ادبی مضامین

پطرس بخاری

‘Stephen Lecock (اسٹیفن لی کاک) اپنی کتاب ” Humer and Humanity ” کے صفحہ 111 پر لکھتے ہیں
‘ مزاح کیا ہے؟ یہ زندگی کی نا ہمواریوں کے اس ہمدردانہ شعور کا نام ہے جس کا فن کارانہ اظہار ہو جائے۔”لیکن جب زندگی کی نا ہمواریوں کے اس ” ہمدردانہ شعور ” کی جگہ تیز اور تلخ شعور لے لیتا یے اور فنکارانہ اظیار میں دھیمے پن اور نرمی کی بجائے کرختگی اور تیکھا پن آ جاتا ہے تو، مزح نہیں رہتا بلکہ طنز بن جاتا ہے۔Ronald Knox (رونالڈ ناکس) اپنی کتاب ” Essays on Satire ” کے صفحہ 31 پر لکھتے ہیں مزح نگار خرگوش کے ساتھ بھاگتا ہے جبکہ طنز نگارکتّوں کے ساتھ شکار کھیلتا ہے۔رسالہ ادب لطیف میں ” طنز و مزح ” کو یوں واضح کیا گیا ہے:۔” قبل از طعام طنز، بعد از طعام مزح ”طنز ایک شدید، تیز اور بے دردانہ قسم کی تنقید ہے جس میں کسی چیز کے برے پہلو کو اس قدر نمایاں کر دیا جاتا ہے کہ یا تو اس چیز کے اچھے پہلو خود بخود نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں ییا پھر برے پہلو اس قدر چمکا کر پیش کئے جاتے ہیں کہ اچھے پہلو ماند پڑ جاتے ہیں۔پروفیسر رشید احمد صدیقی کہتے ہیں کہ۔اگر ہم ذہن میں کسی ایسی محفل کا نقشہ جمائیں، جہاں تمام ملکوں کے مشاہیر اپنے اپنے شعر و ادب کا تعارف کرانے کے لیے جمع ہوں تو اردو کی طرف سے بالاتفاق کس کو اپنا نمائندہ منتخب کریں گے؟ یقیناً بخاری کو۔ بخاری نے اس قسم کے انتخاب کے معیار کو اتنا اونچا کر دیا ہے کہ نمائندوں کا حلقہ مختصر ہوتے ہوتے معدوم ہونے لگا ہے۔ یہ بات کسی وثوق سے ایسے شخص کے بارے میں کہہ رہا ہوں، جس نے اردو میں سب سے کم سرمایہ چھوڑا ہے، لیکن کتنا اونچا مقام پایا۔سید احمد شاہ المعروف پطرس بخاری یکم اکتوبر 1898ء میں پشاور، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید اسد اللہ شاہ بخاری پشاور کے ایک معروف وکیل خواجہ کمال الدین کے منشی تھے۔پطرس بخاری نے اپنی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز سول اینڈ ملٹری گزٹ سے کیا۔ وہ عموماً تنقیدی مضامین لکھتے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے Peter Watkinss کا قلمی نام اختیار کیا تھا۔ یہ ایک لحاظ سے مشن اسکول پشاور کے ہیڈ ماسٹر سے قلبی تعلق کا اظہار تھا۔ جس کے لفظ ”پیٹر” کے فرانسیسی تلفظ نے پیر احمد شاہ کو پطرس بنا دیا۔ اس وقت سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر M.E. Hardy تھے جو بخاری کو ایک کالم کا سولہ روپیہ معاوضہ ادا کرتے تھے جس کی قدر اس زمانے میں تین تولہ سونے سے زائد تھی۔ان کے طبع زاد مضامین میں افسانہ پن ہر جگہ نمایاں ہے۔ برستے ہوئے مینہ کی ایک گنگناتی بوند کا اثربیان کرتے ہیں،مینہ موسلادھار برس رہا ہے۔ ندی نالے چڑھے ہوئے ہیں۔ ہر طرف شام کی سی تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ درخت اور پودے ایک دھلی ہوئی تصویر کی طرح اپنی سبزی میں زیادہ سبز اور اپنی پاکیزگی میں زیادہ صاف نظر آ رہے تھے۔ پھول اور پرندے، نغمہ کی نکہت، رنگ و بو سب شاداں معلوم ہوتے ہیں۔ اے میری آرزؤں کی ملکہ میرا دل اداس ہے۔