پنجابسیاستہندوستان

وزیر اعظم نے بھارتی سائنس کانگریس میں ‘جے انوسندھان’ کا نعرہ دیا

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو جالندھر کے پھگواڑا واقع لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) میں 106 ویں انڈین سائنس کانگریس کا افتتاح کیا۔ اس تقریب میں نوبل انعام یافتہ سمیت ملک و بیرون ممالک کے سائنسداں شامل ہوئے۔
ایل پی یو میں انڈین سائنس کانگریس ۔2019 کا افتتاح کرتے ہوئے پی ایم مودی نے ‘جے انوسندھان’ کا نعرہ دیا۔ پی ایمنے کہا کہ جے جوان۔جے کسان کا نعرہ لال بہادر شاستری نے دیا تھا اور اگر اس میں اٹل جی کی بات شامل کر دی جائے تو نیا نعرہ بنتا ہے ”جے جوان۔جے کسان اور جے وگیان’،لیکن اگر میرا جوڑا جائے تو بنے گا ‘ جے جوان جے کسان جے وگیان اور جے انوسندھان”۔
اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری، سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور سابق صدر ڈاکٹر عبدالکلام کیچرچہ کی۔ پی ایم نے کہا کہ سائنس کے ذریعہ صحت کی سمت میں اور کام کیا جانا چاہئے۔ ملک کے باشندوں کو علاج کی بہتر سہولیات دستیابی کرانی ہوں گی جس کا حل سائنس کے پاس ہی ہے۔ پینے کے پانی کا مسئلہ رسائیکل ٹیکنالوجی سے ختم ہو سکتاہے۔ اس کے لئے کوئی نظام تلاش کرناہوگا۔ ہمارے ملک میں کسانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، کم مزدوری سے زیادہ پیداوار کے لئے نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ ہم نے زراعتی سائنس میں ترقی کی ہے۔ سائنس ہم سب کو معاشرے سے جوڑتی ہے۔ نیو انڈیا کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے نئی توسیع کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہماریقدیم تعلیم تحقیق پر مبنی رہی ہے۔ آج کا مطالبہ ہے کہ تمام ایجادات کے ساتھ، سینسر، ڈرون کا پیکیج بناکر کسانوں کی مدد کی جائے. انہوں نے کہا کہ ایز آف ڈوئنگ بزنس کے ساتھ ایز آف لیونگ بھی ضروری ہے۔ قدرتی آفات کی پیشن گوئی پر کام کرنا ہوگا، ترقی یافتہ بھارت کے لئے سائنس کواہمیتدینی ہوگی، فہم، سادہ اور سستے سامان پر کام کرنا ہوگا، حساس اداروں کو مضبوط سائبر سیکورٹی دینی ہوگی۔ بھارت کی عظمت علم اور سائنس میں ہے لہٰذا آج کسانوں کے لئے سستی اور مؤثر ٹیکنالوجی تیار کئے جانے کی ضرورت ہے۔ بنجر زمین کو زرخیز، کم بارش کے مسئلے سے نجات دلانے کی طرف کام کئے جانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے سائنسدانوں سے کہا کہ آپ بہتر علاج کرنے کا طریقہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں تلاش کر سکتے ہیں۔ بہتر صحت کے لئے زیادہ مؤثر ٹیکنالوجی تیار کر سکتے ہیں۔ پی ایم مودی نے کہا کہ ملک اس وقت 2022 میں اپنا گگنیان خلاء میں بھیجنے کی تیاری میں لگ گیا ہے۔ ویسے بھی سال 2018 بھارت کے سائنس کے لئے بہت اچھا سال رہا۔ اس سال ہم نے کئی پروجیکٹ شروع کئے اور خلا ئمیں سیٹلائٹ بھی بھیجے۔ انہوں نے کہا کہ عام انسانی زندگی میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور اس سمت میں مسلسل کوشش جاری ہیں۔ ہمارے سائنسداں ایسی جین تھریپی کی تلاش کر رہے ہیں جس سے خون میں ہیموگلوبن میں کم ہونے کا مسئلہ ختم ہو۔ ملک کی بڑی آبادی انیمیا کا شکار رہی ہے۔ اس سے بہت بڑی راحت ملے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close