سیاستہندوستان

پہلے مندر، پھر سرکار: ادھو ٹھاکرے

نئی دہلی : شیو سینا چیف ادھو ٹھاکرے آئندہ 24اور 25 نومبر کو رام مندر کی مہم کو لے کرایودھیا کے دورے پر جارہے ہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، ادھو ٹھاکرے وہاں پوجا پاٹھ کی ایک اجتماعی تقریب میں شریک ہوں گے ۔ اس دورے سے ٹھیک پہلے انہوں نے اتوار کو ممبئی میں پارٹی کارکنان کی ایک میٹنگ میں حصہ لیتے ہوئے نعرہ دیا کہ ،ہر ہندو کی یہی پکار ، پہلے مندر پھر سرکار۔ممبئی میں ہوئی اس بیٹھک میں مہاراشٹر سے باہر کےسینئر پارٹی رہنما بھی شامل ہوئے ۔ اس موقع پر ادھو ٹھاکرے نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ ایودھیا میں 24 نومبر کو 5.15 بجے شام میں سریو ندی کے کنارے وہ سر یو آرتی کی تقریب میں حصہ لیں گے ،اور عین اسی وقت پارٹی کے تمام کارکنان پوجا پاٹھ میں شامل ہوں گے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران جن جن ریاستوں میں شیو سینا کی موجودگی ہے وہاں اسی طرح کی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔انہوں نے پارٹی کارکنان سے یہ بھی کہا کہ 24 نومبر کو پورے مہاراشٹر میں بڑے پیمانے پر پوجا پاٹھ کا انعقاد کریں ۔انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق ،شیو سینا نے اپنے اس پروگرام کو سیاسی تقریب کہنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مذہبی تقریب ہے۔
غور طلب ہے کہ شیو سینا چیف کے اس دورے میں پارٹی کی خواتین اور یوتھ یونٹ کے کارکن اور عہدیداران شامل نہیں ہوں گے ۔ذرائع کے مطابق،آمد رفت میں پریشانی کی وجہ سے ان کارکنوں کو ایودھیا نہیں آنے کو کہا گیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ ادھو ٹھاکرے مہاراشٹر اور مرکز میں اپنی اتحادی پارٹی بی جے پی پر رام مندر بنانے کے لیے مسلسل دباؤ بنارہی ہے۔
دریں اثنا شیو سینا نے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر بنانے کے لیے آر ڈیننس لانے میں اتنی تاخیر سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ مرکز اور اتر پردیش میں حکمراں پارٹی بی جے پی اس کی خواہش نہیں رکھتی ۔ واضح ہو کہ شیو سینا لگاتار رام مند رمعاملے میں آر ڈیننس لانے پر زور دے رہی ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما سنجے راوت نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت تین طلاق پر پابندی عائد کرنے کے لیے بل لاسکتی ہے تو پھر ملک کے لیے اعزاز اور فخر کے موضوع رام مندر کے لیے کیوں نہیں اس راستے کو اپناتی ۔
انہوں نے 2014میں بی جے پی کو اقتدار میں لانے کے لیے مدد کرنے والی تنظیم آر ایس ایس سے کہا کہ بل لانے میں ناکامیاب ہونے والی اس پارٹی کو حکومت سے ہٹا دینا چاہیے ۔ راوت نے مزید کہا کہ ، ہم نے کبھی انتخابات کے لیے رام مندر کو مدعے کے طور پر استعمال نہیں کیا لیکن جو لوگ ایسا کرنا چاہتے ہیں ان کے بارے میں ہمیں لگتا ہے کہ وہ رام مندر نہیں چاہتے ۔ اگر آپ رام مندر بنانا چاہتے ہیں تو پھر قانون لائیے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی پارٹی اور الیکشن کے لیے رام مندر اور بابری مسجد مدعا نہیں ہونا چاہیے۔ہمیں اس کا سہر انہیں چاہیے ۔کریڈٹ آپ ہی لیجیے ،لیکن رام مندر بنا دیجیے۔اگر ہم گزشتہ 25 سال میں مندر کے لیے ایک بھی اینٹ نہیں رکھ سکے تو ہم کون سا مندر بنانے جارہے ہیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close