شخصیات

پہلی جنگ آزادی اور بہادر شاہ ظفر


جنگ آزادی ہند کا آغاز 1857ء میں بنگال میں ڈمڈم اور بارک پور کے مقامات پر ہوا جہاں دیسی سپاہیوں نے ان کارتوسوں کے استعمال سے انکار کر دیا جن میں سور اور گائے کی چربی لگی ہوئی تھی۔ انگریزی حکومت نے ان سپاہیوں کو غیر مسلح کرکے فوجی ملازمت سے برخاست کر دیا۔ لکھنؤ میں بھی یہی واقعہ پیش آیا۔ برخواست شدہ سپاہی ملک میں پھیل گئے۔ اور فوجوں کو انگریزوں کے خلاف ابھارنے لگے۔ 9 مئی 1857ء کو میرٹھ میں سپاہیوں نے چربی والے کارتوس استعمال کرنے سے انکار کر دیا،دوسپاہیوں منگل پانڈے اور ایشوری پانڈے نے انگریزوں پر حملہ کر دیا۔ منگل پانڈے کو گرفتار کرلیاگیا اور اسے سزائے موت دی گئی۔ ایک رجمنٹ کے سپاہیوں کو دس سال قید با مشقت کی سزا دی گئی۔ جس طریقے سے یہ حکم سنایا گیا وہ بھی تہذیب سے گرا ہوا تھا۔ دیسی سپاہیوں نے انگریز افسروں کو ہلاک کرکے ان قیدیوں کو آزاد کرا لیا اور میرٹھ سے دہلی کی طرف بڑھنے لگے۔ میرٹھ کے سپاہیوں کی دہلی میں آمد سے دہلی کی فوجیں بھی بگڑ گئیں۔ اور دہلی کے مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس اعلان کے بعد بغاوت کی آگ دور دور تک پھیل گئی۔ یہی بغاوت بعد میں مغلیہ حکومت کے زوال کا سبب بنی۔1857ء کی پہلی جنگ آزادی کے وقت بہادر شاہ ظفر 82 سال کے تھے جب ان کے سبھی بچوں کا سر قلم کرکے ان کے سامنے انگریز تھال میں سجا کر ان کے سامنے تحفے کی شکل میں لائے تھے۔ میجر ہڈسن نے ان کے چاروں لڑکوں مرزا غلام، مرزا خضر سلطان، مرزا ابوبکر اور مرزا عبد اللہ کوبھی قید کر لیا، میجر ہڈسن نے سبھی چاروں صاحبزادوں کا سر کاٹا اور ان کا گرم خون چلو سے پی کر ہندوستان کو آزاد کرنے کی چاہ رکھنے والوں سے انگریزوں کے تئیں جنگ اوربغاوت کوجاری رکھنے کا خطرناک وحشیانہ عہد کو جاری رکھا۔ بہادر شاہ ظفر نے اپنے بیٹوں کے کٹے ہوئے سروں کو اپنے ہاتھوں میں لے کردرد بھرے الفاظ میں ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا تیمور کی اولاد ایسے ہی سرخرو ہو کر باپ کے سامنے اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد شہزادوں کے دھڑ کوتوالی کے سامنے اور کٹے ہوئے سروں کو خونی دروازے پر لٹکا دیا گیا۔ بہادر شاہ ظفر نے انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کے لیے 1857ء کی پہلی جنگ آزادی کی سرپرستی کی۔ جنرل نکلسن نے انگریز فوجوں کی مدد سے تقریباً چار مہینے تک دہلی کا محاصرہ کیے رکھا۔ 14ستمبر کو کشمیری دروازہ توڑ دیا گیا۔ جنرل نکلسن اس لڑائی میں مارا گیا مگر انگریز اور سکھ فوجوں نے دہلی پر قبضہ کر کے بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کر لیا بعد میں ایک خودساختہ عدالت کے ذریعے بہادرشاہ ظفر کو جنگ و جدل کا ذمہ دار قرار دیا گیا(خود ہی جج،خود ہی مدعی،خود ہی گواہ)۔ بادشاہ کے دو ملازمین ماکھن چند اور بسنت خواجہ سرا کو گواہ بنایاگیا۔ ان گواہوں کے بیانات کی بادشاہ نے سختی سے تردید کی۔ مگر اسے مجرم قرار دے کر سزا کے طور پر جلا وطن کرکے رنگون بھیج دیا۔
