ہندوستان

پولیس کو خطرات سے لڑنے کیلئے ساز وسامان سے لیس کریں،سائبر جنگ سے خبردار رہیں:نائیڈو

نئی دہلی:نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیانائیڈو نے کہا ہے کہ نئے دور کی سائبر جنگ اور نئے دشمنوں کا مقابلہ صرف علم کی طاقت سے کیا جاسکتا ہے۔ وہ آج یہاں بیورو آف پولیس سرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (بی پی آر اینڈ ڈی) کے 48ویں یوم تاسیس کے موقع پر حاضرین سے خطاب کررہے تھے۔ اْمور داخلہ کے وزیر مملکت جناب کرن رجیجو او ر دیگر معززین اس موقع پر موجود تھے۔نائب صدر جمہوریہ نے ہزاروں میل دور انٹرنیٹ پر کام کرنے والے ہیکروں کے ذریعے کیے جانے والے سائبر حملوں کے تئیں آگاہ کیا اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے حملوں سے نمٹنے کیلئے پولیس کو تیار رہنے کو کہا۔ انہوں نے بی پی آر اینڈ ڈی سے کہا کہ وہ نئے دور میں قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نبردآزما ہون کیلئے پولیس نظام میں بہترین طور طریقوں، پالیسیوں اور طریقہ کار کو فروغ دیں۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ علم اور ہمارے پولیس فورسز کی لیاقت اور جدت طرازی ، بروقت دستیابی اور نفاذ کی صلاحیت قومی سلامتی کو مضبوط کرنے کے معاملے میں انتہائی اہم ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں سمردھ (خوشحال) بھارت کے ساتھ ساتھ سرکشت (محفوظ) بھارت کی بھی ضرورت ہے اور ہم سکشم (اہل) بھارت کے بغیر سرکشت بھارت کی ضرورت کی تکمیل نہیں کرسکتے۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کی حکومت نے سائبر حملوں کی روک تھام کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے پولیس کے ذریعے کی جانیو الی کارروائی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائبر اسپیس میں نئے دشمنوں سے لڑنے کیلئے کسی اکیلی محفوظ سمجھی جانے والی سرکاری ایجنسی میں سیٹ اپ کو محدود نہیں کیا جاسکتا۔
نائب صدر جمہوریہ نے موجودہ طریقہ کار کی تشریق نو (ری اورینٹیشن) کی اپیل کی اور کہا کہ سبھی سیکورٹی ایجنسیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ گہرے تال میل سے کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس کے لئے نجی شعبے کے ساتھ بھی ایک انتہائی محفوظ ماحول سازی کی ضرورت بھی بتائی۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کو جدید نوعیت کی جنگ کے خطرات سمیت مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ایک مشترکہ میکانزم وضع کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی سبھی پولیس فورس کو اپنے آپ کو سائبر فورنسک تکنیکوں اور معلومات سے لیس کرنا چاہئے تاکہ وہ سائبر حملے کا دفاع کرسکیں یا سائبر جرائم کی جانچ پڑتال کرسکیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close