بین الاقوامی

نقاب اور برقعے کا مذاق اڑانے پر بورس جانسن تنقید کی زد میں

لندن:چند روز قبل برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف میں برقعے کے بارے میں متنازع رائے پر مبنی کالم لکھنے کے بعد برطانیہ کے سابق سیکریٹری خارجہ اور کنزرویٹو پارٹی کے اہم رہنما بورس جانسن پر ان کی پارٹی کی جانب سے دباؤ شدید بڑھ گیا ہے اور ان کی اپنی جماعت کے رہنماؤں نے ان پر تنقید کی ہے جن میں وزیر اعظم ٹریزا مے بھی شامل ہیں۔بورس جانسن نے پانچ اگست کو لکھے گئے اپنے کالم میں ڈنمارک میں نافذ کیے گئے اس نئے قانون کا ذکر کیا تھا جس کے تحت ملک میں چہرہ چھپانے یا نقاب پہننے پر پابند عائد کر دی گئی تھی۔انھوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ وہ ڈنمارک کے نئے قانون کے حامی نہیں ہیں لیکن انھوں نے برقع پہننے والی مسلمان خواتین کا مذاق اڑاتے ہوئے انھیں ‘بینک ڈاکو اور ‘ڈاک خانہ قرار دیا تھا۔ ساتھ ساتھ انھوں نے مزید یہ بھی لکھا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام سے ملاقات کے دوران ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ نقاب ہٹا کر بات کریں۔بورس جانسن کے اس کالم پر برطانوی وزیر اعظم نے ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے جماعت کے چئیرمین برانڈن لوئیس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس کالم پر بورس جانسن کو معافی مانگنی ہوگی کیونکہ اس سے مسلمان برادری کی دل آزاری ہوئی ہے۔تاہم بورس جانسن نے اب تک اپنی جماعت کے اعلی رہنماؤں کی نہ مانتے ہوئے معافی نہیں مانگی ہے۔ادھر کنزرویٹو مسلم فورم کے لارڈ شیخ نے بھی وزیر اعظم کی تنقید کے بعد زور دیا ہے کہ بورس جانسن کے خلاف کاروائی کی جائے اور ان کو پارٹی کے عہدے سے ہٹایا جائے۔
بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘ان سے چابک لے لینی چاہیے۔ وہ کوئی مافوق الفطرت شخص نہیں ہیں۔ وہ صرف پارٹی کے ایک رکن ہیں اور جماعت کے چئیرمین اور وزیر اعظم کے پاس پورا حق ہے کہ وہ ان سے ’وہپ‘ لے لیں اور میں یہی دیکھنا چاہتا ہوں۔کنزرویٹو جماعت کے سابق چئیرمین ایرک پکلز نے بھی زور دیا کہ بورس جانسن اپنے بیان پر معافی مانگیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close