ہندوستان

پڑھیں : لیفٹیننٹ گورنر بنام کیجریوال کی لڑائی میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی پانچ اہم باتیں

دہلی میں اروند کیجریوال اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان اختیارات کی لڑائی سے وابستہ ایک معاملہ میں سپریم کورٹ نے بدھ کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کردیا کہ ایل جی کو کابینہ کے مشورہ پر کام کرنا ہوگا۔ عدالت نے ساتھ ہی کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر اگر کابینہ کے کسی فیصلہ سے متفق نہیں ہیں تو پھر وہ وجہ بتاتے ہوئے اس کو صدر جمہوریہ کے پاس بھیج سکتے ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ عدالت عظمی نے یہ بھی کہا کہ دہلی کی پوزیشن مکمل ریاست سے الگ ہے اور اس کو مکمل ریاست کو درجہ نہیں دیا جاسکتا ہے۔ لااینڈ آرڈر ،پولیس اور اراضی سے متعلق معاملات لیفٹیننٹ گورنر کے تحت ہی رہیں گے۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کی پانچ اہم باتیں :۔

لیجسلیچر کے کسی بھی ویلڈ فیصلہ کو لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعہ لٹکایا جاتا ہے تو یہ حکومت کی اجتماعی ذمہ داری کو مسترد کرنا ہوگا۔

سبھی معاملات پر ایل جی کی منظوری ضروری نہیں ہے۔ ان کا رول رخنہ ڈالنے کا نہیں ہے ۔ وہ کابینہ کے ساتھ مل کر کام کریں اور ان کے فیصلوں کا احترام کریں۔

لیفٹیننٹ گورنر کابینہ کے تعاون اور مشورہ کے پابند ہیں۔

لیفٹیننٹ گورنر کسی میکینکل طریقہ سے کام نہیں کرسکتے ہیں ۔ وہ کابینہ یا پھر صدر جمہوریہ کے فیصلوں کے مطابق کام کریں۔

لیفٹیننٹ گورنر کابینہ کے ہر ایک فیصلہ کو صدر جمہوریہ کے پاس نہیں بھیج سکتے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close