کھیل

پجارا کی شاندار سنچری، ہندستان نے 443 پر اعلان کی اننگز

میلبورن:آسٹریلوی ٹیم نے ہندستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے پہلے میلبورن پچ کے ‘سرپرائز’ کرنے کی پیش گوئی کی تھی جسے مہمان ٹیم کے بلے بازوں نے اپنی طوفانی کارکردگی سے میچ کے دوسرے دن جمعرات کو اپنی پہلی اننگز میں سات وکٹ پر 443 رن کا بڑا اسکور بناکر صحیح ثابت کر دیا۔
میلبورن کرکٹ گراؤنڈ (ایم سي جي) کی پچ پر یکساں اچھال کی غیر موجودگی میں آسٹریلوی بولروں کو خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور تیسرے ٹیسٹ کے دو دنوں کے کھیل میں ہندستانی بلے بازوں نے جم کر رن بنائے اور دوسرے دن ہندستان نے اپنی پہلی اننگز 169.4 اوور میں سات وکٹ پر 443 رنز بنا کر اعلان کر دیا۔
دن کے اختتام تک آسٹریلوی ٹیم بھی اپنی پہلی اننگز کیلئے اتری اور اس نے چھ اوور میں بغیر کسی نقصان کے آٹھ رن بنا لئے ہیں۔ میزبان ٹیم کو ابھی 435 رنز اور بنانے ہیں۔ بلے باز مارکس ہیرس (ناٹ آ=ٹ 5) اور آرون فنچ (ناٹ آ=ٹ 3) کریز پر ہیں۔
ہندستانی اننگز میں چتیشور پجارا نے 106 رنز کی ریکارڈ سنچری بنائی جبکہ کپتان وراٹ کوہلی نے 82 رنز بنائے۔ چوٹ کے بعد واپسی کر رہے مڈل آرڈر کے بلے باز روہت شرما 63 رنز کی نصف سنچری اننگز کھیل کر ناٹ آؤٹ کریز سے واپس آئے۔
ہندستان نے صبح اپنی اننگز کا آغاز کل کے دو وکٹ پر 215 رن سے آگے بڑھاتے ہوئے کیا تھا۔ اس وقت بلے باز پجارا (68) اور کپتان وراٹ (47) رنز بنا کر کریز پر تھے۔ دونوں بلے بازوں نے بخوبی اپنی اپنی اننگز کو آگے بڑھایا اور تیسری وکٹ کے لئے 170 رن کی مضبوط شراکت کی ۔
وراٹ نے کافی تحمل کے ساتھ کھیلتے ہوئے 204 گیندوں کا سامنا کیا اور نو چوکوں کی مدد سے 82 رن بنائے۔ ہندوستانی کپتان اپنی سنچری سے 18 رن ہی دور تھے کہ آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے انہیں آرون فنچ کے ہاتھوں کیچ کراکر تیسرے بلے باز کے طور پر آؤٹ کیا اور میزبان ٹیم کو دن کا پہلا وکٹ دلایا۔ وراٹ لنچ کے بعد آؤٹ ہوئے۔
پجارا بھی اس کے بعد دیر تک ٹکے نہیں رہ سکے اور چھ رن بعد ہی پیٹ کمنز نے انہیں بولڈ کر ہندستان کا چوتھا وکٹ گرا دیا اور اس شراکت کو بھی توڑا۔ پجارا نے 319 گیندوں میں 10 چوکے لگا کر 106 رنز کی سنچری بنائی اور ٹیسٹ کیریئر میں اپنی 17 ویں سنچری بھی مکمل کر لی۔ پجارا نے اسی کے ساتھ سابق ہندستانی کپتان سورو گنگولی کے 16 ٹیسٹ سنچریوں کی کامیابی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
سرکردہ بلے باز پجارا نے آف اسپنر ناتھن لیون کی گیند پر لانگ آن پر چوکا لگا کر اپنی 17 ویں ٹیسٹ سنچری مکمل کی اور ہندستان کے ا سکور کو چار وکٹ پر 299 تک لے گئے۔ انہوں نے ساتھ ہی سابق ہندستانی کرکٹر وی وی ایس لکشمن کے 17 ٹیسٹ سنچریوں کی بھی برابری کر لی۔
اوپننگ بلے بازوں کے تسلی بخش کارکردگی کے بعد مڈل آرڈر میں نائب کپتان رہانے اور روہت نے رن رفتار کو آگے بڑھایا اور پانچویں وکٹ کے لئے 62 رن کی نصف سنچری شراکت کی ۔ رہانے نے 76 گیندوں میں دو چوکے لگا کر 34 رن بنائے۔ انہیں پرتھ میچ کے مین آف دی میچ لیون نے چائے کے وقفہ کے بعد ایل بی ڈبلیو کر ہندستان کا پانچواں وکٹ نکالا۔
