ہندوستان

نوٹ بندی کے بعدآر بی آئی کے پاس99.30 فیصد پرانے نوٹ : آر بی آئی کی رپورٹ

نئی دہلی، مرکزی حکومت کی جانب سے جاری نوٹ بندی کے بعد ریزرو بینک آف انڈیا(آربی آئی) کے پاس تقریبا ً99.30 فیصد پرانے نوٹ آ گئے ہیں۔ یہ تفصیلا ت آر بی آئی کی طرف سے جاری کردہ 2017۔18 کی رپورٹ سے موصول ہوئی ہے۔
اس رپورٹ میں دی گئی معلومات کے مطابق خصوصی بینک نوٹ کی پروسیسنگ ریزرو بینک کے تمام مراکز پر کر لی گئی ہے۔سرکولیشن سے مجموعی طور پر15310.73 ارب روپے کی قیمت والے پرانے نوٹ واپس آ چکے ہیں۔
ایک سال میں سرکولیشن میں موجودبینک نوٹوں کی قیمت میں مارچ 2018 تک 37.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ نوٹوں کی تعداد میں بھی 2.1 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح 500 روپے اور 2000 روپے کے بینک نوٹوں کی قدر مارچ 2018 تک 72.7 فیصد سے بڑھ کر 80.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ریزرو بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نوٹ بندی کے دوران بند ہو ئے تقریبا ًتمام پرانے نوٹ واپس آچکے ہیں۔
آر بی آئی نے بتایا ہے کہ 8 نومبر 2016 کو 15417.93 ارب روپے کی قیمت کے 500 اور 1000 روپے کے پرانے نوٹ سرکولیشن میں تھے۔ اس کے بعد ان میں سے جتنے نوٹ واپس آئے، ان کی مجموعی قیمت 15310.73 ارب روپے ہے۔ یعنی مرکزی حکومت نے جس مقصد سے نوٹ بندی کو نافذ کیا تھا، نتائج بالکل اس کے برعکس رہے ہیں کیونکہ تقریبا ًتمام پرانے نوٹ آر بی آئی کے پاس واپس آگئے ہیں۔حالانکہ ریزرو بینک نے جی ایس ٹی نے اپنی رپورٹ میں اس کوکامیاب بتایا ہے۔اس نے کہاکہ جی ایس ٹی ان ڈائریکٹ ٹیکس مین شفافیت لانے میں سنگ میل بن کر سامنے آیا ہے۔
واضح ہو کہ مودی حکومت نے 8 نومبر، 2016 کو 500 اور 1000 روپے کے پرانے نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور 8 نومبر کی رات سے یہ پرانے نوٹ بند ہو گئے تھے۔نوٹ بندی کے بعد سے، آر بی آئی نوٹوں کی گنتی کرنے میں مصروف تھی۔ ساتھ ہی نوٹ بندی کو لے کر اپوزیشن مسلسل حملہ آور رہاہے۔ مودی حکومت نے کالے دھن پر لگام لگانے کے لئے نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close