پطرس بخاری نے پطرس کا قلمی نام سب سے پہلے رسالہ کہکشاں کے ایک سلسلہ مضامین یونانی حکماء اور ان کے خیالات کے لیے استعمال کیا۔ بخاری کی تحریریں پطرس کے نام سے اپنے زمانے کے مؤقر رسائل و جرائد میں شائع ہوتی تھیں۔ ان کی بیشتر تحریریں کارواں، کہکشاں، مخزن، راوی اور نیرنگِ خیال میں اشاعت پزیر ہوئیں۔1945ء میں جے پور میں PEN (اہلِ قلم کی بین الاقوامی انجمن) کا سالانہ اجلاس ہوا جس میں بخاری صاحب نے جو اس وقت آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹرجنرل تھے ایک نہایت فکر انگیز مقالہ بعنوان ”ہمارے زمانے کا اردو ادب” پیش کیا۔ اس اجلاس میں معروف انگریزی ادیب E.M. Foster، مس سروجنی نائیڈو، جواہر لعل نہرو، سروپلی رادھا کرشنن، صوفیا واڈیا، ملک راج آنند اور کتنے ہی مشاہیرِ علم و ادب شریک تھے۔ رشید احمد صدیقی کا بیان ہے کہ.مقالہ پڑھا تو دھوم مچ گئی۔ اردو اور ہندوستان کی دیگر زبانوں کے ادیبوں کے ایک بنیادی مسئلے کو پہلی بار نہایت وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ادیب مادری زبان اور انگریزی زبان کے درمیان معلق ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہ ذولسانی کشمکش ان کے فکر و نظر کو فطری رنگ میں جلوہ گر ہونے نہیں دیتی۔بخاری صاحب نے مندرجہ ذیل تخلیقات کو اردو کا جامہ پہنایا،
مارخم (افسانہ) از رابرٹ لوئیس اسٹیونسن۔
گونگی جورو (ڈراما) فرنسیسی مصنف فرانسس رابیلے۔
صید و صیاد (افسانہ) ماخوذ از فرانسہ۔
تائیس (رومان) از اناطول فرانس۔
سیب کا درخت (افسانہ) از جان گالزوردی۔
نوعِ انسانی کی کہانی (دنیا کی ابتدا) از ہینڈرک فان لون 522 صفحات کی مکمل کتاب۔
بچے کا پہلا سال از برٹرینڈ رسل 407 صفحات کی مکمل کتاب۔س
دیہات میں بوائے اسکاؤٹ کا کام (مکھیوں کا بادشاہ) از ایف ایل برین 200 صفحات کی مکمل کتاب۔
ممتاز نقاد اور افسانہ نگار ڈاکٹر سلیم اختر، پطرس بخاری کے مزاح کے بارے میں کہتے ہیں،’’پطرس ہر معاملے میں خود اپنا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔ اسی خصوصیت نے ان کے مزاح سے طنز کی زہرناکی کو ختم کرکے خالص اور سُتھرے مزاح کو جنم دیا۔ممتاز نقاد ڈاکٹر محمد احسن فاروقی کہتے ہیں،’’ میری نگاہ میں پکا ہیومرسٹ تھا۔ اردو کا واحد ہیومرسٹ۔ بلکہ وحدہ لاشریک ہیومرسٹ۔‘‘ 
نیو یارک ٹائمز، مورخہ 7 دسمبر 1958ء اداریہ، لکھتا ہے’’کبھی کبھی ہمیں کسی ایسی ہستی کی موجودگی کا یقین ہوجاتا ہے جو ہمارے تخیلات کو عمل کی دنیا میں لے آتی ہے۔ ابھی ابھی ہمیں پاکستان کے سفیر پروفیسر احمد شاہ بخاری کی بے وقت موت کی شکل میں ایسی ہی ایک شخصیت کے ضیاع کا سامنا ہوا ہے جنہوں نے اقوام متحدہ میں رئیس شعبہ اطلاعات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں وہ صحیح معنوں میں عالمی شہری تھے‘‘
