شخصیات

ڈاکٹر راجندر پرساد کثیرالجہات شخصیت کے حامل تھے

آنجہانی ڈاکٹر راجندر پرساد سنگھ کی 134ویں یوم ولادت پر خراج عقیدت

ریاست بہار سیوان ضلع کے زیرہ دیئی گاؤں کے متوسط گھرانہ میں 3 دسمبر 1884ء کو پیدا ہوئے اوبڑے ہی ناز ونعم میں آپ کی پرورش و پرداخت ہوئی بچپن سے ہی نہایت ذہین اور سنجیدہ تھے
آپ نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز ایک مولوی صاحب کے یہاں کیا اور اردو,فارسی,عربی زبان سے تعلیم شروع کی ابتدائی تعلیم سے لے کر انٹرمیڈیٹ تک فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی, گریجویشن میں اختیاری مضمون ہندی کا انتخاب کیا.
اردو,فارسی,انگریزی,بنگالی زبان پر دسترس اور مہارت حاصل تھی اور ان زبانوں میں بڑی فصیح و بلیغ انداز میں اپنے ما فی ضمیر کی ادائیگی بھی کرتے تھے.
اعلی تعلیم کے حصول کے بعد وکالت کی تعلیم مکمل کی. لکھنے پڑھنے کا شوق تو بچپن سے ہی تھا اور آج بھی ان کی ذہانت,سنجیدگی,یکسوئی کی مثال دی جاتی ہے.
ڈاکٹر راجندر پرساد دروازہ پر بیٹھ کر کتابوں کے مطالعہ میں منہمک تھے اسی درمیان کوئی بارات ڈھول باجے کے ساتھ ادھر سے گزرا اور کچھ دیر بعد کسی نے آکر پوچھا کہ ادھر سے کوئی بارات گزری ہے آپ نے کہا کہ ہم کو معلوم نہیں اس قدر تعلیم میں منہمک اور مصروفیت اب تو عنقاء کے مانند ہے اب تو ہمارے یہاں جو نظام تعلیم اور دستور تعلیم ہے وہ یی ہے سب نظارے دیکھتے رہو اور پڑھائی بھی کرتے رہو.
آپ نے مختلف اخبارات کے لیے مضامین و مقالہ پابندی کے ساتھ لکھے اور کئی اخبارات کی ادارت بھی کی آپ نے کئی کتابیں تصنیف کیں جس میں اپنی آتم کتھا 1946 اور ستیہ گرہ ایٹ چمپارن1922 قابل ذکر ہیں اور نہایت مقبول بھی ہیں
آپ قومی کانگریس پارٹی کے نہایت فعال متحرک رکن تھے اور نیتاجی سبھاش چندر بوس کے استعفی کے بعد دوبارہ پارٹی
کے قومی صدر بنائے گئے.
1917ء میں گاندھی جی کے ساتھ چمپارن آئے اور ستیہ گرہ تحریک کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ملک کی آزادی کے لیے چلائی جارہی دیگر تحریکوں میں بھی حصہ لیا اور نمایاں کاردگی کا مظاہرہ کیا.گاندھی جی کے ہم خیال اور ان کے نقش قدم کے مطابق بڑی سادگی و سنجیدگی کے ساتھ زندگی گزارا.
26 جنوری 1950ء میں ملک کے پہلے صدر جمہوریہ منتخب ہوئے اور لگ بھگ 13 سالوں تک اس عہدہ پر فائز رہے اور ملک کی ترویج و ترقی غریب,مزدور,کسانوں کی فلاح و صلاح کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے اور انسانیت کے اصولوں کی سختی سے پیروی کی.
تقسیم ہند کے فارمولہ کے سخت خلاف اور تاحیات اس کی کسک ان کے اندر پائی گئی.
صدر جمہوریہ ہند بننے کے بعد جب آپ نے ستیہ گرہ کی سرزمین پر قدم رکھا تو گاندھی جی کے محافظ بطخ میاں انصاری کو دیکھ کر پہچان بھی لیا اور اپنے قریب بلاکر خبر خیریت دریافت کی اور سرکاری مراعات جاری کرنے کا حکم بھی صادر کیا اس واقعہ سے جذبئہ خلوص و وفا کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے
لیکن افسوس صد افسوس بہار کے اس جانباز سپوت کے ساتھ بڑی ناانصافی سے کام لیا گیا ہر موڑ پر انہیں بھلانے کی کوشش کی گئی. ایک وقت تھا جب اسکول کی نصاب میں ان کے متعلق کچھ نہ کچھ باتیں مل جاتی تھیں اور ہمارے طلبہ ان کے خاکہ سے واقف ہوجاتے تھے لیکن رفتہ رفتہ نصاب کی کتابوں سے بھی ان کا نام و نشان ختم کردیا گیا جو نہایت افسوسناک ہے.اب طلبہ کو جنرل نالج کی کتابوں کے ذریعے اتنا پڑھادیا جاتا ہے کہ ملک کے پہلے راشٹرپتی ڈاکٹرراجندرپرساد تھے.
لیکن اپنے بچوں اور ملک کے بچوں کو یہ بھی بتائیں کہ راجندر بابو صرف راشٹرپتی ہی نہیں بلکہ تحریک آزادی کے سچے جانباز سپاہی بھی تھے,حق پرست صداقت پرست نیک دل انسان بھی تھے امن و آشتی کے بہت بڑے علمبردار اور ملک کی مذہبی تقسیم کے بہت بڑے مخالف بھی تھے آج ضرورت ہے کہ ان کے اصول انسانیت و محبت کو عام کیا جائے اور اس کی پیروی کی جائے.

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close