ہندوستان

پی جی اسٹوری: وہاں میری پہلی رات تھی مجھے ملی ہم جنس پرست روم پارٹنر

مجھے ملی ہم جنس پرست روم پارٹنریہ کہانی 37 سال کی مہما (نام بدلا ہوا) کی ہے وہ 21 سال کی عمر میں بھلائی سے مدھیہ پردیش پڑھائی کرنے گئیں ۔ان سالوں میں انہوں نے زندگی کو خوب اچھے سے گزارا اور ایسے تجربے حاصل کئے جنہوں نے ان کی سمجھ کے دائرے میں اضافہ کیا ۔واضح ہو کہ مہیما این جی او سے جڑی ہیں۔

پی جی میں میری پہلی رات تھی ۔دیر شام پہنچی اس لئے رات بھر کیلئے دو لڑکیوں کے کمرے میں ڈال دیا گیا تھا۔وہ پہلے سے ساتھ رہ رہی تھیں ۔ڈنر تک خاموش رہی ۔کمرے میں ان کے ساتھ ہی لوٹی۔سونے کا بندو بست کرتے ہوئے وہ میرے بارے میں پوچھنے لگیں ۔ایک کے اندر جیسے ہمدردی جاگ اٹھی۔ہاسٹل کے بارے میں بتانے لگی ،باتھروم سے لیکر ڈائننگ تک کا اسٹرکچر بتایا ۔پھر وہ دونوں اپنی بات چیت میں بے رنگ ہونے لگیں۔ان میں سے ایک بول پڑی ۔ارے ہاں ، اسے "اس کے ” بارے میں بھی بتا دینا ورنہ بیچاری پھنس جائے گی۔

باہر کی دنیا کی باتیں سن کر میرا من کانپنے لگا۔میں ڈر سی گئی۔ایک نے تسلی دی ۔کچھ نہیں ہوگا ،تو منع کر دینا ۔اگلی صبح ہی کمرا شفٹ کرنا تھا مجھے وارڈن سے ‘اس خاص’ لرکی کے ساتھ کمرہ نہ دیں۔

میرا من تو لڑکے لڑکیوں کے ایک دوسرے کو پسند کرنے کو بھی گناہ مانتا تھا ۔سمجھ نہیں پا رہی تھی کیسے لڑکی کو لڑکیاں اچھی لگ سکتی ہیں۔صبح نیند کھلی روم میں کئی چہرے تھے جو مجھے دیکھ رہے تھے۔تبھی آواز آئی اٹھ جاؤ ورنہ ناشتہ نہیں ملے گا

ڈائننگ ہال میں جاکر لگا کپڑوں کی بنیاد پر لڑکیوں کا گروپ بنا ہوا ہے۔جینس والی لڑکیاں الگ،لمبی اسکرٹ والی الگ اور شلوار کرتے والی الگ۔میں تیسرے گروپ میں آتی تھی۔تینوں گروپ سے الگ ایک چہرہ تھا جو ہر ایک کے پاس جا رہا تھا ۔چھوٹے کٹے بال اور جینس میں وہ چہرہ الگ ہی کشش رکھتا تھا ۔کسی نے آہستہ سے کہا ۔یہی ہے وہ ۔۔۔جس کے ساتھ تمہیں نہیں رہنا ہے۔

وارڈن نے بلایا ،معلوم ہوا کہ کافی سارے کمرے خالی ہیں۔اپنی پسند ظاہر کر سکتے ہیں۔اس سے پہلے وہ مجھ پر کمرہ تھوپتیں ،میں نے چٹ سے کہا کہ میں اسی کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔

