اسلامیات

” پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم کے عظیم و بے مثال معجزات "

بارہ ربیع الاول کے ضمن میں ایک خصوصی پیشکش :

آخری نبی محمد صل اللہ علیہ و سلم جن کے صدقہ طفیل میں اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کو وجود میں لائے ہیں، یقیناً آپ محمد صل اللہ علیہ و سلم کی ذاتِ اقدس تمام جہانوں کے لیے رحمت اللہ عالمین بن کر آئی ہے.
جیسے کہ جب ہم عرب کی تاریخ کو اپنے مطالعے میں لاتے ہیں کہ آپ صل اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری سے قبل عرب کے لوگوں کے جو حالات تھے وہ بے حد تشویش ناک تھے کہ کیسے وہاں ہر طرف جہالت کے اندھیرے پھیلے ہوئے تھے کہ اہل عرب کس قدر تشدد پسند تھے کہ اپنے یہاں پیدا ہونے والی بچیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیتے تھے اور اپنے ماتحت غلاموں پہ بے تحاشا ظلم ڈھاتے تھے یہاں تک کہ اگر کوئی قبیلہ دوسرے قبیلے سے پہلے اپنے جانوروں کو کسی مشترکہ جگہ سے پانی پلا دیتا تھا تو ایسی معمولی باتوں کو لیکر بھی کئی کئی پشتوں تک جنگ چلتی رہتی تھی عالم یہ تھا کہ ان میں حیوانیت اس قدر سرائیت کر گئی تھی کہ وہ سڑکوں پر انسانی خون تک کو چاٹنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے . ایسے ماحول میں اللہ کے پیارے رسول اور ہم سب کے خیر خواہ آخری پیغمبر اسلام حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری ہوتی ہے تو عرب کے مذکورہ قسم کے حالات میں یقیناً جس طر ح کے آپ کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا. اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی. اس کا خلاصہ خود حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم اپنے ایک قیمتی ارشاد میں یوں فرماتے ہیں کہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ دین اسلام کی دعوت دینے کے بدلے میں جس قدر مجھے ستایا گیا ہے یا مجھے اذیتیں برداشت کرنی پڑیں اتنا مجھ سے پہلے کسی بھی نبی کو نہیں ستایا گیا.

دراصل آنحضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم کے نور وجودکی خلقت ایک روایت کی بنیاد پر حضرت آدم کی تخلقیق سے 9 لاکھ برس قبل اور دوسری روایت کی بنیاد پر 6-5 لاکھ سال پہلے ہو چکی تھی، جبکہ آپ کانوراقدس اصلاب طاہرہ، اورارحام مطہرہ میں ہوتا ہوا جب صلب جناب عبداللہ بن عبدالمطلب تک پہنچا توآپ کاظہور و شہود بشکل انسانی میں بطن حضرت ”آمنہ بنت وہب“ سے مکہ معظمہ میں ہوا۔ یعنی آپ صل اللہ علیہ و سلم کی پیدائش 12 ربیع الاول کو ہوئی اس ضمن میں ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ "یہ بھی کہا گیا ہے کہ 12 ربیع الاول کو آپ کی پیدائش ہوئی، اسی موقف کی صراحت ابن اسحاق نے کی ہے، اور ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب "المصنف” میں عفان سے انہوں نے سعید بن میناء سے انہوں نے جابر اور ابن عباس دونوں سے روایت کیا ہے، اور دونوں کہتے ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل بروز سوموار 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے، سوموار کے دن ہی آپ مبعوث ہوئے، اور اسی دن آپکو معراج کروائی گئی، اور اسی دن آپ نے ہجرت کی، اور اسی دن آپ فوت ہوئے، جمہور اہل علم کے ہاں یہی مشہور ہے.