داگ ہیمرشولڈ (سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ) کہتے ہیں،’’ قدرتی طور پر میرے ليے لازم ہے کہ احمد بخاری کے اوصاف و کمال کے بارے میں جو کچھ میں نے کہا ہے اسے چند لفظوں میں سمیٹ کر یہ بیان کروں کہ ان کی یہ خصوصیات ایک سیاسی سفیر کی حیثیت میں کس طرح ظاہر ہوتیں اور اپنا اثر ڈالتی تھیں۔ یہ کام میں جیقس برزون (Jacques Barzun) کی تازہ تصنیف ”دی ہاؤس آف انٹی لیکٹ” کا ایک اقتباس پیش کرکے بخوبی انجام دے سکتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں حکمت عملی (سفارت) کا تقاضا ہے کہ دوسرے کے افکار و اذہان سے آگاہی حاصل ہو یہ انشاء پرداز کا بھی ایک امتیازی وصف ہے مگر اس سے دوسرے درجے پر کہ وہ دوسروں کے دلائل کا جواب کس ہوشمندی اور واضح استدلال کے ساتھ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک ‘حاضر دماغ’ سفیر اور ایک ‘پریشان خیال’ سفیر اصلاح میں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔احمد بخاری حقیقت میں ان اوصاف پر پورے اترنے والے سفیر تھے جو مندرجہ بالا اقتباس میں بیان کئے گئے ہیں۔1945ء میں برطانوی سرکار نے آپ کو(Companion of the Indian Empire (CIEE سے نوازا۔ آپ کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے 1951ء۔ 1954ء تک اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے پہلے مستقل مندوب کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔2003ء میں حکومت پاکستان نے پطرس بخاری کی ادبی وثقافتی، تعلیمی، سفارتی خدمات کے صلے میں ہلالِ امتیازکے اعزاز سے نوازا۔اقوامِ متحدہ میں تیونس کی آزادی کی حمایت میں کی گئی خدمات کے سلسلے میں حکومتِ تیونس نے آپ کے اعزاز میں سڑک کا نام پطرس بخاری کے نام پر رکھا۔پاکستان پوسٹ نے1 اکتوبر 1998ء میں پطرس بخاری کی گرانقدر ادبی، تعلیمی، ثقافتی اور سفارتی خدمات کے صلے میں آپ کے سو سالہ جشن پیدائش کے یادگار کے موقع پر 5 روپے کا یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔بخاری صاحب کے دل میں پیدائشی خرابی تھی۔ عمر کے ساتھ ساتھ دیگر عوارض بھی زور پکڑتے گئے۔ دل کے دورے بار بار پڑنے لگے۔ وہ اکثر بے ہوش ہوجاتے۔ کمزوری بڑھتی گئی مگر دفتر جانا نہ چھوڑا۔ ڈاکٹر دل کی حالت دیکھتے اورمکمل آرام کا مشورہ دیتے لیکن بخاری دل کی گھبراہٹ سے ڈرتے اور دفتر کا رخ کرتے۔
ڈاکٹروں نے انہیں بستر پر آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن 4 دسمبر 1958ء کو ڈاکٹروں کے مشوروں کو پسِ پشت ڈال کربستر سے اُٹھے اور کمرے میں ٹہلنا شروع کر دیا، تھوڑی دیر کے بعد بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ صبح چھ بجے سورج طلوع ہونے سے پہلے دنیائے اُردو کے عظیم مزاح نگار 5 دسمبر 1958ء کو نیویارک امریکا میں وفات پا گئے۔ آپ کو نیویارک کے Kensico Cemetery,Valhalla میں سینکڑوں مداحوں، دوستوں اور سفارتی نمائندوں کی موجودگی میں قبر میں اُتار دیا گیا. مزاح کے لیے نظر نگاروں نے طرح طرح کے قصے، لطیفے ، چٹکلے اور مزاحیہ و طنزیہ موضوع پر مشتمل مضامین لکھے تاکہ ایک خوشگوار ماحول پیدا ہو۔ ہنسی اور طنز و ظرافت کا مقصود لطف اندوز ہونے کے ساتھ ہی معلومات میں اضافہ، نقصاندہ چیزوں سے احتراز اور فائدہ مند اشیاء سے استفادہ کرنا ہے۔پطرس بخاری کا مقام انفرادی حیثیت کا حامل ہے۔ 

پطرس مضامین کی فہرست۔

ہاسٹل میں پڑنا
سویرے جو کل آنکھ میری کھلی
کتے
اردو کی آخری کتاب
میں ایک میاں ہوں
مرید پور کا پیر
انجام بخیر
سینما کا عشق
میبل اور میں
مرحوم کی یاد میں
لاہور کا جغرافیہ

