ہو سکے۔بورس جانسن کے کئی مخالفین سمجھتے ہیں کہ انھوں نے یہ بیان اپنے دائیں بازو کے حامیوں کے لیے دیا تھا تاکہ ان کی مقبولیت بڑھے اور مستقبل میں ان کی پارٹی میں لیڈرشپ کے امکانات میں اضافہ ہو۔کنزرویٹو پارٹی کی سابق چیئرمین سعیدہ وارثی نے بھی بورس جانسن کو آڑے ہاتھ لیا اور کہا کہ ‘بورس جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، جب انھوں نے وہ الفاظ استعمال کیے، وہ جانتے تھے کہ اس کا کیا رد عمل ہوگا اور کیسے وہ لوگوں کو متاثر کرے گا۔ وہ لیڈرشپ حاصل کرنے کی ایک اور کوشش کر رہے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ بھی کرنے اور کہنے کے لیے تیار ہیں۔’تاہم دوسری جانب، میٹروپولیٹن پولیس کمشنر کریسیڈا ڈک نے کہا ہے کہ یہ درست ہے کہ کئی لوگوں کو بورس جانسن کا بیان گراں گزرا ہے، ان کے ادارے کے افسران نے فیصلہ کیا ہے کہ سابق سیکریٹری خارجہ نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ ساتھ ساتھ انھوں نے تصدیق کی ہے کہ انھوں بورس جانسن کے خلاف کوئی شکایت بھی نہیں ملی ہے۔بی بی سی ایشین نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے پولیس کمشنر نے کہا کہ ‘میں نے اپنے تجربہ کار افسران سے بات کی جو نفرت پر مبنی جرائم کے حوالے سے کام کرتے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ بورس جانسن نے کوئی ایسی بات نہیں کی جسے جرم کے زمرے میں لایا جائے۔ اور جو کچھ انھوں نے کہا، اگر وہ جرم نہیں ہے، تو پھر وہ بورس جانسن اور ان کے دوست، ساتھی اور کنزرویٹو پارٹی کا معاملہ ہے۔’گو کہ برطانیہ میں اب تک ایسا کوئی قانون متعارف نہیں کرایا گیا ہے، یورپ کے کئی دیگر ممالک میں برقع اور لباس سے متعلق قوانین پر عمل درآمد ہونا شروع ہو گیا ہے۔پہلی اگست کو ڈنمارک میں چہرہ چھپانے کے لیے کپڑا استعمال کرنے پر پابندی کا قانون عمل میں آیا اور اس کے فوراً بعد ایک عورت پر نقاب پہننے کی وجہ سے 120 پاؤنڈ کا جرمانہ لگایا گیا۔ڈنمارک میں اس قانون کے خلاف بڑی تعداد میں مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے جس میں احتجاج کرنے والوں کا موقف تھا کہ حکومت نے عورتوں سے ان کی مرضی کے لباس پہننے کا حق چھین لیا ہے۔سال 2010 میں فرانس نے نقاب پر پابندی لگائی تھی جس کے بعد وہ یورپ کا پہلا ملک بن گیا تھا جہاں اس نوعیت کا کوئی قانون نافذ ہو۔ اس وقت کے صدر نکولس سرکوزئی نے کہا تھا کہ ان کے ملک میں نقاب ‘نامنظور’ ہے۔جرمنی میں عام عوام پر تو کوئی پابندی نہیں ہے لیکن سرکاری اہلکار اور فوج میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایسے کپڑے پہننے غیر قانونی ہے جس سے ان کا چہرہ ڈھک جائے۔ سال 2017 میں لاگو ہونے والے قانون کے مطابق اب ٹرک ڈرائیور اور گاڑی چلانے والوں پر بھی اسی قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔واضح رہے کہ جرمنی کے باواریا، یعنی لوئر سیکسونی علاقے میں نجی سکولوں میں نقاب اور برقعے پہننے پر پابندی ہے۔گذشتہ سال آسٹریا میں متعارف کرائے جانے والے قانون کے مطابق عوامی جگہوں پر نقاب پہننے پر پابندی ہے اور خلاف ورزی کرنے والے پر 150 پاؤنڈ کا جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔ ملک کی پولیس نے اس قانون پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ان لوگوں پر بھی استعمال ہو رہا ہے جو گرد آلود دھند سے بچاؤ کے لیے ماسکس پہنتے ہیں یا جو تفریحی مقصد کے لیے جانوروں کا بھیس ڈھالتے ہیں۔بیلجیئم میں عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر مکمل طور سے پابندی ہے۔ اس قانون کے خلاف دو مسلمان عورتوں نے مقدمہ دائر کیا تھا لیکن یورپی عدات برائے انسانی حقوق نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس قانون سے کسی انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہو رہی ۔بلغاریہ میں نقاب اور برقعے کے خلاف قوانین یورپ بھر میں سخت ترین ہیں جس کے تحت مکمل یا ادھور ے نقاب پر پابندی ہے اور وہ عوامی مقامات، سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور تفریحی مقامات کی حدود میں لاگو ہوتا ہے۔خلاف ورزی کرنے کی صورت میں 668 تک جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اور ان عورتوں کی سرکاری سہولیات بھی منہا کر لی جاتی ہیں۔اس سال نیدرلینڈز میں بھی عوامی مقامات، ہسپتال، سکول اور پبلک ٹرانسپورٹ میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔سڑک پر چلنے والوں کو نقاب پہننے کی اجازت ہے لیکن پولیس کے پاس یہ حق ہے کہ وہ روک کر اس شخص کی شناخت کے لیے پوچھ گچھ کر سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close