پٹنہ

نوٹ بندی کیلئے معافی مانگے مرکزی حکومت:مانجھی

پٹنہ:نوٹ بندی کے دو سال مکمل ہونے پر بہار کے سابق وزیر اعلی اور ہندوستانی عوام مورچہ کے قومی صدر جیتن رام مانجھی نے مرکزی حکومت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلے سے غریب لوگوں کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔مانجھی نے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے نوٹ بندی کا جو فیصلہ کیا گیا وہ ہندوستان کی تاریخ میں اپنا نام درج کرانے کے لئے ایک اسٹنٹ محض تھا | جس سے کہ ان کا نام تاریخ کے صفحات میں درج ہو جائے۔ | ہمارا خیال ہے کہ نوٹ بندی کا دن ہندوستانی تاریخ کے صفحات پر سیاہ دن کے طور پر تصور کیا جائے گا۔ | اس طرح کے فیصلے سے جن خاندانوں کے لوگ مشکلات سے گزرے ہیں | ۔وہ اس عذاب کو جانتے ہیں کہ جب اپنے ہی پیسے کے لئے سینکڑوں لوگوں کو اپنی جان تک گنوانی پڑی تھی۔
مانجھی نے کہا کہ اپنے ہر پروگرام کی کامیابی کی جھوٹی کہانی گڑھ کر اسکا جشن منانے والی مودی حکومت نوٹ بندی جیسے غلط فیصلے کو لے کر بیک فٹ پر ہے، نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی پروگرام کئے گئے نہ ہی جشن منایا گیا جس سے ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ کہیں نہ کہیں مرکز کی مودی حکومت بھی مانتی ہےکہ ان کے سپر پر فلاپ شو میں نوٹ بندی سب سے اوپر ہے۔
مانجھی نے کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے بھارت کی معیشت متاثر ہوئی ہے، بہت سے چھوٹے بڑے کل کارخانے بند ہو گئے جس کا خمیازہ آج بھی ملک کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ نوٹ بندی کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوئے ۔پوزیشن یہاں تک پہنچ گئی کہ عید تہوار ہونے کے باوجود بازاروں میں رونق نہیں دکھائی دے رہی تھی۔ نوٹ بندی کی مار ملک آج بھی جھیل رہا ہے۔مانجھی نے مرکز کی مودی حکومت سے درخواست کی کہ نوٹ بندی جیسے ناکام پروگرام پر مرکزی حکومت وائٹ پیپر جاری کرے اور نوٹ بندی کی وجہ سے جن لوگوں کی موت ہوئی ہے ان کی ذمہ داری لیتے ہوئے ان کے اہل خانہ کے لیے مرکزی حکومت پنشن دینے کا کام کرے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close