اس سے قبل آنحضرت صل اللہ علیہ و سلم کی ولادت کے وقت حیرت انگیزواقعات کاظہور یعنی
آپ کی ولادت سے متعلق بہت سے ایسے امور رونما ہوئے جوحیرت انگیز ہیں۔ مثلاً آپ کی والدہ ماجدہ کو کبھی بارحمل محسوس نہیں ہوا اوروہ تولید کے وقت کثافتون سے پاک تھیں، آپ مختون اورناف بریدہ تھے آپ کے ظہورفرماتے ہی آپ کے جسم سے ایک ایسا نور ساطع ہواجس سے ساری دنیاروشن ہوگئی، آپ نے پیداہوتے ہی دونوں ہاتھ زمین پرٹیک اللہ کی بارگاہ میں سجدہ کیا۔ پھرآسمان کی طرف سربلندکرکے تکبیر کہی اورلاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاری کیا۔
(بروایت ابن واضح المتوفی ۲۹۲ ھء) شیطان کورجم کیاگیااوراس کاآسمان پرجانابندہوگیا، ستارے مسلسل ٹوٹنے لگے تمام دنیامیں ایسازلزلہ آیاکہ تمام دنیاکے غیراللہ کی عبادت کرنے کے مقامات منہدم ہوگئے ، جادواورکہانت کے ماہراپنی عقلیں کھوبیٹھے اوران کے موکل محبوس ہوگئے ایسے ستارے آسمان پرنکل آئے جنہیں کبھی کسی نے دیکھانہ تھا۔ ساوہ کی وہ جھیل جس کی پرستش کی جاتی تھی جوکاشان میں ہے وہ خشک ہوگئی ۔ وادی سماوہ جوشام میں ہے اورہزارسال سے خشک پڑی تھی اس میں پانی جاری ہوگیا، دجلہ میں اس قدرطغیانی ہوئی کہ اس کاپانی تمام علاقوں میں پھیل گیا محل کسری میں پانی بھر گیااورایسازلزلہ آیاکہ ایوان کسری کے ۱۴ کنگرے زمین پرگرپڑے اورطاق کسری شگافتہ ہوگیا، اورفارس کی وہ آگ جوایک ہزارسال سے مسلسل روشن تھی، فوراً بجھ گئی۔(تاریخ اشاعت اسلام دیوبندی ۲۱۸ طبع لاہور)
آپ صل اللہ علیہ و سلم کی پیدائش 12 ربیع الاول کو ہوئی اس ضمن میں ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ "یہ بھی کہا گیا ہے کہ 12 ربیع الاول کو آپ کی پیدائش ہوئی، اسی موقف کی صراحت ابن اسحاق نے کی ہے، اور ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب "المصنف” میں عفان سے انہوں نے سعید بن میناء سے انہوں نے جابر اور ابن عباس دونوں سے روایت کیا ہے، اور دونوں کہتے ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل بروز سوموار 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے، سوموار کے دن ہی آپ مبعوث ہوئے، اور اسی دن آپکو معراج کروائی گئی، اور اسی دن آپ نے ہجرت کی، اور اسی دن آپ فوت ہوئے، جمہور اہل علم کے ہاں یہی مشہور ہے”
جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آپکی وفات سوموار کو ہوئی، اور ابن قتیبہ سے جو نقل کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بدھ کے دن ہوئی تو یہ درست نہیں ہے، یہ ہو سکتا ہے کہ انکی مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین ہو، تو یہ درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین بدھ کے دن ہوئی۔
جبکہ وفات کے سال کے متعلق بھی کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ سن گیارہ ہجری میں ہوئی۔
اور ماہِ وفات کے بارے میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آپکی وفات بارہ ربیع الاول میں ہوئی.
ہمارے آخری نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم کی پوری حیات تمام جہانوں کے لیے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے. اللہ تعالیٰ نے آپ صل اللہ علیہ و سلم کو بےمثال خوبیوں و اوصاف کے ساتھ ساتھ مختلف معجزات سے نوازا تھا. آج ہم اس مبارک دن آپ صل اللہ علیہ و سلم کے چند مختلف اوقات میں پیش آنیوالے معجزات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہیں گے. جب ہم عمومی اصطلاح میں معجزات نبوی کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات ہیں. ویسے معجزہ کا کسی بھی نبی کی ذات سے وقوع ہونا اس نبی کا معجزہ کہلائے گا۔ یعنی کسی بھی نبی کی ذات سے صادر ہونے والا ایسا کام جو دوسروں کی عقل کو عاجز کر دے اور اس کا کوئی توڑ پیش نہ کیا جا سکے اور نہ ہی اس کا کوئی جواب دیا جا سکے دراصل معجزات (انبیا) کہلاتے ہیں ۔ یہاں معجزات نبوی سے مراد صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معجزات ہیں۔ ویسے جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو احادیث اور تاریخ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیدائش سے وصال تک بہت سے معجزات درج ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قلب مبارک کو فرشتوں نے کئی بار آب زم زم سے دھویا۔ اسے واقعہ شق صدر کہا جاتا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دائی حلیمہ سعدیہ جب مکے آ رہی تھیں تو ان کی اونٹنی سب سے رک رک کر چل رہا تھی. دائی حلیمہ کے شوہر کو ڈانٹتے کہ اونٹنی تیز چلاؤ۔ جب یہ قافلہ واپس آ رہا تھا اور محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم دائی حلیمہ کی گود میں تھے تو یہی دبلی اونٹنی سب سے آگے بھاگتی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی برکت سے دائی حلیمہ کے قبیلے بنو اسد میں جب یہ مبارک بچہ پہنچ گیا تو اس قبیلے کے جانوروں کے تھن ایسے ہو گئے جیسے جاگ گئے ہوں، برتن بھر بھر کر دودھ جیسے امڈنے لگا۔ دوسرے قبائل کے لوگ اپنے لڑکوں کو ڈانٹتے تھے کہ تم بھی وہیں جانور چراؤ جہاں اس گھرانے کے بچے چراتے ہیں، وہ لڑکے کہتے کہ وہیں تو چراتے ہیں لیکن دودھ اتنا نہیں نکلتا۔ انہیں کیا معلوم یہ کسی گھاس یا خوراک کی وجہ سے دودھ نہیں نکل رہا بلکہ یہ تو معجزہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن پاک ہے۔ جس میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ قرآن کے رموز و اسرار پر کتابیں ابھی تک لکھی جا رہی ہیں۔
