بہارپٹنہ

چراغ پاسوان کی نتیش کمار سے ملاقات،جموئی سے ہی لڑیںگے انتخاب

پٹنہ: راشٹریہ لوک سمتا پارٹی ( آر ایل ایس پی ) کے قومی صدر اپندر کشواہا کا جنتادل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو ) کے قومی صدر نتیش کمار سے چل رہی ناراضگی کے مابین لوک جن شکتی پارٹی ( ایل جے پی ) پارلیمانی بورڈ کے صدر چراغ پاسوان کا آج مسٹر کمار سے ملاقات کرنا بہار قومی جمہوری اتحاد ( این ڈی اے ) میں سیاست کے مد نظر کافی اہمیت کا حامل مانا جارہا ہے ۔جموئی سے ممبر پارلیمنٹ اور ایل جے پی پارلیمانی بورڈ کے صدر مسٹر پاسوان نے یہاں وزیراعلیٰ نتیش کمار کے سات سرکلر روڈ واقع رہائشی دفتر پہنچے ۔ مسٹر کمار سے ملاقات کے دوران جے ڈی یو کے قومی نائب صدر پرشانت کشوربھی موجود تھے ۔مسٹر کمار اور مسٹر کشور سے ملاقات کے دوران سابق وزیر نریندر سنگھ کے بیٹے اور سابق ایم ایل اے سومت سنگھ بھی موجود تھے ۔مسٹر کشور نے مسٹر پاسوان اور مسٹر سنگھ سے ملاقات کروائی اور پہلے سے چل رہے تمام گلے شکوے دور کرائے ۔مسٹرکمار سے ملاقات کے بعد مسٹر پاسوان نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہاکہ مسٹر کشواہا کے این ڈی اے میں رہتے ہوئے اپوزیشن کے لیڈران سے ملنا ٹھیک نہیں ہے ۔ مسٹر کشواہا کو کوئی بھی بیان دینے سے قبل آپس میں بیٹھ کر بات کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ مسٹر کشواہا نے کچھ غلطی کی ہے اور ابھی ان کا ون وے ٹریفک چل رہاہے ۔ انہوں نے ( مسٹر کشواہا ) جو بھی باتیں کہی ہیں انہیں ان ساری باتوں کو عام نہیں کرنا چاہئے تھا۔مسٹر پاسوان نے کہاکہ وہ لوک سبھا انتخاب اپنے پارلیمانی حلقہ جموئی سے ہی لڑیں گے۔ مسٹر کمار سے چھٹھ تہوار کے مد نظر ملنے آئے تھے ۔ لیکن یہ اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت سابق وزیر نریندر سنگھ کے بیٹے سومت سنگھ بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ مسٹر سنگھ کے اہل خانہ سے ان کا کوئی تنازعہ نہیں تھا۔اس سے قبل دہلی سے یہاں لوٹے آر ایل ایس پی کے صدر اور مرکزی وزیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل مسٹر کشواہا نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہاکہ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے انہیں ملنے کا وقت نہیں دیا اور اس کے پیچھے کیا مجبوری ہے یہ ان کی سمجھ سے باہر ہے ۔ انہوں نے ایل جے پی ممبر پارلیمنٹ مسٹر پاسوان کے بیان پر کہاکہ وہ بہتر سیاست کرتے ہیں اور انہیں کسی سے یہ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
واضح رہے کہ آر ایل ایس پی صدر مسٹر کشواہا مسلسل وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں ۔ وہ مسٹر کمار کے ان کے لئے مبینہ ” نیچ “ لفظ کا استعمال کئے جانے اور آر ایل ایس پی کے دو ممبران اسمبلی کے پارٹی بدل کر جے ڈی یو میں شامل ہونے کی اٹکلوں کو لیکر وزیراعلیٰ کے خلاف لگاتار حملہ کررہے ہیں۔آر ایل ایس پی ممبران اسمبلی کے پارٹی بدلنے کی اٹکلیں ایسے وقت میں آرہی ہیں جب کچھ دنوں سے بہار این ڈی اے میں آئندہ سال ہونے والے لوک سبھا انتخاب کے مد نظر سیٹوں کی تقسیم کے فیصلے پر مسٹر کشواہا اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔سال 2015 کے بہار اسمبلی انتخاب میں آر ایل ایس پی نے این ڈی اے اتحاد کے ساتھ کل 23 سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا جس میں اسے دو سیٹوں پر فتح ملی تھی ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close