اتر پردیشہندوستان

چھ رورزہ ورکشاپ ’’نئی روشنی ‘‘ کا ہوا اختتام

لکھنؤ:اقلیتی امور وزارت حکومت ہندکی جانب سے منعقد اقلیتی خواتین میں قیادت کی ترقی کے مقصد سے چلائی جارہی ہے نئی روشنی اسکیم کے تحت نیشنل انٹری گیشن اینڈ ایجوکیشنل سوسائٹی کی جانب سے منعقد چھ روزہ ورکشاپ ریڈینس انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹراپلیکیشن (ریکا)میں آج اختتام پذیر ہوئی ورکشاپ کے اختتام پر مہمان خصوصی کے طورپر آئے سول ڈفنس لکھنؤ کے ڈپٹی ڈیویژنل وارڈن اور صدر جمہوریہ کی جانب سے شہری تحفظ اعزاز سے نوازے گئے رپورٹرمسٹر جمشید رحمان نے سبھی طلباء کو 600روپئے کے چیک تقسیم کئے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین میں سماج کے تئیں حصہ داری اور قیادت کی صلاحیت کو بڑھانا چاہئے۔انھوں نے کہا کہ خواتین میں ناخواندگی ہونے کے سبب وہ محروم رہ جاتی ہیں اس لیے ہر خاتون کو تعلیم یافتہ اور بیدار ہونا چاہیے جس سے وہ صرف اپنا ہی نہیں بلکہ سماج کا بھی بھلا کرسکیںکسی بھی کام کی تعمیر و ترقی میں خواتین کا اہم کردار ہوتا ہے اور تعلیم یافتہ سماج کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر عاطف جاوید نے کی انھوں نے کہا کہ نیشنل انٹی گریشن اور ایجوکیشنل سوسائٹی کے ذریعہ منعقد نئی روشنی پروگرام سے پورا صوبہ روشن ہوگا انھوںنے کہا کہ خواتین خود کفیل بنیں اور سبھی میدانوں میں اپنی حصہ داری میں اضافہ کریں ، پروگرام میں شریک ایف ایم ریمبو کے آر جے جمشید صدیقی نے ارونما سنہا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک پیر نقلی ہونے کے باوجود دنیا کی سب سے اونچے پہاڑ کی چوٹی ایوریسٹ کو فتح کرنے والی پہلی خاتون بنیں اور خواتین تفویض اختیارات کا ایک بہترین نمونہ پیش کیا۔ پروگرام میں آئے مسٹر مشیر حسن سابق انچارج خزانہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ جو بھی آپ نے ورکشاپ میں سیکھا ہے اسے اپنی زندگی میں برتیں ، ورکشاپ کے اختتام پر بولتے ہوئے ادارہ کے خازن مسٹر نظر مہدی نے کہا تعلیم یافتہ خواتین گھر کے لیے روشنی اور اسی طرز پر خواتین کو خود دار بنانے کے مقصد سے حکومت کے ذریعہ چلائی گئی اسکیم سے کواتین کو واقف کرایا گیا مسٹر مہدی نے بتایا کہ اس پروگرام میں خواتین کو صحت اور شفافیت دوست مالیات زندگی کوشل ڈیجیٹل تعلیم خواتین کے قانونی حقوق تفویض اختیارات اس پروگرام میں حصہ لینے والی سبھی خواتین کی حوصلہ افزائی ہوئی اور خواتین کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا ادارہ کے ذریعہ مفت کمپیوٹر تعلیم فراہم کرائی جائے تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close