146مرزا کی بائسیکل145 مضمون میں ایک پرانی اور پھٹیچر سائیکل کا نقشہ اس خوبی سے کھینچا گیا ہے،
146آخر کار بائسیکل پر سوار ہوا۔ پہلا ہی پاؤں چلایا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی مردہ اپنی ہڈیاں چٹخا چٹخا کر اپنی مرضی کے خلاف زندہ ہو رہا ہو۔۔۔۔زنجیر ڈھیلی ڈھیلی تھی۔ میں جب کبھی پیڈل پر زور ڈالتا، زنجیر میں ایک انگڑائی سی پیدا ہوتی جس سے وہ تن جاتی اور چڑ چڑ بولنے لگتی۔ پھر ڈھیلی ہو جاتی۔
پچھلا پہیہ گھومنے کے علاوہ جھومتا بھی تھا۔ یعنی ایک تو آگے کو چلتا تھا، دوسرا دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کو بھی حرکت کرتا تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو نشان پڑتا جاتا تھا، اسے دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کے گزر گیا ہے۔۔۔145

اردو کی آخری کتاب147محمد حسین آزاد کی148 اردو کی پہلی کتاب 147کی دلچسپ پیروڈی ہے۔ پیروڈی یونانی لفظ پیروڈیا سے نکلا ہے۔ جس کے معنی ہے 148جوابی نغمہ147 کے ہیں۔ اردو ادب میں طنز و مزاح کے اس حربے کو براہ راست انگریزی ادب سے لایا گیا ہے۔ جس میں لفظی نقالی یا الفاظ کے ردو بدل سے کسی کلام یا تصنیف کی تضحیک کی جاتی ہے۔ یہ کتاب اردو ادب میں ایک کامیاب پیروڈی سمجھی جاتی ہے۔ کیونکہ ابن انشاءنے پیروڈی کے فن کو سمجھ کر برتا ہے۔آزاد کی اس کتاب پر 148پطرس بخاری147 ابن انشاءسے پہلے ہاتھ صاف کر چکے تھے۔ لیکن اُن کا نشانہ چند ابتدائی اسباق تھے اور دوسرا دونوں مزاح نگاروں کے نقطہ نظر میں واضح فرق ہے۔ پطرس کا نقطہ نظر محض تفریحی ہے جبکہ ابن انشاءمعاشرتی ناہمواریوں اور ناانصافیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اُن کا مقصد اصلا ح ہے۔مضمون کتے میں مزاح کا عام طریقہ کار سے مختلف نظرآتے۔علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا۔ سلوتریوں سے دریافت کیا۔ خود سرکھپاتے رہے۔ لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کافائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجئے دودھ دیتی ہے۔ بکری کو لیجئے، دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی۔ یہ کتے کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ کتا وفادار جانور ہے۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم ليے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے۔تو ہم لنڈورے ہی بھلے، کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آکر طرح کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کردیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا، ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔ اس پر شمال مشرق کی طرف ایک قدر شناس کتےنے زوروں کی داد دی۔ اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہواکہ کچھ نہ پوچھئے، کم بخت بعض تو دو غزلے سہ غزلے لکھ لائے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے، وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔ہم نے کھڑکی میں سے ہزاروں دفعہ \148آرڈر آرڈر\148 پکارا لیکن کبھی ایسے موقعوں پر پر دھان کی بھی کوئی بھی نہیں سنتا۔ اب ان سے کوئی پوچھئے کہ میاں تمہیں کوئی ایسا ہی ضروری مشاعرہ کرنا تھا تو دریا کے کنارے کھلی ہوا میں جاکر طبع آزمائی کرتے یہ گھروں کے درمیان آکر سوتوں کو ستانا کون سی شرافت ہے۔
