بین الاقوامی

ٹیکسوں کے نفاذ نے چین کو مذاکرات کے لیے مجبور کردیا، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ محصولات کے نفاذ کے بعد چین امریکا کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے راضی ہوگیا ہے۔اپنی ایک ٹویٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیکس پالیسی کے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین سے درآمد ہونے والی اشیاء پر محصولات لگانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ اب بیجنگ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب چینی اشیاء پر ٹیکس عائد کیے گئے تھے تو کسی کو اعتبار نہ تھا اس کی وجہ سے چین ایک روز امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے گھٹنے ٹیک دے گا اور ٹیکس عائد کرنے کے اتنے بہتر نتائج سامنے آئیں گے، چند احمق لوگ میری معاشی پالیسیوں کا مذاق اُڑایا کرتے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ محصولات سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں جس سے امریکی منڈیوں میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور مقامی تاجر کافی خوش ہے جب کہ چین کی مارکیٹ میں 27 فیصد تک کمی آئی ہے۔ ٹرمپ نے ’سب سے پہلے امریکا‘ کا نعرہ بھی تحریر کیا۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے امریکا میں چین سے امپورٹ ہونے والی اشیاء پر 34 بلین ڈالر کے ٹیکس عائد کیے تھے جب کہ جلد ہی مزید 16 بلین ڈالر کی اضافی درآمدی ڈیوٹی لگائی جانے والی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close