ہندوستان

ڈی جی ونجارا اور این کے امین کی ڈسچارج عرضی مسترد

عشرت جہاں کی ماں کی جانب سے موجود وکیل نے کورٹ کو بتایا تھا کہ ان افسران کو الزام سے آزاد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے خلاف پختہ ثبوت ہیں

نئی دہلی:سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے عشرت جہاں سے متعلق مبینہ فرضی تصادم کے معاملے میں سابق پولیس افسر ڈی جی ونجارا اور این کے امین کی ڈسچارج عرضی مسترد کر دی ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ اس سے پہلے پولیس تصادم میں ماری گئی عشرت جہاں کی ماں شمیمہ کوثر نے اس کیس سے منسلک حکام کو الزام سے آزاد نہ کرنے کی گزارش کورٹ سے کی تھی۔
عشرت جہاں کی ماں کی جانب سے موجود وکیل نے کورٹ کو بتایا تھا کہ ان افسران کو الزام سے آزاد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے خلاف پختہ ثبوت ہیں۔ دونوں ملزم افسر اس وقت تصادم کی جگہ موجود تھے۔ تمام دلیلوں کو سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔غور طلب ہے کہ 15 جون، 2004 کو عشرت جہاں اور تین دوسرے لوگوں کو تصادم میں مارا گیا تھا۔ یہ تصادم احمد آباد میں ہوا تھا۔ ستمبر 2009 میں ہی احمد آباد میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ایس پی تمانگ نے اس تصادم کو فرضی قرار دے دیا۔ گجرات پولیس نے عشرت کے ساتھ تین اور لوگوں کو تصادم میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ لیکن یہ دعوی سی بی آئی کی نگاہ میں سراسر جھوٹا ہے۔ مارے جانے سے پہلے یہ تمام لوگ پولیس حراست میں تھے۔ اس فرضی انکاؤنٹر کو آئی بی کی ملی بھگت سے انجام دیا گیا۔ پولیس نے اس معاملہ میں گجرات پولیس کے 6 افسروں کے علاوہ آئی بی کے دو افسروں کو بھی ملزم بنایا ہے۔ سی بی آئی نے یہ بھی کہا ہے کہ مارنے سے پہلے عشرت سمیت چاروں کو بیہوشی کی دوا دی گئی تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close