پطرس کے مضامین میں ظرافت عام رواج سے ہٹ کر ہے۔ اور اس کا آغاز مختصر دیباچے ہی سے ہوتا ہے:
148اگر یہ کتاب آپ کو کسی نے مفت بھیجی ہے تو مجھ پر احسان کیا ہے اگر آپ نے کہیں سے چرائی ہے تو میں آپ کے ذوق کی داد دیتا ہوں اپنے پیسوں سے خریدی ہے تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے (یعنی آپ کی حماقت سے ہمدردی ہے) اب مصلحت یہی ہے (کہ آپ اپنی حماقت کونبا ہیں) اور اسے حق بجانب ثابت کریں147۔پطرس نے اپنے مضامین کے مجموعے کے متعلق یوں اعتراف کیا 148اس کتاب پر نظر ثانی کی اور اسے بعض لغزشوں سے پاک کیا147۔
پطرس نے اپنا انداز بیاں زیادہ تر مزاح میں طنز کے رنگ کو سموں کر پیش کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین میں جھنجھلاہٹ کے بجائے گدگدانے کی ادا نکلتی ہے اور اسی کے ساتھ فکر کی دعوت ہوتی ہے۔ہاسٹل میں پڑنا میں یوں رقم طراز ہیں
148ہم نے کالج میں تعلیم تو ضرور پائی اور رفتہ رفتہ بی اے بھی پاس کر لیا147۔ رفتہ رفتہ اور بھی کی معنویت دعوت نظر دیتی ہے آگے چل کر بی اے کے خانے اس خوبی سے گنوائے ہیں کہ قاری لطف اندوز نظر آتے ۔دوسری جگہ یوں بیان کیا، وہ ایسے خاندان کی ذہنیت کا خاکہ پیش کرتے ہیں جو مہذب اور اخلاق پسندیدہ کا مالک ہونے کے باوصف قدامت پسند ہے اور حال کو ماضی کے آئینہ میں مشتبہ نظروں سے دیکھتا ہے۔ لڑکے نے انٹرنس کا امتحان تیسرے درجے میں پاس کیا ہے تاہم خوشیاں منائی جا رہی ہیں دعوتیں ہو رہی ہیں۔ مٹھائی تقسیم کی جا رہی ہے۔ خاندان خوش حال ہے مگر باوجود استطاعت کے لڑکے کو مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ولایت نہ بھیجنے کی معقول ترین وجہ یہ ہے کہ گردو نواح سے کسی کا لڑکا ابھی تک ولایت نہ گیا تھا147۔
بڑی ہمت کی تو لڑکے کو لاہور بھیج دیا مگرہاسٹل کے بجائے ایک ایسے اجنبی عزیز کے یہاں قیام کا فیصلہ کیا جاتا ہے جس سے رشتہ داری کی نوعیت معلوم کرنے کے لئےخاندانی شجرے کی ورق گردانی کرنا پڑتی ہے تاہم ہاسٹل پر اس کے گھر کو یہ کہہ کر ترجیح دی جاتی ہے کہ 148گھر پاکیزگی اور طہارت کا ایک کعبہ اور ہاسٹل گناہ ومعصیت کا دوزخ ہے147 ضمناً نفسیات کے اس پہلو پر روشنی پڑی کہ جذبات کو دبا کر تحت الشعور میں دھکیل دینا ان کو دُند مچانے کے لئے آزاد چھوڑ دینا اور ارتفاع میں مشکلیں حائل کرنایا ارتفاع سے محروم کر دینا ہے۔ پطرس کے الفاظ میں:
148اس سے تحصیل علم کا جو ایک ولولہ ہمارے دل میں اُٹھ رہا تھا وہ کچھ بیٹھ سا گیا۔ ہم نے سوچا ماموں لوگ (ماموں قسم کے لوگ؟) اپنی سرپرستی کے زعم میں والدین سے بھی زیادہ احتیاط برتیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے دماغی اور روحانی قوےٰ کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملے گا اور تعلیم کا اصل مقصد فوت ہوجائے گا۔ چنانچہ وہی ہوا147۔بعد ازاں اس 148وہی ہوا147 کی شرح ہے۔ امتحانات میں پےدر پے فیل ہونا، صلاحیتوں کی بےراہ روی اختیار کرنا۔ صاف گوئی اور راستبازی کاکج مج راستے اختیار کرنا۔ غسل خانے میں چھپ چھپ کر سگریٹ پینا۔ المختصر وہ آزادی وفراخی ووارفتگی نصیب نہ ہوئی جو تعلیم کا اصل مقصد ہے147۔
