دہلی

پسماندہ طبقات کمیشن کو آئینی درجہ دینے والا بل لوک سبھامیں منظور

نئی دہلی: پسماندہ طبقات کمیشن کو آئینی درجہ دینے کے التزام والے 123ویں آئینی ترمیمی بل کو لوک سبھا میں آج اتفاق رائے سے منظور کردیا گیا۔آئینی ترمیمی بل پاس کرنے کے لئے ضروری ووٹ میں سے اس کے حق میں 406 ووٹ پڑے اور اس کے خلاف ایک بھی ووٹ نہیں پڑا۔ تقریباََ چار گھنٹے تک چلنے والی بحث کے بعد ایوان میں بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے بھرت ہری مہتاب کی ایک ترمیم کو 94کے مقابلے 302ووٹوں سے مسترد کردیاگیا اور سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر تھاور چند گہلوت کے ذریعہ پیش کی گئی ترمیم کو منظوری دے دی۔اس بل کو لوک سبھا پیش کرچکی تھی لیکن راجیہ نے اسے کچھ ترمیم کے ساتھ پاس کیا تھا جس پر لوک سبھا نے دوبارہ بحث کرکے اس پر اپنی مہر لگادی۔ بل میں کی گئی نئی ترمیم کی وجہ سے اسے ایک بار پھر راجیہ سبھا میں پاس کرانا ہوگا۔مسٹر مہتاب نے کہا کہ مختلف ذاتوں کو مختلف ریاستوں میں الگ الگ زمروں میں رکھا گیا ہے ۔ اس میں یکسانیت لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں ہونے والی ترامیم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے انتہائی پسماندہ طبقہ یا او بی سی کے ذیلی زمرہ بندی بات کئی مواقع پر کہی ہے کیونکہ ریزرویشن کا فائدہ کچھ ذات نے اٹھایا ہے اور کچھ نے فائدہ نہیں اٹھا یا۔ ایسی ذاتوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جسٹس روہنی کمیشن کا ذکر کیا اور کہا کہ بہار اس کی سفارشات کو نافذ کرنے کی ضرورت پر زور یا ہے ۔شیوسینا کے اروند ساونت نے بل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مختلف پسماندہ ذاتوں میں ریزرویشن کو لے کر عدم اطمینان کو حل کرنے کے لئے مرکزی حکومت سے پہل کرنے کی اپیل کی اور مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن تحریک کا حوالہ دیتے کہا کہ مرکزی حکومت کو تمام ذاتوں سے بات کرنی چاہئے۔ انہوں نے تمل ناڈو میں 69 فیصد ریزرویشن نظام کا حوالہ دیتے ہوئے او بی سی کے لئے 27 فیصد ریزرویشن کو ناکافی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ذاتوں کو ریزرویشن اور دیگر فوائد نہیں مل رہے ہیں۔کانگریس کے تامردھوج ساہو نے کہا کہ پسماندہ طبقے کے حساب و کتاب کو لے کر کوئی صاف ڈیٹا سامنے نہیں آیا ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق پورے ملک میں ان کی تعداد 50 سے 52 فیصد کے درمیان ہے۔ ان کی تعداد مختلف ریاستوں میں مختلف ہے اور کئی ریاستوں میں یہ تعداد 40 سے 45 فیصد ہے۔ انہوں نے پچھلے طبقات کے لئے الگ وزارت کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے پرہلادسنگھ پٹیل نے کانگریس پر پسماندہ طبقات کے لئے کام نہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس طبقے کے لوگوں کی 6833 شکایات ملی ہیں لیکن کانگریس کی حکومتوں نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ کانگریس نے صرف پسماندہ لوگوں کے نام پر سیاست کی ہے۔
سماج وادی پارٹی کے دھرمیندر یادو نے ذات پر مبنی مردم شماری کے اعداد و شمار کو لاگو کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ اسی کے تناسب میں اس ذات کے لوگوں کو ریزرویشن دیا جانا چاہئے۔مسٹر یادو نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ صرف دلتوں اور غریب کے نام پر سیاست کر رہی ہے اور اس کا پسماندہ طبقے کمیشن کی حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بلکہ یہ صرف انتخابی شگوفہ ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ مودی حکومت نے پسماندہ طبقہ، ایس سی ایس ٹی کے کتنے لوگوں کو وزیر اعظم کے دفتر اور مختلف سکریٹریٹ میں مقرر کیا ہے؟راشٹریہ جنتا دل کے جے پرکاش نارائن یادو نے ملک میں اقتصادی برابری کے لئے ذات پات پر مبنی مردم شماری کرائے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نہ ہوتے تو غریبوں محروموں کو ریزرویشن کے طور پر ان کا حق نہیں مل پاتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام کمیشن بنے ہیں اور ایسا نہ ہو کہ قومی پسماندہ طبقات کمیشن کا حشر بھی دوسرے کمیشن کی طرح ہوجائے۔مسٹر گہلوت نے بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن مشاورتی امور کے علاوہ پسماندہ طبقوں کی سماجی و اقتصادی ترقی میں شرکت کی پہل کرے گا، بل میں اس کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ بل نےپسماندہ طبقات کمیشن مزید باصلاحیت بنائے جانے انتظام ہے۔
مسٹر گہلوت نے اپوزیشن ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پسماندہ ذاتوں کو ریاستوں کی فہرست میں شامل کرنے کے کام میں قومی کمیشن کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ ریاستی حکومتیں یہ کام کریں گی۔ صرف انہی معاملوں میں، قومی کمیشن کا کردار ادا ہوگا جن میں مرکزی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی سفارش پر، ہندوستان کے رجسٹرار جنرل کی رپورٹ لی جائے گی اور اس کی منظوری کے بعد کمیشن کی منظوری حاصل کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ آئین میں 123 ویں ترمیم میں اپوزیشن کے ارکان کے پہلے پیش کی گئی ترمیم کو شامل کیا گیا ہے۔ کمیشن میں خواتین کے رکن کی لازمی تقرری کو ضابطے میں شامل کیا جائے گا۔ بل میں کمیشن کے ممبران کے لئے اہلیت کی شرائط دیگر کمیشن کے طرز پر رکھی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا نے بل کے مقصد کو متعین کرنے والے سیکشن تین کو ختم کرنے کی ترمیم منظور کی تھی لیکن ہم نے دوبارہ سیکشن تین کو دوبارہ نئے سیکشن کے طور پر شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکشن تین کے خاتمے سے بل کا مقصد کا فوت ہو جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close