علما کے مطابق قرآن کریم کی سورۃ القمر کی پہلی آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے معجزہ کا ذکر ہے۔ یعنی شق القمر( چاند کے دو ٹکڑے) کا ہے کفار کے مطالبے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کر دیے تھے۔( جس کی تصدیق عہد حاضر میں سائنس مختلف دریافتوں میں ہو چکی ہے)

اسی طرح مختلف روایات کے مطابق معراج کا سفر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک شاندار و بے مثال معجزہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم براق پرتشریف فرما ہوئے اور بیت المقدس پہنچے وہاں سب انبیاءعلیہم السلام کی امامت کی، پھر ساتوں آسمانوں کا سفر طے کیا. اس دوران جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو جنت و دوزخ کے مختلف حالات و نیک و بد لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق ملنے والی جزا و سزا کے واقعات سے روشناس کروایا. اس طرح معراج کی سیر اور ﷲ تعالی سے ملاقات کے بعد آپ صل اللہ علیہ و سلم زمین پر تشریف لے آئے۔ لوگوں نے پوچھا فلاں قافلہ جو مکہ اور بیت المقدس کے درمیان میں ہے کس جگہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جومقام بتایا قافلے نے واپسی پراس رات کو اسی مقام پر قیام کی تصدیق کر دی.
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مختلف مواقع پر کی گئیں الگ الگ پیشن گوئیاں بھی سچ ثابت ہوئیں ۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کعبۃاﷲ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے کہ ایک مسلمان نے اپنی کمر دکھائی جو کافروں کے تشدد کے باعث بری طرح جھلس کر زخمی ہو چکی تھی اس نے عرض کیا کہ ان کے لیے بد دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا کہ ﷲ تعالٰی کی قسم ایک وقت آئے گا کہ صنعا سے حضرموت (عرب کے دو کونے) تک سونے سے لدی پھندی ایک نوجوان عورت تن تنہا سفر کرے گی اور اسے سوائے خدا کے کسی کا خوف نہ ہوگا۔ سلیمان منصور پوری نے اپنی کتاب ”رحمة اللعالمین“ میں ایسی کئی روایات کو نقل کیا ہے جن میں کسی نوجوان خاتون کا ذکر کیا گیا ہے جو ایک شتر پر سوار ہو کر تن تنہا صنعا سے حضرموت تک گئی اور اس کے جسم پر سونے کے زیورات گویا لدے ہوئے تھے۔
ہجرت مدینہ کے سفر میں جب سراقہ بن مالک نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوآن گھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا سراقہ کیا حال ہوگا جب قیصر و قصرٰی کے کنگن تجھے پہنائے جائیں گے۔ دور فاروقی رضی تعالیٰ عنہ میں جب ایران فتح ہوا تو اس وقت کے بادشاہ لوگ اپنے ہاتھوں میں قیمتی دھاتوں کے کنگن پہنا کرتے تھے، اسی طرح کے کنگن ایران سے مدینہ لائے گئے تو حضرت عمر نے سراقہ بن مالک کو بلوا بھیجا. ان کے آنے پر اسے بادشاہ کے کنگن پہنائے گئے اور ان کے دونوں بازو کندھوں تک ان قیمتی کنگنوں سے بھر گئے۔
اسی سفر کے دوران میں جب آپ ام معبد کے خیمے میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سمیت پورے قافلے کو شدید بھوک لاحق تھی، اس خاتون کے ہاں ایک مریل بکری بندھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ہمیں کچھ کھانے کو دو تو اس نے عرض کی کچھ میسر ہوتا تو مانگنے کی نوبت نہ آتی، اس بکری کے بارے میں استفسار ہوا تو ام معبد نے کہا اس میں دودھ کا کیا سوال یہ تو چلنے کے قابل ہی نہیں کہ ریوڑ کے ساتھ جاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس بکری کی کمر پر اپنا دست مبارک پھیرا اور اس خیمے کا سب سے بڑا برتن لا کر اس میں دودھ دوہنا شروع کیا گیا۔ مریل بکری جو چلنے سے قاصر تھی دست نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے معجزے کے باعث اس کے تھنوں سے نکلنے والے دودھ سے وہ سب سے بڑا برتن لبالب بھر گیا۔
غزوہ احزاب جسے جنگ خندق بھی کہتے ہیں، اس جنگ سے قبل جب خندق کھودی جا رہی تھی توایک بہت بڑا اور سخت پتھر حائل ہو گیا، بہت زور لگایا گیا لیکن نہ ٹوٹا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اطلاع کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لائے اور کدال سے ایک ضرب لگائی، چنگاریاں نکلیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا روم فتح ہو گیا، پھر دوسری ضرب لگائی چنگاریاں نکلیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ایران فتح ہو گیا پھر تیسری ضرب لگائی اور چنگاریاں نکلیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا خدا کی قسم بحرین کے سرخ محلات میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ بعد میں آنے والے دنوں میں روم اور ایران تو بہت جلد فتح ہو گئے اور روم کے بھی متعدد علاقے زیر اسلام آ گئے صرف قسطنطنیہ کا شہر باقی رہ گیا۔ اس شہر کو فتح کرنے کے لیے اور نبی علیہ السلام کی پیشین گوئی پوری کرنے کے لیے کم و بیش چودہ بادشاہوں نے لشکر کشی کی اور آٹھ سو سال بعد قسطنطنیہ کا یہ شہر بھی اسلام کے زیر نگیں آ گیا اور سچے نبی کی پیشین گوئی پوری ہو گئی۔
