اتر پردیشہندوستان

پولیس بربریت کے خلاف کسانوں اور مزدوروں کا احتجاج جاری

مسلم نوجوانوں کیلئے تھرڈ ڈگری کا استعمال قابل مذمت کاروائی!

سہارنپور: سرساوہ تھانہ میں تعینات ایک داروغہ پر بھی( تھانہ چلکانہ کے گائوں دم جھیڑی ساکن مقتول حافظ عثمان ) کے بہنوئیسلیمان کیساتھ مارپیٹ اور پستول کا ہتھا سرپر مارنیکا سنگین معاملہ سامنے آیاہے اس معاملہ میں گزشتہ روز بیس و بائیس سالہ چار شاطر نوجوانوں نے حافظ عثمان اور ارشد کو اٹھالیا اور اسلحہ کی نوک پر دونوں کو باند لیا پھر دونوں کی پٹائی شروع کردی جسمیں نوجوانوں کی جانب سے بری طرح کی گئی پٹائی سے حافظ عثمان نے دم توڑ دیا جبکہ ارشد بری طرح سے زخمی حالت میں گائوں والوں کو کھیت میں بندھا ملا اسکی اطلاع پر سرساوہ پولیس موقع پر پہنچی اور نوجونوں کو اٹھواکر تھانہ لے آئی جہاں اطلاع ملنے پر عثمان کے گھروالے تھانہ پہنچے اور داروغہ عثمان کو دیکھنے کی گزارش کی اس پر تھانہ کے داروغہ نے مقتول عثمان کے بہنوئیسلیمان کیساتھ مارپیٹ کی اور پستول کا ہتھا سلیمان کے سرپر مارا اس حرکت پر لوگوں نے پولیس کیخلاف ہنگامہ کیا مگر پولیس نے حافظ عثمان سے کسی کو بھی ملنے نہ دیا دونوں کو سول اسپتال لایا گیا جہاں معالجوں نے حافظ عثمان کو مرا ہوا بتایا اس پر گھروالوں نے اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں گھنٹہ بھر خوب ہنگامہ مچایا مگر کوئی بھی اعلیٰ افسر ان لوگوں کی بات سننے کیلئے راضی نہ ہوا لوگوں کا کہنا تھا کہ بدمعاشوں کی پٹائی کے بعد بھی عثمان کی سانسیں چل رہی تھی پولیس نے زخمیوں سے گھر والوں کو ملنے ہی نہی دیا بلکہ جب عثمان مرگیا تب اسپتال لایاگیا اس معاملہ کو بھی اب دبایا جارہاہے اصل شاطر قاتل ابھی تک فرار ہیں جبکہ مقتول کے بہنوئی کیساتھ مارپیٹ کرنیوالے داروغہ کیخلاف بھی ابھی تک کوئی ایکشن نہی لیا گیا ہے! بہوجن سماج پارٹی، سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے لیڈران نے بھی پولیس کی بیہودگی کو قابل مذمت قرار دیا اور مظلومین کیساتھ انصاف کئے جانیکی مانگ کی ہے!
گزشتہ عرصہ کے دوران درجن بھر پولیس زیادتی کی دو وارداتیں سامنے آچکی ہیں تھانہ رام پور کے تحت مقامی دہلی روڈ واقع گائوںچنیٹی گاڑہ کے رہنے والے محمد یعقوب کے بیٹے جنید کو گاڑی نمبر ۱۰۰ پر سوار پولیس ملازمین کے ذریعہ حملہ آور ہونیکا معاملہ ابھی سرد بھی نہی ہوا تھا کہ پولیس اسٹاف کے ذریعہ گزشتہ دنوں تھانہ مرزاپورکے بھراوڑ گائوں کے دومسلم نوجوانوں فیروز اور شوقین کوگھروں سے اٹھاکر پہلے تھانہ لاکر بری طرح سے مارا پیٹا اسکے بعد حوالات میں بند کر دینیکا معاملہ بھی طول پکڑتا جارہاہے پولیس کی زیادتی کے باعث دونوں نوجوانوں کے منھ اور پیٹھ پر کافی چوٹیں نظر آئی گائوں کے افراد کو جب شوقین اور فیروز کی بلاوجہ گرفتاری کی خبر ملی تو درجنوں پردھان اور بھارتیہ کسان یونین کے لیڈران موقع پر پہنچے اور تھانہ کر گھیرائو کیا یہاں بھی پولیس مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کی اصل وجہ بتانے میں قاصر رہی نتیجہ کے طور پر کافی دیر بعد شوقین اور فیروز کو رہائی ملی مگر لگاتار شکایات کے بعد بھی مرزاپور تھانہ کے ان ملازمین کیخلاف کوئی ایکشن نہی لیا گیا اس واقعہ سے گائوں میں کافی کشید گی قائم ہے کسان یونین کئی گھنٹہ تک دھرنے پر بیٹھی نظر آئی مگر کسی بھی بڑے افسر نے انکی شکایت پر کچھ بھی توجہ نہی دی!
ضلع بھر میں مسلم افراد کیساتھ کچھ پولیس ملازمین کا رویہ وحشیانہ ہو تا جا رہاہے پولیس اسٹاف کے ذریعہ گزشتہ دنوں تھانہ مرزاپورکے بھراوڑ گائوں کے دومسلم نوجوانوںپر جس بری طرح سے تھرڈ ڈگری کا استعمال کیا اسکو جس قدر برا کہا جائے وہ کم ہی ہوگا اس حرکت کیخلاف کسان یونین کئی دن سے لگاتار مرزاپور تھانہ کی ہٹلر شاہی کیخلاف مظاہرے کرنے پر مجبور ہے کسان لیڈران کا کہناہے کہ مرزاپور کے تھانہ انچارج، داروغہ اور تینوں سپاہیوں کے خلاف مقدمہ لکھاجائے اور انکو معطل کیا جائے کیونکہ تھانہ مرزاپور پولیس اسٹاف نے مسلم نوجوانوں کیخلاف جس ڈگری کا استعمال کیا ہے وہ کسی بھی صورت قابل معافی نہی ہے کسان یونین کا الزام ہیکہ سینئر افسران پولیس کا ظلم و جبرظاہر ہوجانیکے بعد بھی انٖصاف کرنیکو راضی نہی ہیں نتیجہ کے طور پرکسانوں اور مزدوروں میں انتظامیہ کے خلاف غصہ بڑھتا جارہاہے سبھی لوگ پولیس کے خلاف کاروائی کی مانگ پر ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ دونوں افراد کے جس پر ابھی بھی چوٹوں کے نشانات صاف نظر آرہے ہیں عام الزام ہے کہ تھانہ، چوکی اور بازاروں میں پولیس ملازمین اقلیتی فرقہ کے افراد کیساتھ کچھ زیادہ ہی سختی دکھائی جا رہی ہے جس وجہ سے اقلیتی فرقہ میں خوف لگاتار بڑھتا جارہاہے لاتیں تھپڑ اور گالی گلوچ کرنا تو پولیس کیلئے آجکل عام ہے سینئر افسران شکایات کے بعد بھی سخت اور منصفانہ ایکشن لینے سے کتراتے رہتے ہیں جس وجہ سے عوام میں لگاتار پولیس کاروائی کیخلاف غصہ بڑھتا رہتاہے یہاں اس طرح کی درجن بھر وارداتیں ہو چکی ہیں مگر حکام چپ ہیں!

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close