دہلیہندوستان

ورما،استھاناچھٹیپربھیجےگئے،ناگیشورنئےڈائرکٹر

آلوک ورما پہنچے سپریم کورٹ،حکومت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا،عدالت عظمیٰ میں معاملے کی سماعت کل

نئی دہلی: مرکزی جانچ بیورو(سی بی آئی)کے ڈائیریکٹر آلوک ورما اور خصوصی ڈائیریکٹر راکیش استھانا کے درمیان جاری ٹکراؤ میں دخل اندازی کرکے حکومت نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے دونوں کو چھٹی پر بھیج دیا اور سینٹرل ویجیلینس کمیشن کی نگرانی میں ایک خصوصی جانچ ٹیم(ایس آئی ٹی)سے پورے معاملے کی جانچ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت نے منگل کی دیر رات مسٹر ورما اور مسٹر استھانا کو چھٹی پربھیجنے کے ساتھ ہی جوائنٹ ڈائیریکٹر ایم ناگیشور راو کو فوری طورپر اس جانچ ایجنسی کا عبوری ڈائیریکٹر مقرر کردیا۔اڈیشہ کیڈر کے 1986بیچ کے آئی پی ایس افسر مسٹر راو نے کل رات ہی عہدہ سنبھال لیا اور آج ایجنسی کے چند افسران کے تبادلے اور کچھ کو مزید کام کاج سونپ دئے ان میں وہ افسران بھی شامل ہیں جو مسٹر استھانا پر عائدرشوت لینے کے الزامات کی جانچ کررہے تھے۔اس دوران سابق ڈائرکٹر آلوک ورما نے انہیں چھٹی پر بھیجنے کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے جسے سماعت کےلئےمنظور کرلیا گیا ہے۔اس معاملے کی سماعت جمعہ کو ہوگی۔ آلوک ورما اورراکیش استھانا کے درمیان گزشتہ چند دنوں سے الزام اور جوابی الزام کا سلسلہ جاری تھا۔اس تنازعہ میں اس وقت نیا موڑ آیا ،جب 15اکتوبر کو سی بی آئی نے اپنے اسپیشل ڈائیریکٹر راکیش استھانا ،ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ دیویندر کمار اور کچھ دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔ راکیش استھانا پر گوشت کے تاجر معین قریشی کے معاملے میں رشوت لینے کا الزام ہے۔ راکیش استھانا نے ایف آئی آر درج کئے جانے کےخلاف گزشتہ منگل کو دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا جہاں سے انہیں 29اکتوبر کو اگلی سماعت تک کسی طرح کی کارروائی سے راحت مل گئی۔سی بی آئی نے دیویندر کمار کومنگل کو گرفتار کرلیاتھا۔
جانچ ایجنسی میں جاری اندرونی ٹکراؤ کی وجہ سے اس پر اٹھ رہے سوالوں کے پیش نظر اس کی ساکھ برقرار رکھنے کے لئے حکومت نے منگل کی رات یہ غیر معمولی قدم اٹھایا اور آلوک ورما اور راکیش استھانا دونوںکو چھٹی پر بھیج دیا۔بتایا جاتا ہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم نریندرمودی نے ان دونوں اعلی افسران کو طلب کیا تھا۔وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے آج یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ ملک میں جانچ کے عمل کی معتبریت کو برقرار رکھنے کےلئے دونوں افسران کو چھٹی پر بھیجا گیا اور دونوں پر عائد الزامات کی جانچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس معاملے میں کون قصوروار ہے اور کون نہیں،یہ ابھی نہیں کہا جاسکتا ہے۔سی بی آئی اس معاملے کی جانچ نہیں کرسکتی اس لئے سینٹرل ویجیلینس کمیشن کی نگرانی میں ایس آئی ٹی سے پورے معاملے کی جانچ کرائی جائے گی۔ جیٹلی نے کہا کہ سی بی آئی میں جو کچھ بھی ہوا ہے اس سلسلے میں اپوزیشن کے برتاؤ سے جانچ ایجنسیوں کے اعلی معیار کے سلسلے میں گہرے شکوک پیدا ہوگئے تھے۔حکومت اس کے لئے پرعزم ہے کہ کسی بھی صورت میں ملک کا تحقیقاتی عمل مذاق کا موضوع نہ بنے اور اس کا اعتبار برقرار رہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close