غزوہ خندق کے موقع پر جب سب نے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے تو ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر گئے اور بکری کا بچہ ذبح کیا اور ساتھ ہی گھر والوں کو میسر آٹے سے روٹیاں پکانے کا کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس حاضر ہوئے اور کان مبارک میں عرض کی کہ سات آٹھ افراد کا کھانا تیار ہے تشریف لے آئیے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ساٹھ ستر افراد کے ساتھ پہنچ گئے۔ اس صحابی کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا تھالی ہٹائے بغیرسالن نکالتے رہو اور اوپر سے رومال ہٹائے بغیر روٹیاں نکالتے رہو اسی طرح اس سات آٹھ افراد کے کھانے کو ساٹھ ستر افراد نے سیر ہو کرتناول کیا اور مہمانوں کے چلے جانے پر پہلے جتنا کھانا پھر بھی باقی دھرا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں شفا تھی، غزوہ خیبر کے موقع پرجب حضرت علی رضی تعالٰی عنہ آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگا دیا اس کے بعد تا حیات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنکھوں کی تکلیف سے محفوظ رہے۔
جانوروں کی زبان سمجھ لینا بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ایک معجزہ تھا، جب کچھ لوگ شرف ملاقات کے لیے حاضر خدمت ہوئے تو ان کے اونٹ نے اپنا سر لمبا کر کے تو قدمین شریفین پر رکھ دیا اور اپنی زبان میں ڈکارا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ مجھ سے شکایت کر رہا ہے کہ تم اس سے کام بہت لیتے ہو کھانے کو کم دیتے ہو اور تشدد بھی کرتے ہو۔ وہ لوگ کم و بیش دوماہ بعد اس اونٹ کو پھر لائے اور خدمت اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں پیش کرکے عرض کی اس دوران میں ہم نے اس سے کوئی کام نہیں لیا اور صرف کھلایا پلایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کی صحت دیکھ لیں اور اجازت ہو تو ہم اس سے کام لینا شروع کر دیں۔(اس سے ہمیں یہ بھی علم ہوتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی ص جانوروں کے بھی کتنے ہمدرد و پرسان حال تھے)

ایک دن حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ عنہ اپنے گھر میں آئے اور اپنی بیوی حضرت اُمِ سلیم رضی اﷲ عنہا سے کہا کہ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ میں نے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی کمزور آواز سے یہ محسوس کیا کہ آپ بھو کے ہیں۔ اُمِ سلیم رضی اﷲ عنہا نے جو کی چند روٹیاں دوپٹے میں لپیٹ کردی جو انہوں نے حضرت انس رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ آپ کی خدمت میں بھیج دیں۔ حضرت انس رضی اﷲ عنہ جب بارگاہِ نبوت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ابو طلحہ نے تمہارے ہاتھ کھانا بھیجا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ” جی ہاں ” یہ سن کر آپ اپنے اصحاب کے ساتھ اٹھے اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لائے۔ حضرت انس رضی اﷲ عنہ نے دوڑ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس بات کی خبردی، انہوں نے بی بی اُمِ سلیم سے کہا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم ایک جماعت کے ساتھ ہمارے گھر پر تشریف لا رہے ہیں۔ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ عنہ نے مکان سے نکل کر نہایت ہی گرم جوشی کے ساتھ آپ کا استقبال کیا آپ نے تشریف لاکر حضرت بی بی اُمِ سلیم رضی اﷲ عنہا سے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو لاؤ ۔ انہوں نے وہی چند روٹیاں پیش کر دیں جن کو حضرت انس رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ بارگاہ رسالت میں بھیجا تھا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان روٹیوں کا چورہ بنایا گیا اور حضرت بی بی اُمِ سلیم رضی اللہ عنہا نے اس چورہ پر بطور سالن کے گھی ڈال دیا، ان چند روٹیوں میں آپ کے معجزانہ تصرفات سے اس قدر برکت ہوئی کہ آپ دس دس آدمیوں کو مکان کے اندر بلا بلا کر کھلاتے رہے اور وہ لوگ خوب شکم سیر ہو کر کھاتے اور جاتے رہے یہاں تک کہ ستر یا اسی آدمیوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھا لیا.
معجزات نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﷲ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﻤﺎ
ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ
ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ
ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﭘﻐﻤﺒﺮ ﮨﯿﮟ؟ ﺁﭖ ﻧﮯ