انگریز سپہ سالار نے انہیں دھوکے سے قتل کرنے کے لیے بلوایا اور گرفتار کیا۔ انگریزوں نے ان پر حکومتی مجرم اور فوجیوں قتل کے الزام میں عدالت کے ذریعہ مقدمہ چلایا، مقدمے میں پیش کیے گئے ثبو ت بہت زیادہ ظلم آمیز تھے اور قانون عام ہونے کے باوجود انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کو مجرم اور خاطی قرار دیا اور ملک سے نکالنے کاحکم دیا۔ہندوستانیوں کی انگریزوں کے خلاف پہلی آزادی کی مسلح جنگ۔ انگریزوں نے اس جنگ کو غدر کا نام دیا۔دہلی کی فتح کے بعد انگریز فوجوں نے شہری آبادی سے خوف ناک انتقام لیا۔ لوگوں کو بے دریغ قتل کیا گیا۔ سینکڑوں کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ ہزاروں نفوس گولیوں سے اڑا دیے گئے۔ہزاروں لوگوں کو خاص کر کئ ہزار مسلمان تلوار کے گھاٹ اتار دیے گئے۔لوگوں کو توپوں کے سامنے کھڑاکر کے توپ چلادی جاتی جس سے ان کے جسموں کے چیتھڑے اڑ جاتے۔ صرف ایک دن میں 24 مغل شہزادے پھانسی کے تختے پر لٹکا دیے گئے مسلمان چن چن کر قتل کیے گئے۔ بہت سے مقتدر اور متمول مسلمانوں کی جائدادیں تباہ ہو گئیں۔ معمولی شک وشبہ کی بنا پرمسلمانوں کو ان کی جاگیروں سے بے دخل کر دیا گیا جس کی وجہ سے وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گئے۔ ان ہولناک مظالم کا اعادہ ان مقامات پر بھی کیا گیا جہاں اولاً جنگ کی آگ بھڑکی تھی۔ ان مظالم کا ذکر مرزاغالب نے اپنے خطوط میں کیا ہے۔ جلد ہی انگریزی فوج کے سکھ سپاہیوں نے قتل و غارت میں فرقہ ورانہ رنگ بھر دیا۔ انہوں نے مسلمانوں پر ظلم وستم کی انتہا کردی۔ مسلمان روزی کمانے کے لیے گھٹیا اور کم تر پیشے اپنانے پر مجبور ہو گئے۔ دفتروں میں انہیں چپڑاسی ،چوکیدار یا باورچی جیسے کام ملتے تھے۔ سرکاری ملازمتوں کے اشتہار میں یہ سطور واضح کردی جاتیں کہ مسلمان اس عہدہ کے اہل نہیں ہیں۔ ہندو۔ سکھ اور مسیحی مسلمانوں سے آگے نکل گئے۔مسلمان علما نے انگریزی زبان پڑھنے اور سیکھنے کو خلاف شرع قرار دیا جس سے مسلمانوں نے یہ زبان نہیں سیکھی۔ جس کی وجہ سے وہ ترقی نہ کر سکے۔ جنگ آزادی کے دوران چار ہزار انگریزوں کی موت واقع ہوئی جس کے جواب میں 12 لاکھ ہندوستانیوں کا خون بہا کر بھی انگریز کا غصہ کم نہ ہوا۔ انہوں نے اگلے 900 سال تک کبھی ہندوکا اور کبھی مسلمان خون بہایا۔ اگست 1858ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے اعلان ملکہ وکٹوریہ کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ کرکے ہندوستان کو تاج برطانیہ کے سپرد کر دیا۔
