سیاستہندوستان

نوٹ بندی سے باہر نکلے پیسوں سے ہورہےہیں ترقیاتی کام:مودی

بلاس پور:وزیراعظم نریندرمودی نے نوٹوں کی منسوخی کا پہلی بار دفاع کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کے بعد آئے پیسے ترقیاتی کاموں میں خرچ ہورہے ہیں۔مسٹر مودی چھتیس گڑھ کے بلاس پور میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے ترقی پسند اتحاد کی صدر سونیا گاندھی اور کانگریس کے صدر راہل گاندھی پر طنز کرتے ہوئے کہا،’’روپیوں کی ہیراپھیری کے معاملے میں ضمانت پر باہر گھوم رہے ماں بیٹا نوٹوں کی منسوخی کے معاملے میں مودی سے مانگ رہے ہیں۔‘‘انہوں نے زور دے کر کہا کہ نوٹوں کی منسوخی سے متعدد فرضی کمپنیوں کا انکشاف ہوا اور ان کا کاروبار بند ہوا۔انہوں نے کانگریس پر طنز کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پارٹی کنبہ پروری پر ٹکی ہوئی ہے اور ایک خاندان کا ہی وزیراعظم ہونا اس پارٹی کی ترجیح ہے۔انہوں نے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کا نام لئے بغیر کہا کہ ایک سابق کانگریسی وزیراعظم کہا کرتے تھے کہ دہلی سے عوام کےلئے نکلا ایک روپیہ ان تک پہنچتے پہنچتے 15پیسہ رہ جاتا تھا۔انہوں نے کہا،’’میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایسا کون سا پنجہ ہے جو 85پیسہ ہڑپ لیتا تھا۔‘‘مسٹر مودی نے کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس پارٹی کی سیاست ایک خاندان میں سمٹ گئی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی)کی سیاست غریب کی جھوپڑی سے شروع ہوتی ہے اور اس کی ترقی میں مضمر ہے۔انہوں نے کانگریس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ الگ ریاست بننے سے پہلے چھتیس گڑھ خستہ حال اور پسماندہ ریاستوں کی فہرست میں شمار کیاجاتا تھا۔چھتیس گڑھ بننے کے بعد بھی ریاست میں کانگریس کی ہی حکومت ہوتی تو آج جتنا کام ہوا ہے اسے کرنے میں انہیں 50سال لگ جاتے اور شاید تب بھی اتنا کام نہیں ہوپاتا۔انہوں نے کانگریس پر چھتیس گڑھ میں نکسلزم کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا اور کہا کہ نکسلزم کو پیدا کرنے والے اسے کیسے مٹا سکتے ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ بی جےپی ہی اس نکسلزم کو ختم کرسکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close