وارڈن میرا منھ دیکھ رہی تھی ساتھ میں کچھ اور لڑکیاں بھی تھیں،وارڈن نے پوچھا میں اسے کیسے جانتی ہوں۔میں نے کہا کہ ڈائننگ ہال میں ملاقات ہوئی تھی۔وہ سب سے ؤخر مین شلوار ۔قمیض گروپ میں ڈائننگ ہال میں آئی تھی۔مین ملی اس نے بھی ساتھ رہنے کو ہاں کر دی۔وہ سب مجھے شک کی نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہے ۔چہروں پر صاف تھا ۔۔۔دکھتی تو اتنی سیدھی ہے لیکن۔۔۔۔

ہم کمرے میں پہنچے اس نے تیزی سے دروازہ بند کیا۔میرادل گلے میں اٹکا ہوا تھا لیکن جو اطیمنان دے رہا تھا وہ یہ تھا کہ اس کے ساتھ رہ کر اسے بدل دینے کا۔میں نے سوشل ۔ورک کے ارادے سے اس کے ساتھ رہنا منتکب کیا تھا۔میری تہذیب مجھے اکسا رہی تھی کہ میں اسے اپنی طرح نارمل لڑکی بناؤں جو لڑکوں سے پیار کرے۔

وہ تسلی سے بستر پر بیٹھی مجھے دیکھ رہی تھی اور میںکونے میں بیٹھ ےاپنے سامان کو ۔اس نےکہا سامان کھلو کر سامان جما لو اگر یہیں رہنا ہے تو ۔مدد کرتے ہوئے بیچ میں اس کا ہاتھ میرے ہاتھ سے ٹچ ہوتا میں ہل جاتی۔دن کے اجالے میں یہ حال تھا تو رات کو کیا ہوگا میں سوچ میں پڑ جاتی۔ایک لڑکی کے ساتھ اکیلے ہونے پر شاید ایسی لڑکیاں شیر ۔چیتے میں بدل جاتی ہوں۔

اگلی صبح ساتھ گھومے ساتھ بہت ساری باتیں کیں۔میں اس کی کلاس میٹ بھی بن گئی کلاس کی باتیں کیں۔اس کو سدھارنے کی جو سوچ تھی وہ ابھی خاموش تھی کیونکہ ابھی اس کے اندر وہ علامات نظر آنا باقی تھیں۔

رات میں ساتھ مل کر پڑتھے ہوئے وہ میرا ہاتھ پکڑتی ،میری پیٹھ پر عجیب طرح سے ہاتھ پھیرتی پھر ایک دن ایسا ہوا کہ باتوں ہی باتوں میں اس نے مجھے ہونٹوں پر کس (بوسہ) کر لیا۔

میں خاموش ۔منھ سے چوں نہ نکلا ،میرا چہرہ اتنا سپاٹ رہا کہ اس کے بعد اس نے نہ کچھ کہا نہ کیا۔دوسری رات ہم پھر پڑھنے بیٹھے۔اب کی اس نے ہی پوچھا تم ٹھیک ہو نا! میں روپڑنے کو تھی لیکن سماج سیوا کا کیرا بیدار ہوگیا۔بغیر اس کے پوچھے میں اسے بتایا کہ پی جی کی ساری لڑکیاں اس کے بارے میں کیا کہتی ہیں۔اس نے خاموشی سے سنا اور الٹے مجھ سے پوچھا میں نے اس کے ساتھ رہنا کیوں چنا۔سدھار لفظ میرے حلق میں اٹکا ہوا تھا لیکن باہر نہیں آسکا۔۔اچھا ہی رہا میری خاموشی کے بعد اس نے اپنی بات کہی۔۔

۔’ اس ‘ نے کہا کیا ہوا جو اسے لڑکیاں پسند تھیں ، لڑکے نہیں! آسان ہوتا ہے جنس مخالف کو اپروچ کرنا۔لیکن مشکل ہوتا ہے یہ کہنا کہ ہاں میں میں ہم جنس پرست ہوں اس کی پسند اور رائے صاف تھی ۔اسے خود کی طرح نارمل بنانے کا میرا خواب اب مجھے بچکانہ لگ رہا تھا۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close