پطرس نے مسئلے کے اس پہلو کو ظریفانہ انداز میں اس حسن وخوبی سے وضاحت کی ہے کہ طبیعت عش عش کرتی ہے۔پطرس بخاری نے 1930ءکے عشرے میں لاہور کا حدود اربعہ بیان کرتے ہوئے لکھا تھا:
146کہتے ہیں کسی زمانے میں لاہور کا حدود اربعہ بھی ہوا کرتا تھا لیکن طلباء کی سہولت کیلئے میونسپلٹی نے اسے منسوخ کر دیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقع ہے اور روز بروز واقع تر ہوتا جارہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہوگا جس کا دارالخلافہ پنجاب ہوگا۔ یوں سمجھئے کہ لاہور ایک جسم ہے جس کے ہر حصّے پر ورم نمودار ہو رہا ہے لیکن ہر ورم موادِ فاسد سے بھرا ہوا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے جو اس جسم کو لاحق ہے۔
سویرے جو کل آنکھ میری کھلی145145 میں یوں تحریر پیش کرتے ہیں،: 146146لالہ جی صبح کے وقت دماغ کیا صاف ہوتا ہے ،جو پڑھو خدا کی قسم یاد ہوجاتا ہے۔ بھئی خدانے بھی صبح کیاعجیب چیز پیدا کی ہے۔ یعنی اگر صبح کے بجائے صبح صبح شام ہوا کرتی تو دن کیا بری طرح کٹا کرتے145145
محترمہ سنبل نگار ان کی مزاح نگاری کو یوں بیان کرتی ہیں۔
146146پطرس بخاری ہماری زبان کے بلند پایہ فنکارہیں۔ ندرت و نفاست ان کی تحریروں کی خصوصیت ہے۔ خالص مزاح نگاری میں آج تک اردو میں کوئی ان کی ہمسری نہ کر سکا۔ یقین ہے کہ ان کی ظریفانہ تحریریں ہماری آنے والی نسلوں کو سرور و انبساط کی لازوال دولت عطا کرتی رہیں گی.

حوالہ جات۔
پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری،ص 156، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء۔ پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص12۔ پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص13۔پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص14۔پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص46۔ پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص48۔ پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص47۔پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص49-50۔ پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص50-51۔پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص80-78۔تنقیدی مضامین ص12، مطبوعہ مکتبۂ اردو ادب لاہور۔ پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص91-90۔ پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص99-100۔ اخبارِ اردو، شمارہ اکتوبر 2012ء، ادارہ فروغ قومی زبان، اسلام آباد۔پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص105-106۔ پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبد الحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص101۔اردو نثر کا تنقیدی مطالعہ سنبل نگار فاطمہ۔نضمون۔محمد خشتر صاحب۔ آپ حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔)  

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close