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺧﻮﺷﮧ ﻟﭩﮏ
ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻼﻭٔﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺒﻮﺕ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ
ﻻﻭٔ ﮔﮯ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﺎﮞ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ
ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺿﺮﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﻣﺎﻥ
ﻟﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺧﻮﺷﮧ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﻓﻮﺭﺍً ﮨﯽ ﭼﻞ ﮐﺮ ﺩﺭﺧﺖ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁ
ﮐﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﺭﺧﺖ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ پوست ﮨﻮ ﮐﯿﺎ۔ ﯾﮧ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﯾﮑﮫ
ﮐﺮ ﻭﮦ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﻓﻮﺭﺍ ً ﮨﯽ ﺩﺍﻣﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺍٓﮔﯿﺎ ۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﷲ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨہ ﻧﮯ
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ﺻلہ اللہ ﻋﻠﯿﮧ
ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﺁﭖ
ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ، ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼ،
ﺍﺱ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ کہ ﺁﭖ ص ﮐﯽ ﻧﺒﻮﺕ ﭘﺮ
ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻮﺍﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ؟ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮨﺎﮞ ﯾﮧ ﺩﺭﺧﺖ ﺟﻮ میدان
ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﮨﮯ یہ ﻧﺒﻮﺕ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﮮ ﮔﺎ۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ
ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻓﻮﺭﺍً ﮨﯽ ﺯﻣﯿﻦ کو چیرتا ﮨﻮﺍ ﺍپنی ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﭼﻞ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺍﻗﺪﺱ میں ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮا،ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮧ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﻠﻨﺪ تین ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﺒﻮﺕ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯼ۔ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺯﻣﯿﻦ پہ ﭼﻠﺘﺎ
ﮨﻮﺍ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﺤﺪﺙ ﺑﺰﺍﺭﻭ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﯿﻘﺎ ﻭ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﻐﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ
میں ﯾﮧ بھی ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ
ﻧﮯ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺍﻗﺪﺱ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮐﺮ ﺍَﻟﺴَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳَﺎ ﺭَﺳُﻮْﻝَ
ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮩﺎ، ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﯾﮧ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ
ﮨﻮﮔیا ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺵِ ﻋﻘیدت ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐیا ﮐﮧ
ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ! ( ﺻﻠﯽ ﷲ علیہ ﻭﺳﻠﻢ ) ﻣﺠﮭﮯ
ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﺠﺌﮯ ﮐﮧ میں ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻭﮞ۔ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ
ﺍﻟﻠﮧ علیہ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣیں
ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎﺣﮑﻢ
ﺩﯾﺘﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ
ﺷﻮﮨﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ کیا ﮐﺮﯾﮟ۔ ﯾﮧ ﻓﺮﻣﺎ ﮐﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ
ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﻋﺮﺽکیا ﮐﮧ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ! ( ﺻﻠﯽ ﷲ علیہ
ﻭﺳﻠﻢ ) ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺖ
ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺪﺱ ﭘﺎﻭٔﮞ ﮐﻮ ﺑﻮﺳﮧ ﺩﻭﮞ۔ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ
ﺗﻌﺎﻟﯽٰ علیہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﮮ
ﺩﯼ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻘﺪﺱ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﻣﺒﺎﺭﮎ
ﭘﺎﻭٔﮞ ﻭﺍﻟﮩﺎﻧﮧ عقیدت ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻮﻡ لیے.
