بین الاقوامی

کانگریس میں اخوان المسلمون پر پابندی کے بل پر ماہرین کی بحث

واشنگٹن ،19جولائی ( اے ےواےس ) امریکی کانگریس کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت ’اخوان المسلمون‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عاید کرنے سے متعلق بل پر ماہرین کی جانب سے بحث جاری جاری ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کانگریس کی ذیلی قومی سلامتی کمیٹی میں ری پبلیکن ارکان کی طرف سے اخوان سے متعلق بل پر ماہرین نے اپنی اپنی آرائ پیش کیں۔ اس بل پر بحث کے بعد کانگریس یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا اخوان المسلمون کو دہشت گرد جماعت قرار دیا جائے یا نہیں؟ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اخوان پر پابندی کی بابت ابھی کافی سفر طے کرنا باقی ہے۔گذشتہ ہفتے کانگریس کی قومی سلامتی کمیٹی میں ارکان کی طرف سے اخوان کے خلاف ثبوت پیش کیے گئے۔ ان ثبوت کی روشنی میں کانگریس کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ پہلے تو اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اسے بلیک لسٹ کرے یا کم سے کم اس کی ذیلی بعض تنظیموں کو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں دہشت گرد قرار دے؟کانگریس کی ذیلی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں ری پبلیکن کے فلوریڈا سے منتخب رکن کانگریس اور کمیٹی کے چیئرمین رون ڈی سانٹیز نے اخوان المسلمون کی جڑوں اور اس کی بنیادوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون کے نظریے اور اس کے فکرو فلسفے میں سید قطب جیسے سخت گیر مذہبی لیڈروں کا کلیدی کردار ہے۔ سید قطب کی تصنیفات اور تالیفات ہی اخوان کا سب سے مقبول لٹریچر ہے جو نہ صرف جماعت بلکہ حماس جیسی کئی دوسری اسلامی تحریکوں کے لیے رہ نمائی کا کام دیتا ہے۔ڈی سانٹیز نے کہا کہ یہ خوش قسمتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سابق صدر اوباما کی اخوان نواز پالیسی سے دست کشی اختیار کی ہے۔ صدر اوباما کو اخوان کا متوقع حلیف خیال کیا جاتا رہا ہے۔تاہم انہوں نے استفسار کیا کیا کہ آیا پوری اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیا امریکی وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ ایسا کرسکتی ہیں۔مگر اس سے قبل 2014 کو سعودی عرب اور مصر سرکاری طورپر اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کراس پر پابندی عاید کرچکے ہیں۔ڈیموکریٹس کے رکن کانگریس اور امریکی۔ اسلامی کلب کے چیئرمین ڈاکٹر زھدی جاسر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا میں ماضی میں بھی اخوان المسلمون پر پابندیوں کے نفاذ کےلیے قانون سازی کی کوششیں ہوتی رہی ہیں مگر ماضی میں ایسی کسی تحریک کو کانگریس میں زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی ہے۔ اس وقت چونکہ کانگریس پر ری پبلیکنز کا غلبہ ہے اور وائیٹ ہاو¿س میں ان کی حکومت بھی ہے تو اس لیے اخوان کے خلاف قانون سازی کوآگے بڑھایا جا رہا ہے۔’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے انگریزی سیکشن سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے طویل عرصے تک اخوان کی صفوں میں بھلائی تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ہمیں اب اخوان کے شدت پسندانہ جہادی فلسفے کونظرانداز کرنے کا معاملہ چھوڑنا ہوگا۔انہوں نے جماعت کے سلوگن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں دو تلواروں کا نشان جہاد کی تیاری کی ترغیب دیتا ہے۔ اگرچہ خود جماعت سنہ 1970ئ کے بعد سے عملی جہاد سے دور رہی اور پرامن جدو جہد کرتی رہی ہے مگر اخوان کو اپنے جہادی علم برادر ہونے کا تاثر زائل کرنا ہوگا۔امریکی تجزیہ نگار جوناتھن شانزر جو امریکا میں جمہوریت فاو¿نڈیشن کے وائس چیئرمین بھی ہیں نے توقع ظاہر کی ہے کہ اخوان المسلمون کے خلاف جلد یا بدیر کسی قانونی کارروائی کا امکان کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین نہیں کہ کانگریس میں ایسا کوئی قانون منظور ہوگا۔تاہم یہ بات میرے لیے باعث حیرت نہیں ہوگی کہ کانگریس اخوان کو ایک نفرت کو ہوا دینے والی جماعت قرار دے۔ کانگریس وزارت خزانہ کو اخوان المسلمون سے وابستہ لوگوں کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کی چھان بین کے بارے میں سفار ش کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں ذاتی طورپر یہ توقع نہیں رکھتا کہ امریکا میں اخوان کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا قانون آگے بڑھ سکے گا تاہم زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ اخوان سے وابستہ بعض شخصیات یا جماعت کی ذیلی تنظیموں کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں بلیک لیسٹ کردے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close