اس جنگ کے بعد خصوصاً مسلمان زیر عتاب آئے۔ جب کہ ہندوؤں نے مکمل طور پر انگریز سے مفاہمت کر لی۔ یوں مسلمانوں پر جدید علم کے دروازے بند کر دیے گئے۔ اور خود مسلمان بھی نئی دنیا سے دور ہوتے چلے گئے۔اس جنگ آزادی میں ہندو اور مسلمان مل کر ہندوستان کے لیے لڑے لیکن اس کے بعد انگریز کی سازش اور کچھ ہندوؤں کے رویے کی وجہ سے مسلمان اور ہندو الگ الگ قوموں کی صورت میں بٹ گئے۔ یوں پہلی مرتبہ دو قومی نظریے کی بنیاد پڑی۔
جنگ آزادی کا نعرہ ’’انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دو‘‘ تھا، اس لیے اس میں تمام ایسے عناصر شامل ہو گئے جنھیں انگریز سے نقصان پہنچا تھا۔ متضاد عناصر ایک مشترکہ دشمن کے خلاف یکجا تو ہوئے تھے لیکن وطنیت اور قومیت کے تصورات سے ناآشنا تھے۔ ان میں مفاد پرست فتنہ پرداز لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے مذہب کے نام پر تفرقہ ڈالا۔ دکان داروں کو لوٹا گیا کسی گھر یا محلہ کو لوٹنے کے لیے یہ افواہ کافی تھی کہ یہاں گورا(انگریز) چھپاہوا ہے۔بہادر شاہ ظفر جن کی بادشاہت کا اعلان باغی سپاہیوں نے کر دیا تھا۔ بادشاہ نے اعلان کیا :نہ تو میں بادشاہ ہوں اور نہ بادشاہوں کی طرح تمہیں کچھ دے سکتا ہوں۔ بادشاہت تو عرصہ ہوا میرے گھر سے جا چکی۔ میں تو ایک فقیر ہوں جو اپنی اولاد کو لے کر ایک تکیہ میں بیٹھا ہوں۔ مگر باغیوں کا اصرار تھا کہ وہ ان کا بادشاہ بنے۔ بہادرشاہ ظفر نہ بادشاہت کی صلاحیت رکھتا تھا اور نہ باغیوں کی مخالفت کرنے کی طاقت۔ مزید برآں باغیوں نے دہلی میں لوٹ مار اور غارت گری مچا کر عام لوگوں کی ہمدریاں کھو دی تھیں۔ بادشاہ کے قریبی مصاحب حکیم احسن اللہ اور مولوی رجب علی انگریزوں سے درپردہ ملے ہوئے تھے دہلی کے حالات کی لمحہ بہ لمحہ اطلاعات انگریزوں کو ان کے ذریعے مل رہی تھیں۔ چنانچہ 1857ء کی یہ جنگ آزادی ناکام رہی۔
1857ءمیں انگریز میجر ہڈسن کے ہندوستان کے لیے بولے گئے توہی آمیز الفاظ۔
دم دمے میں ہم نہیں اب خیر مانگو جان کی
اے ظفر! ٹھنڈی ہوئی اب تیغ ہندوستان کی
اس کا جواب بہادر شاہ ظفر نے عام ہند وستانی کے دل کی آواز کے شکل میں کچھ اس طرح دیا تھا۔
غازیوں میں بو رہے گی جب تلک ایمان کی
تخت لندن تک چلے گی تیغ ہندو ستان کی
اکتوبر 1858ء میں انہیں زندگی بھر کے لیے رنگون بھیج دیا گیا۔ دو ران اسیری انہوں نے جو غزلیں لکھیں وہ اپنی مہارت اورترقی کے لیے ہندوستان کی آزادی کے متوالوں کے دلوں میں کشادہ جگہ رکھتی ہیں۔ رنگون میں6 نومبر، 1862ء کو اس آخری مغل خاندان 1857ء کی پہلی جنگ آزادی کے رہبر نے اپنی جان دی (ایک کتاب میں7نومبرء کی تاریخ کابھی ذکر ہے)آپ کا نام ابوالمظفر سراج الدین محمد بہادر شاه غازی۔اکبر شاہ ثانی کا دوسرا بیٹا جو لال بائی کے بطن سے تھے۔ ان کا سلسلہ نسب گیارھویں پشت میں شہنشاہ بابر سے ملتا ہے۔ یہ دہلی میں پیدا ہوئے۔ خاندان مغلیہ کا آخری بادشاہ اور اردو کا ایک بہترین و مایا ناز شاعر تھے، ابراہیم ذوق کے شاگرد تھے۔ ذوق کی وفات کے بعد مرزا غالبؔ سے شاعری میں رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ 1252 ھ مطابق 1837ء کو قلعہ دہلی میں اس کی تخت نشینی کی رسم ادا کی گئی۔1837ء میں تخت پوشی کے وقت انہیں ابومظفر کے بدلے ابوظفر ،محمد سراج الدین، بہار شاہ غازی نام ملا۔