(ﺯﺭﻗﺎﻧﯽ ﺟﻠﺪ ۵ ﺹ ۱۲۸ ﺗﺎﺹ ۱۳۱)
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺎﺑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮩﺘﮯ
ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﻗﺪﺱ ﺻﻠﯽ
ﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺳﺘﻨﺠﺎﺀ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ کہیں ﮐﻮﺋﯽ ﺁﮌ ﮐﯽ
ﺟﮕﮧ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﮨﺎﮞ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ
ﺩﺭﺧﺖ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻭﺭﯼ ﭘﺮ
ﺗﮭﮯ۔ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ
ﮐﯽ ﺷﺎﺥ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺍﺱ
ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﮩﺎﺭ
ﻭﺍﻻ ﺍﻭﻧﭧ ﻣﮩﺎﺭ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠیہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ
ﺩﺭﺧﺖ ﮐﯽ ﭨﮩﻨﯽ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﭼﻞ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺩﺭﺧﺖ ﺍﯾﮏ
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﮌ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ
ﺣﺎﺟﺖ ﺭﻓﻊ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ
ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺩﺭﺧﺖ زمین چیرﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ
ﺟﺎ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ.
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻧﺲ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﮟ ﮐﮧ ﺩﻭ
ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺍُﺳﺪﮮ ﺑﻦ ﺣﻀﺮﮒ ﺍﻭﺭ ﻋﺒﺎﺩﺑﻦ ﺑﺸﺮ
ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﯼ ﺭﺍﺕ میں ﺑﮩﺖ ﺩﯾﺮ
ﺗﮏ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ علیہ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ
ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ
ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ لیے ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﭼﮭﮍﯼ ﻧﺎﮔﮩﺎﮞ
ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﺭﻭﺷﻦ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺳﯽ ﭼﮭﮍﯼ
ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ میں ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺟﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﻭﺭ ﭼﻞ
ﮐﺮﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﮨﻮ گیا ﺗﻮ
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﭼﮭﮍﯼ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺷﻦ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ
ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﮍﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮯ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺳﺨﺖ
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﯼ ﺭﺍﺕ میں ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ.
