بہارپٹنہ

پٹنہ ہائی کورٹ نے نتیش کمار سمیت تمام سابق وزیراعلیٰ سے 11 فروری تک مانگا جواب

پٹنہ:عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے نتیش سمیت تمام سابق وزیر اعلی سے یہ پوچھا ہے کہ ان کو زندگی بھر رہائش مختص کئے جانے سے متعلق حکم اور قانون کو کیوں نہیں غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جائے۔عدالت نے بہار اسٹیٹ خصوصی سیکورٹی گروپ قانون کے تحت ملنے والی سیکورٹی کے سلسلے میں بھی جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے ان سابق وزرائے اعلی سے پوچھا ہے کہ جن کے پاس پٹنہ میں اپنا ذاتی مکان ہے وہ کیوں نہیں مکمل تحفظ کے ساتھ اپنے ذاتی مکان میں رہتے ہیں۔
چیف جسٹس امریشور پرتاپ شاہی اور جسٹس انجنا مشرا کی بینچ نے ریاستی حکومت کی جانب سے تیجسوی یادو کی اپیل پر سماعت کے دوران کورٹ کو رہائش الاٹمنٹ سے متعلق دیئے گئے خط پر بینچ نے خود نوٹس لیتے ہوئے منگل کو سماعت کر کے یہ ہدایت دی۔
واضح رہے کہ تیجسوی یادو کی جانب سے دائر اپیل پر بحث کرتے ہوئے ان کے ایڈووکیٹ نے کورٹ کو بتایا تھا کہ ایک طرف جہاں تیجسوی یادو کو بنگلہ خالی کرنے کو کہا گیا ہے وہیں ریاستی حکومت نے کئی سابق وزرائے اعلی کو عمربھر رہائش فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو قابل عمل ہے۔ کئی سابق وزرائے اعلی اس کا فائدہ بھی لے رہے ہیں۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ موجودہ مرکزی وزیر کو دو رہائش گاہ وزیر اعلی کے طور پر اور ایک رہائش گاہ سابق وزیر اعلی کے طور پر مختص ہے۔منگل کو عدالت نے کہا کہ اسی طرح کا فیصلہ اترپردیش کی حکومت نے بھی لیا تھا جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ کورٹ نے سپریم کورٹ کے حکم کی بھی بحث اپنے آرڈر میں شامل کرتے ہوئے یہ دکھایا ہے کہ کس طرح ریاستی حکومت کا یہ قانون پہلی نظر میں ہی غلط لگتا ہے۔ اب اس معاملے پر اگلی سماعت 11 فروری کو ہوگی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close