سیاستہندوستان

کانگریس اور ٹی آرایس کا خاندانی سیاست میں یقین،دونوں میں بھی داخلی جمہوریت نہیں:مودی

حیدرآباد:وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کانگریس اور ٹی آرایس دونوں خاندانی سیاست میں یقین رکھتے ہیں۔یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں جماعتیں ووٹ بینک کی سیاست میں یقین رکھتی ہیں۔ان میں سے کسی میں بھی داخلی جمہوریت نہیں ہے۔وزیراعظم نے تلنگانہ انتخابات کے سلسلہ میں ضلع نظام آباد میں بی جے پی امیدواروں کے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آرایس اور کانگریس دوستانہ۔حکمرانی والی جماعتیں ہیں جو تلنگانہ انتخابات میں دوستانہ میچ کھیل رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کی اپرنٹس شپ کانگریس ہے ۔انہوں نے کانگریسیوں سے سیکھا اور تلنگانہ کو برباد کیا۔اگر جنہوں(کانگریس)نے پی ایچ ڈی کی اگر وہ اقتدار پرآگئے تو وہ 100سے زائد مرتبہ ریاست کو برباد کردیں گے۔مودی نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کے چندرشیکھر راو کی حکومت میں ریاست کے عوام کو پینے کا مناسب پانی نہیں مل سکا جبکہ وزیراعلی نے یہ کہا تھا کہ اگر وہ ہر گھر کو پینے کا پانی فراہم نہیں کر پائے تو وہ ووٹ نہیں مانگیں گے۔وزیراعظم نے وزیراعلی کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہاکہ چندرشیکھر راو نے کہا تھا کہ نظام آباد کو لندن بنادیں گے لیکن یہاں تو بجلی، پانی ، سڑک جیسی سہولتوں کے لئے بھی لوگ ترس رہے ہیں۔ یہاں بنیادی سہولتوں اور ترقی کی کمی ہے۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کی تشکیل کئی برسوں کی جدوجہد اورکئی نوجوانوں کی قربانی کے ذریعہ ہوئی ہے۔ان قربانیوں کو برباد کرنے کا کوئی بھی اختیار یہاں کی حکومت کو نہیں ہے۔تلنگانہ کے عوام نے جو خواب دیکھے تھے ان سے کھلواڑ کرنے کا حق کسی حکومت ، لیڈر اور سیاسی جماعت کو نہیں ہے۔تلنگانہ کی تشکیل کے ساڑھے چار سال کے دوران کئے گئے کاموں کا حساب اور پل پل کا حساب یہاں کی حکومت سے مانگنے کا یہ چناو ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جنہوں نے یہاں کے نوجوانوں، کسانوں،دلت ، قبائلیوں، مراعات سے محروم افراد سے تیز تر ترقی کا وعدہ کیا تھاوہ اپنے وعدوں پر کھرے نہیں اترے پائے ۔ان انتخابات میں ان کو عوام سبق سکھانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ ترقی میں یقین رکھتے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ بی جے پی کو منتخب کریں ۔ جو نئے تلنگانہ ، نئے ہندوستان میں یقین رکھتے ہیں ملک کو آگے لے جانے کیلئے بی جے پی پر اعتماد رکھتے ہیں وہ بی جے پی کو منتخب کریں۔ انہوں نے کہاکہ اس ملک میں کانگریس نے ترقی نہیں دی پھر بھی 50تا 55برس تک وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے رہے،یہاں کے وزیراعلی اور ان کے خاندان کو یہ لگتا ہے کہ اگر کانگریس کچھ کئے بنا انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکتی ہے تو وہ بھی جیت جائیں گے۔وہ کانگریس کے ہی طور طریقوں پر ہی عمل کر رہے ہیں لیکن کوئی بھی پارٹی اب 50مہینے بھی کچھ کئے بغیرتک حکومت نہیں کرسکتی۔وزیراعلی اور ان کی پارٹی ادھوری باتیں ،ادھورے وعدے ،ادھورے کام، ادھوری اسکیمات کئے ہیں اور انہوں نے حکومت بھی آدھی ادھورے ہی کی کیونکہ وزیراعلی نے اپنی معیاد بھی مکمل نہیں کی۔
انہوں نے سوال کیاکہ آیا ایسے لوگوں پر بھروسہ کرنا چاہئے؟ انہوں نے کہاکہ وزیراعلی خو د کو غیر محفوظ مان رہے ہیں ، اسی لئے انہوں نے ریاست میں ایوشمان بھارت اسکیم لانے سے انکار کردیا۔تین ماہ پہلے اس اسکیم کاآغاز ہو ا،تین لاکھ خاندانوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ۔اس اسکیم کے ذریعہ کئی آپریشن کئے گئے اور عوامی زندگیوں کو بچایا گیا۔تاہم تلنگانہ کے ایک بھی شخص کو اس اسکیم کافائدہ نہیں پہنچایا گیا۔اس کے لئے یہاں کے وزیراعلی ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ سب کا ساتھ سب کا وکاس میں یقین رکھتے ہیں ۔ووٹ بینک کی سیاست میں نہیں ۔انہوں نے کہا کہ لکڑی کے چولہے کا دھواں تقریبا 400سگریٹس کے مساوی ہوتا ہے۔یہ بچوں کی صحت کیلئے بھی ٹھیک نہیں ہے۔مودی نے کہاکہ انہوں نے غربت دیکھی ہے ۔وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ غریبوں کومفت گیس کے کنکشنس مل سکیں ۔اس اسکیم سے تلنگانہ کے پانچ لاکھ افراد کو فائدہ پہنچا ۔اجولا اسکیم کے ذریعہ تلنگانہ کے پانچ لاکھ خاندانوں کو گیس کے کنکشنس مرکزی حکومت نے فراہم کئے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close