ہندوستان

پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، اتحادی بھی رنجیدہ،اپوزیشن کے نشانے پر حکومت

نئی دہلی:پٹرول۔ ڈیزل اور گیس کی بے تحاشہ بڑھتی قیمتوں کے سلسلے میں مودی حکومت پر اپوزیشن کے حملے سے اقتدار میں شامل اتحادی پارٹیاں بھی اگلے عام انتخابات پر اس کے ممکنہ اثرات کا اندازہ لگاتے ہوئے ان کے داموں کوکم کرنے کا حکومت پر دباؤ بنانے لگی ہیں۔عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کے مقابلے روپئے کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ سے برآمدکی جانے والی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے پٹرول۔ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے تو بغیر سبسڈی والے گیسوں کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں ۔سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم نے مودی حکومت کو پٹرول۔ڈیزل اور گیس کی قیمتوں پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’’ اضافی ٹیکس‘‘ کی وجہ سے صارفین کو مہنگائی جھیلنی پڑ رہی ہے۔سابق وزیر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فورا جی ایس ٹی قانون کے دائرے میں لایا جانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں کٹوتی کرکے دونوں کی قیمتوںمیں کمی کی جا سکتی ہے اور صارفین کو راحت پہنچائی جا سکتی ہے ۔مرکزی حکومت اس کی ذمہ داری ریاستی حکومت کے سر نہیں ڈال سکتی۔انہوں نے کہا’’ بی جے پی کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ 19 ریاستوں میں اس کی حکومت ہے۔ مرکز اور ریاست مل کر پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی قانون کے دائرے میں لا سکتے ہیں ۔کانگریس پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی قانون کے تحت لانے کا مطالبہ کرتی ہے۔عام آدی پارٹی کے کو آرڈینیٹر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی پہلے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے اور روپیہ کی قدر میں گراوٹ پر منموہن حکومت پر سخت حملہ کرتے تھے لیکن اب ویسی ہی صورتحال ان کی حکومت میں ہے تو انہوں نے چپ سادھ رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے لئے پہلے کانگریس اور اب بی جے پی کی حکومت ذمہ دار ہیں ۔وہیں چار سال تک مودی حکومت میں اتحادی رہے تیلگو دیشم پارٹی کے سربراہ اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندر بابو نائیڈو نے پٹرول اور ڈیزل کی قمتوں میں اضافہ کے ساتھ ہی ٖڈالر کے مقابلے روپئے میں ریکارڈ گراوٹ کو لیکر مودی حکومت پر حملہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ملک میں پٹرول کی قیمتیں 100 روپئے فی لیٹر ہو جائیں گی اور ایک ٖڈالر کی قیمت بھی100 روپئے تک پہنچ جائے گی۔واجپئی حکومت میں وزیر خزانہ رہے یشونت سنہا نے اپوزیش پارٹیوں سے قیمتوں کے اضافہ کے خلاف سڑکوں پر اترنے کی اپیل کی ہے انہوں نے منگل کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا’’ پٹرول ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے اور قیمتیں روزانہ نیا ریکارٖڈ قائم کر رہی ہیں ۔اپوزیشن پارٹیاں سڑکوں پر کیوں نہیں اترتیں ؟ انہیں اب کس بات کا انتظار ہے؟‘‘۔این ٖڈی اے کی اتحادی جنتا دل (یو) کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں پر فورا روک لگانے کے لئے حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں تخفیف کی جانی چاہئے اور ایسا نظام بنایا جائے جس سے مستقبل میں بھی قیمتوں میں اضافہ سے روکا جا سکے۔کے سی تیاگی نے کہا کہ پٹرول۔ڈیزل کے فروخت سے حکومت کو لاکھوں کروڑوں کا ریونیو حاصل ہوتا ہے اسے ایسا نظام بنانا چاہئے جس سے صارفین کو فورا راحت ملے اور مستقبل میں بھی قیمتیں نہ بڑھیں۔مرکز میں حکومت کی اتحادی لوک جن شکتی پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے صدر چراغ پاسوان نے بھی پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ باعث تشویش ہے۔انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم اور پٹرولیم منسٹر اس کا کوئی حل نکالیں گے جس سے عام آدمی کو راحت ملے گی۔قابل ذکر ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگاتار دسویں دن بھی اضافہ ہوا ہے اور راجدھانی دہلی میں فی لٹر پیٹرول کی قیمت 80 روپئے کے قریب ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close