(ﻣﺸﮑﻮٰﺓ ﺟﻠﺪ ۲ ﺹ ۵۴۴ ﻭ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺟﻠﺪ ۱ ﺹ ۵۳۷)
ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ سعید ﺧﺪﺭﯼ
ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ
ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻗﺘﺎﺩﮦ ﺑﻦ ﻧﻌﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ
ﻧﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ علیہ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﻋﺸﺎﺀ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯽ ﺭﺍﺕ ﺳﺨﺖ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ
ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﮔﮭﻨﮕﮭﻮﺭ ﮔﮭﭩﺎ ﭼﮭﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﻮﻗﺖ
ﺭﻭﺍﻧﮕﯽ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ علیہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ
ﺩﺳﺖ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﮯ ﺍنہیں ﺩﺭﺧﺖ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺥ ﻋﻄﺎ
ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺑﻼﺧﻮﻑ ﻭ ﺧﻄﺮ
ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻭٔ ﯾﮧ ﺷﺎﺥ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮫ میں ﺍیسی ﺭﻭﺷﻦ
ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﺩﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺁﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺱ
ﺁﺩﻣﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ پیچھے ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ میں ﭼﻞ
سکیں ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺗﻢ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻟﯽ چیز
ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮔﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﻨﺎ۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺍﮐﮧ ﺟﻮﮞ ﮨﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻗﺘﺎﺩﮦ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﺎﺷﺎﻧﮧٔ ﻧﺒﻮﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﻭﮦ ﺷﺎﺥ
ﺭﻭﺷﻦ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ میں ﭼﻞ ﮐﺮ
ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻟﯽ
چیز ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﻧﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ
ﮐﻮ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ۔

ﺟﻨﮓِ ﺑﺪﺭ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﮑﺎﺷﮧ ﺑﻦ ﻣﺤﺼﻦ ﺭﺿﯽ
ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﻮﺭِ ﺍﻗﺪﺱ
ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ علیہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ
ﮐﯽ ﭨﮩﻨﯽ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ” ﺗﻢ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﻭ ”
ﻭﮦ ﭨﮩﻨﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ میں ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻧﻔﺴﻮ
ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﺗﻤﺎﻡ
ﻟﮍﺍئیوں میں استعمال ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ
ﺍمیر المومنین ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ
ﺩﻭﺭ ﺧﻼﻓﺖ میں ﻭﮦ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﺳﺮﻓﺮﺍﺯ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﷲ ﺑﻦ ﺟﺤﺶ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ
ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺟﻨﮓِ ﺍُﺣﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ
ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﷲ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ علیہ
ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﯽ ﺷﺎﺥ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﮧ ” ﺗﻢ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻟﮍﻭ ” ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﷲ ﺑﻦ
ﺟﺤﺶ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ میں ﺁﺗﮯ ﮨﯽ
ﺍﯾﮏ ﺑَﺮّﺍﻕ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﷲ ﺑﻦ ﺟﺤﺶ
ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ” ﻋﺮﺟﻮﻥ
” ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﺑﻨﻮ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺗﮏ
ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﯽ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺧﻠیفا ﻣﻌﺘﺼﻢ ﺑﺎﷲ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ
ﺍﻣﺮﮦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﻮ ﺑﺎﺋیس ﺩﯾﻨﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺍﻭﺭ
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﮑﺎﺷﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﺎ
ﻧﺎﻡ ” ﻋﻮﻥ ” ﺗﮭﺎ، ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ
ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﮩﺶ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ
ﺗﺼﺮﻓﺎﺕ ﮐﯽ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ تھیں.
اسی طرح مسجد ﻧﺒﻮﯼ میں ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻨﺒﺮ نہیں ﺗﮭﺎ، ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﮯ ﺗﻨﺎ ﮐﺎ اﯾﮏ ﺳﺘﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﯽ ﺳﮯ ٹیک ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺁﭖ صل اللہ علیہ و سلم ﺧﻄﺒﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﺭﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺒﺮ ﺑﻨﻮﺍ ﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺧﻄﺒﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻧﺎﮔﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﺳﺘﻮﻥ ﺳﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﯽ
ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻭﻧﭩﻮ ﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﺑﻠﺒﻼﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ۔ﯾﮧ ﺭﺍﻭﯾﺎﻥِ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ
ﺫﻭﻕ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﺸﺒﯿﮩﯿﮟ ھیں
ﺭﺍﻭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﺩ ﻓﺮﺍﻕ ﺳﮯ ﺑﻠﺒﻼ ﮐﺮ
ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﺘﻮﻥ ﺯﺍﺭ ﺯﺍﺭ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ
ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ میں ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺘﻮﻥ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺯﻭﺭ
ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻗﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﻮﺵ ﮔﺮﯾﮧ ﺳﮯ
ﭘﮭﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ
ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺼﻠﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ۔ ﺳﺘﻮﻥ ﮐﯽ
ﮔﺮﯾﮧ ﻭ ﺯﺍﺭﯼ ﮐﻮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﺭﺣﻤۃٌ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤین ﺻﻠﯽ
ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﮩﮟ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﻨﺒﺮ ﺳﮯ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ
ﺳﺘﻮﻥ ﭘﺮ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻘﺪﺱ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮫ
ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ سینے ﺳﮯ ﻟﮕﺎ لیا ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﺘﻮﻥ
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ہچکیاں ﻟﮯ ﻟﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ
ﺭﻭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺟﺐ ﭼﭗ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ
ہچکیاں ﻟﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺟﺐ ﺁﭖ ﻧﮯ
ﺳﺘﻮﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ سینے ﺳﮯ ﭼﻤﭩﺎ لیا ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﮑﻮﻥ ﭘﺎ
ﮐﺮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔیا ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﺳﺘﻮﻥ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺭﻭﻧﺎ ﺍﺱ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ
ﺫﮐﺮ ﺳﻨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺏ ﺟﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔
ایک دوسرے مقام پر ﺣﻀﺮﺕ ﺑﺮﯾﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺚﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺭﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭِ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﷲ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﺘﻮﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻨﮩﺞ ﺳﮯﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺳﺘﻮﻥ ! ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ میں
ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺗیری ﭘﮩﻠﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ
ﺩﻭﮞ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﺮﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﺩﺭﺧﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﺍﻭﺭ ﮨﻤیشہ ﭘﮭﻠﺘﺎ ﭘﮭﻮﻟﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﺮ ﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﻮ
ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺑﺎﻍ ﺑﮩﺸﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﻨﮯ
ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ
ﮐﮯ ﺍﻭلیاﺀ ﺗیرا ﭘﮭﻞ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﺭﮨیں ۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺳﺘﻮﻥ
ﻧﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﮐﮯ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻦلیا. ﺳﺘﻮﻥ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﺎ
ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ! ( ﺻﻠﯽ ﷲ علیہ ﻭﺳﻠﻢ ) ﻣیری
ﯾﮧ ﺗﻤﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ میں ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ
ﺟﺎؤں ﺗﺎ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺍولیاء میرا ﭘﮭﻞ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﺭہیں ﺍﻭﺭ
ﻣﺠﮭﮯ حیات ﺟﺎﻭﺩﺍﻧﯽ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ
علیہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺳﺘﻮﻥ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﺗﺮﯼ ﺍﺱ ﺁﺭﺯﻭ ﮐﻮ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮐﺮ لیا ۔ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ سامعین
ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻟﻮﮔﻮ ! ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺍﺱ
ﺳﺘﻮﻥ ﻧﮯ ﺩﺍﺭﺍﻟﻔﻨﺎﺀ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﭨﮭﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺩﺍﺭﺍﻟﺒﻘﺎﺀ
ﮐﯽ حیات ﮐﻮ ﺍﺧﺘﺎﺭﺭ ﮐﺮ لیا ۔
(ﺷﻔﺎﺀ ﺷﺮﻳﻒ ﺟﻠﺪ۱ﺹ ۲۰۰)
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ
ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺳﺘﻮﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﻨﮧ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺟﺲ
ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮧٔ ﻗﺪﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ
ﺳﺘﻮﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮧ ﭼﻤﭩﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ
ﺭﻭﺗﺎ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ۔
دیکھیں تو لکڑی کے ستونوں، جانوروں، پتھروں پہاڑوں، غرض کائنات کی مختلف چیزوں کو اللہ کے پیارے نبی محمد صل اللہ علیہ و سلم سے انسیت و سچی محبت ہے. لیکن افسوس صد افسوس کہ آج ہم لوگ جو اس نبی صل اللہ علیہ و سلم کی آخری امت ہیں آپ (ص) سے بے پناہ محبت کے دعوے کرتے نہیں تھکتے، لیکن اپنی روزانہ زندگی میں ہم لوگ اکثر اللہ کے رسول کی سنتوں کی جس قدر اندیکھی اور ان کے بتائے ہوئے احکام کو جس قدر نظر انداز کرتے ہیں وہ یقیناً ہم سب کے لیے لمحہ ء فکریہ اور تشویش کا مقام ہے آج پوری دنیا میں ہم مسلمان لوگ جس طرح سے دنیا کی مختلف قوموں کے ہاتھوں ظلم و تشدد کارروائیوں شکار ہو رہے ہیں اور جس طرح سے ایک کے ایک بعد ظالم حکمران ہمارے اوپر مسلط ہو رہے ہیں اس میں یقیناً ہمارے اعمال کو خاص دخل ہے کیونکہ آسمان والے کے فیصلے بھی زمین والوں کے اعمال کے مطابق ہی طے ہوتے ہیں. اگر ہم لوگوں نے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر نی ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم لوگ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور قرآن حدیث کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارتے اللہ کے نبی کی ہر ہر سنت پہ عمل کریں یقیناً اسی میں ہم سب کی فلاح و کامیابی کا راز پوشیدہ ہے. اللہ ہم سب کو اپنے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے… آمین…

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close