ہندستانی بلے بازوں نے اگرچہ آف اسپنر لیون کی گیندوں کا بہترین حکمت عملی کے ساتھ سامنا کیا جس کا نتیجہ رہا کہ لیون ہندستان کی اننگز میں یہ صرف واحد وکٹ ہی نکال سکے۔ لیون نے اپنی بولنگ کے دوران مختلف طرح کی ڈلیوری ڈالیں لیکن انہیں ایک وکٹ نکالنے میں 40 اوور بولنگ کرنی پڑ گئی۔
چوٹ کی وجہ سے پرتھ ٹیسٹ سے باہر رہے روہت نے رشبھ پنت کے ساتھ اننگز کو آگے بڑھاتے ہوئے چھٹے وکٹ کے لئے پھر 76 رنز کی ایک اور نصف سنچری شراکت کی۔ پنت نے 76 گیندوں میں تین چوکے لگا کر 39 رنز بنائے۔ مشیل اسٹارک نے انہیں عثمان خواجہ کے ہاتھوں کیچ کراکر چھٹے بلے باز کے طور پر آؤٹ کیا جبکہ آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ چار رنز بنا کر جوش ہیزل وڈ کا شکار بنے۔
کندھے کی متنازعہ چوٹ کے بعد کھیل رہے جڈیجہ نے تین گیندوں میں ایک چوکا لگایا اور ساتویں بلے باز کے طور پر آؤٹ ہوئے۔ ایک اینڈ پر روهت 63 رن بنا کر ناٹ آؤٹ تھے کہ کپتان وراٹ نے دن کے اختتام سے کچھ اوور پہلے اپنے تین وکٹ باقی رہتے اننگز ڈکلئیر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ روہت نے 114 گیندوں کی اننگز میں پانچ چوکے لگائے اور اپنی 10 ویں ٹیسٹ نصف سنچری بنا کر ناٹ آوٹ میدان سے واپس آئے۔
ہندستان نے دوسرے دن 150 رن کے وقفے میں اپنے پانچ وکٹ گنوائے۔ آسٹریلیا کے لیے کمنز 34 اوور میں 72 رن دے کر تین وکٹ کے ساتھ سب سے کامیاب رہے جبکہ اسٹارک کو 28 اوور میں 87 رن پر دو وکٹ
پارلیمانی امور ، قانون و قانون سازی کے امور، زراعت اور بایو ٹیکنالوجی، مویشی پروری، ماہی گیری اور آبی وسائل کے محکمے مسٹر رویندر چوبے سنبھالیں گے۔مسٹر محمد اکبر نقل و حمل، ہاؤسنگ اور ماحولیات، جنگلات،خوراک اور سول سپلائز اور کنزیومر پروٹیکشن کا محکمے دیکھیں گے۔
مسٹر امیش پٹیل اعلی تعلیم اور تکنیکی تعلیم، ہنرمندی کے فروغ اور افرادی قوت کی منصوبہ بندی، سائنس و ٹیکنالوجی اور کھیل اور نوجوان فلاح و بہبود کے محکمے، مسٹر جے سنگھ اگروال محصولات اور آفات بندوبست ، باز آباد کاری، رجسٹری اور اسٹامپ محکمہ نیز محترمہ انیلا بھیڑیا خواتین و اطفال کی ترقی اور سماجی بہبود کے محکمے سنبھالیں گی۔
ڈاکٹر شیو ڈهريا شہری انتظامیہ و ترقی اور محنت کے محکمے، مسٹر گرو رودر کمار صحت عامہ میکینکس اور دیہی صنعت، ڈاکٹر پریما سائے سنگھ اسکولی تعلیم، درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیتی فلاح و بہبود اور کوآپریٹیو کے محکمے اور مسٹر كواسي لكھمرا تجارتی ٹیکس (آبکاری) اور صنعت کے شعبہ کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
وزیر اعلی مسٹر بگھیل کے پاس الیكٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبے جو کسی وزیر کو تفویض نہیں ہوئے ہیں، رہیں گے۔
ریاست میں پندرہ سال کے بعد کانگریس کی حکومت بنی ہے۔ وزیر اعلی مسٹر بگھیل نے 17 دسمبر کو حلف برداری کی تھی۔
ملے۔ جوش ہیزل وڈ کو 31.4 اوور میں 86 رن پر ایک اور لیون کو 48 اوور میں 110 رن پر ایک وکٹ ملا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close