بہادرشاہ ظفر مغل خاندان کے آخری بادشاہ تھے ۔ انہوں نے اردو، عربی، فارسی، زبان کے ساتھ گھڑسواری ،تلوار بازی، تیراندازی اور بندوق چلانے کی کافی مہارت حاصل کرلی تھی۔ وہ ایک اچھے صوفی درشن کے جانکار فارسی میان، سولے خن میں ادیب وشاعر تھے۔ وہ 1857ء تک حکومت کے کام کاج سنبھالتے رہے۔یہ ایک ایسے شہنشاہ کا تلخ، حوصلہ شکن اور خجالت آمیز انجام تھا جس کے پرکھوں نے آج کے انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے وسیع علاقوں پر صدیوں تک شان و شوکت سے راج کیا تھا۔یہ بات درست ہے کہ بہادر شاہ ظفر کے پاس وہ سلطنت نہیں رہی تھی جو ان کے آبا اکبرِ اعظم یا اورنگ زیب عالمگیر کے پاس تھی، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ 1857 کی جنگِ آزادی میں ان کی پکار پر ہندوستان کے طول و عرض سے لوگ انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔دا لاسٹ مغل’ نامی کتاب کے مصنف اور مشہور تاریخ دان ولیم ڈیلرمپل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ‘وہ خطاط، نامور شاعر اور صوفی پیر ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے شخص تھے جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد میں یقین رکھتا تھا۔
‘وہ کوئی ہیرو یا انقلابی رہنما نہیں تھے، لیکن وہ اپنے جدِ امجد اکبرِ اعظم کی طرح مسلم ہندوستانی تہذیب کی برداشت اور کثیر القومیت کی علامت ہیں۔’بہادر شاہ ظفر کی قبر گلاب کی پتیوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ اس کے اوپر ایک لمبا فانوس لٹکا ہے، اور دیواروں پر تصاویر آویزاں ہیں۔ ساتھ ہی ایک مسجد ہے۔ہندوستان میں قائم دوسرے مغل بادشاہوں کے عالی شان مقبروں کی نسبت یہ مقبرہ بہت معمولی ہے۔ ایک آہنی محراب پر ان کا نام اور خطاب رقم ہے۔اس وقت بہادر شاہ ظفر کا سب سے بڑا ورثہ ان کی اردو شاعری ہے۔ محبت اور زندگی کے بارے میں ان کی غزلیں برصغیر بھر کے ساتھ ساتھ برما میں بھی گائی اور سنی جاتی ہیں۔
انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کو کاغذ قلم کے استعمال سے روک دیا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ آخری دور میں وہ دیواروں پر کوئلے سے اشعار لکھا کرتے تھے۔ ان سے منسوب بعض غزلیں اس مقبرے کی دیواروں پر بھی رقم ہیں۔2018 میں 1857 کی جنگِ آزادی کے161 برس مکمل ہو گئے، لیکن اس کی یاد منانے کے لیے کہیں کوئی تقریبات منعقد نہیں ہوئیں۔
آج کے دور میں جب قوم پرستی اور بنیاد پرستی زور پکڑ رہی ہیں، تاریخ دانوں کے مطابق بہادر شاہ ظفر کی مذہبی رواداری آج بھی اتنی ہی متعلقہ ہے جتنی ان کے دور میں تھی۔بطور شہنشاہ ان سے تاج و تخت اور سلطنت چھن گئی، لیکن بطور شاعر اور بزرگ وہ آج بھی ان گنت لوگوں کے دلوں پر حکومت کر رہے ہیں
