بین الاقوامی

ٹرمپ عراق کے غیراعلانیہ دورے پر، ’امریکی فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں‘

واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک غیرمتوقع طور پر عراق کے دورہ پرآج عرق پہنچ گئے جہاں انہوںنے امریکی فوجی افسران سے ملاقات کے اور ان سے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران ان کے ساتھ کرسمس کی خوشیاں بھی بانٹیں۔ڈونل ٹرمپ نے عراق کے اپنے غیر اعلانیہ دورہ کے دوران کہا کہ شام اور افغانستان میں بھلے ہی امریکی فوجیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے مگر عراق سے امریکی فوج کی واپسی کاکوئی ارادہ نہیں ہے ۔
خبر رساں ادارہ بی بی سی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کرسمس کے موقع پر عراق کا غیراعلانیہ دورہ کیا ہے جہاں انھوں نے امریکی فوجیوں سے ملاقات کی ہے۔وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ انھوں نے فوجیوں کا ’ان کی سروس، ان کی کامیابی اور ان کی قربانیوں کے لیے شکریہ ادا کرنے اور انھیں کرسمس کی مبارک باد دینے‘ کے لیے ’کرسمس کی رات گئے‘ سفر کیا۔خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کا عراق سے فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔خیال رہے کہ چند روز قبل ہی امریکی سیکریٹری دفاع جم میٹس نے علاقائی اسٹریٹیجی پر اختلافات پر استعفیٰ دے دیا تھا۔
واضح رہے کہ ٹرمپ امریکی صدور کی جانب سے افغانستان، عراق اور شام میں فوج کشی کو بھیانک غلطی قرار دیتے ہوئے افغانستان اور شام سے فوج کے انخلا کا عندیہ دے چکے ہیں۔انہوں نے حال ہی میں افغانستان سے 14ہزار فوجیوں کے ساتھ ساتھ شام میں موجود 2ہزار فوجیوں کے انخلا کا حکم دیا ہے البتہ انہوں نے عراق میں موجود تقریباً 5ہزار فوجیوں کی ملک واپسی کے امکان کو رد کردیا۔
اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے ایئرفورس ون طیارے پر بغداد کے مغرب میں واقع الاسد ایئربیس کا سفر کیا جہاں انھوں نے فوجی اڈے کے ریستوران میں فوجی اہلکاروں سے ملاقات کی۔خیال رہے کہ عراق میں تقریباً 5000 امریکی فوجی تعینات ہیں جو عراقی حکومت کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ’ہم شام میں کچھ کرنا چاہتے ہیں‘ تو امریکہ عراق کو اگلے محاذ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
اس موقع پر انھوں نے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’بہت سارے لوگ اب میری طرح سوچ رہے ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’میں نے شروع سے ہی یہ واضح کیا تھا کہ شام میں ہمارا مشن دولت اسلامیہ کو اس کے مضبوط ٹھکانوں سے اکھاڑنا ہے۔‘
’آٹھ سال قبل، ہم وہاں تین ماہ کے لیے گئے اور کبھی واپس نہ لوٹے۔ اب، ہم صحیح کر رہے اور ہم اس کو مکمل کر رہے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی حالات کے پیش نظر وہ کئی ہفتے پہلے امریکی فوجیوں سے ملنے کے لیے نہیں آسکے تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close