سیاستہندوستان

کانگریس نے 70 برسوں میں ترقی کے نام پر کچھ نہیں کیا:مودی

جودھپور:وزیراعظم نریندر مودی نے کانگریس پر ہندوتو پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے آزادی کے بعد 70 برسوں میں ترقی اور کسانوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔مسٹر مودی نے آج یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) امیدواروں کی حمایت میں منعقد انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوتو ہمالیہ سے اونچا اور سمندر سے گہرا ہے اور اسے سمجھنے کا دعوی بڑے بڑے رشی منی تک نہیں کرسکے۔کانگریس صدر راہل گاندھی کے ہندوتو کے سلسلے میں دیئے گئے تازہ بیان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نام دار کہہ رہے ہیں کہ مودی کو ہندوتو کا کوئی علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس سے کیا مطلب ہے کہ مودی کو اس کو اس کا علم ہے یا نہیں ، یہ دیکھ کر وہ ووٹ نہیں دیتے۔ اسے ترقی سے مطلب ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے ہندوتو کی سند دینے والی کانگریس کی قیادت میں ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) نے سپریم کورٹ میں حلف داخل کرکے رام کے وجود کا ہی انکار کردیا تھا کہ رام اساطیری کردار ہے۔ کانگریس کے ایک لیڈر نے تو سناتن دھرم پر ہی سوا ل اٹھادیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی ذات کے بارے میں پوچھنے والے کانگریسی لیڈروں کو ایک خاندان کی چار نسلوں کی حکومت میں کارناموں کا جواب دینا ہوگا۔کانگریس کو جھوٹ بولنے کا اسکول اور یونیورسٹی قرار دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ کانگریس جھوٹ بولنے میں جادوگر ہے اور وہ بغیر ثبوتوں کے جھوٹ بولنے میں ماہر ہے۔
انہوں نے ماحولیات کی حفاظت کرنے کے سلسلے میں بشنوئی سماج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب ماحولیات کے تحفظ کے تعلق سے کوئی علم نہیں تھا اور اس بارے میں کوئی بات نہیں کرتا تھا تب انہوں نے اسے بچانے کے لئے سینکڑوں لوگوں نے اپنی قربانی دی۔
انہوں نے کسانوں کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنڈت جواہر لال نہرو کی جگہ سردار بلبھ بھائی پٹیل وزیراعظم ہوتے تو آج کسانوں کی اتنی بری حالت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2006 میں سوامی ناتھن رپورٹ آگئی تھی اس میں کسانوں کو فصل کی لاگت کا ڈیڑھ گنا قیمت دیئے جانے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن کانگریس حکومت اسے دباکر بیٹھی رہی۔
ہماری حکومت نے کسانوں کو ڈیڑھ گنا امدادی قیمت دینا شروع کیا ہے۔ اسی طرح یوریا کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لئے اسے نیم کوٹیڈ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ آسانی سے مہیا ہونے لگا ہے اور اس کے لئے اب لائن نہیں لگانی پڑتی ہے۔
سومناتھ مندر کے تزئین نو کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ اس معاملے میں اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے جو رخ اپنایا اسے پورا ہندوستان جانتا ہے لیکن سردار پٹیل نے پھر سے سومناتھ بنوایا۔
انہوں نے ملک میں سیاحت کے بے حساب امکانات کا ذ کر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کی حکومتوں نے اس طرف دھیان نہیں دیا جبکہ ہماری حکومت آنے کے بعد سیاحت کے شعبہ میں ترقی ہوئی ہے اور یہ پانچ فیصد سے تین گنا اضافہ ہوکر دس سے پندرہ فیصد تک ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس ملک میں ایک کروڑ سیاح آئے۔ انہوں نے کہا کہ سوچھ مشن کے تحت سیاحت میں دس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کانگریس پر ایک ہی خاندان کی تعریف کرنے کی وجہ سے مہاتما گاندھی کے صفائی مہم کو بھلا دینا کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس وجہ سے گاندھی کے خواب کی تعبیر نہیں ہونے دیا کہ فقیر گاندھی کو یاد رکھا جائےگا تو نامدار گاندھی کو کون پوچھے گا۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ میں سوا سو کروڑ لوگوں کے ریموٹ سے چلتا ہوں اس لئے صحیح چل رہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو یہ بھرم ہے کہ راجستھان میں ایک مرتبہ بی جے پی اور ایک مرتبہ کانگریس کی حکومت بنتی ہے اس لئے وہ ترقی کی بات نہیں کررہی ہے لیکن انہوں ے کہا کہ اس مرتبہ بھرم ٹوٹنے والا ہے اور وسندھرا راجے کی قیادت میں پھر سے بی جے پی کی حکومت بننے والی ہے۔ انہوں نے اس کے لئے بھیرو سنگھ شیخاوت کی مسلسل دو مرتبہ حکومت بنانے کی مثال بھی دی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close