بہادر شاہ ظفر کے چند اشعار۔۔۔۔
ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے
غرور چھوڑ دو اے غافلو خدا کے لیے
ادھر خیال مرے دل میں زلف کا گزرا
ادھر وہ کھاتا ہوا دل میں پیچ و تاب آیا
لے گیا دل کا جو آرام ہمارے یا رب
اس دل آرام کو مطلق کبھی آرام نہ ہو
پیار سے کر کے حمائل غیر کی گردن میں ہاتھ
مارتے تیغ ستم سے مجھ کو گردن آپ ہیں
کیا جو قتل مجھے تم نے خوب کام کیا
کہ میں عذاب سے چھوٹا تمہیں ثواب ہوا
دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے
بولتا ہے اس میں کیا وہ بولتا کیا چیز ہ
لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا
تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی
خواب میرا ہے عین بیداری ہے
میں تو اس میں بھی دیکھتا کچھ ہوں
وہ آئینہ ہے کہ جس کو ہے حاجت سیماب
اک اضطراب ہے کافی دل صفا کے لیے
منہ کھولے ہیں یہ زخم جو بسمل کے چار
پھر لیں گے بوسے خنجر قاتل کے چار
روبرو گر ہوگا یوسف اور تو آ جائے گا
اس کی جانب سے زلیخا کی نظر بٹ جائے
انجم تاباں فلک پر جانتی ہے جس کو خلق
کچھ شرارے ہیں وہ میری آہ آتش بار کے
گریباں چاک ہوں گاہے اڑاتا خاک میرا
لیے پھرتی مجھے وحشت کبھی یوں ہے کبھی
گریہ بھی ہے نالہ بھی ہے اور آہ و فغاں بھی
پر دل میں ہوئی اس کے نہ تاثیر کسی کی
دیکھ ٹک غور سے آئینۂ دل کو میرے
اس میں آتا ہے نظر عالم تصویر نہ توڑ
عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
تو کہیں ہو دل دیوانہ وہاں پہنچے گا
شمع ہوگی جہاں پروانہ وہاں پہنچے گا
جو تو ہو صاف تو کچھ میں بھی صاف تجھ سے کہوں
ترے ہے دل میں کدورت کہوں تو کس سے کہوں
کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں
اک سبب کیا بھید واں کا سب کا سب کھلتا نہیں
عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا
تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی
حال دل کیوں کر کریں اپنا بیاں اچھی طرح
روبرو ان کے نہیں چلتی زباں اچھی طرح
یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو
مرے فسانۂ غم کو مری زباں سے سنو
اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل
دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل
سناؤ درد دل اپنا تو دم بہ دم فریاد
مثال نے مری ہر ایک استخواں سے سنو
کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
بت پرستی جس سے ہووے حق پرستی اے ظفرؔ
کیا کہوں تجھ سے کہ وہ طرز پرستش اور ہے

ترتیب۔ ریاض فردوسی۔۔۔
۔ماخوذ۔۔۔ایتھیراجن انبراسن۔بی بی سی نیوز، رنگون
BBC
کی رپوٹ۔۔دائرۃ المعارف برطانیہ کا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Bahadur-Shah-I — بنام: Bahadur Shah II — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopedia Britannica

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close