مضامین

کانگریس کا لعل،2019میں دکھائے گا کمال؟

راہل گاندھی ہونگے بھارت کے اگلے وزیراعظم؟

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
شمالی ہند کی تین ریاستوں میں کانگریس کے اقتدار کی واپسی کے بعد، اگر بھارت کا ایک طبقہ راہل گاندھی کو اگلے وزیراعظم کے طور پر دیکھ رہا ہے تو اس میں حیرت کی بات نہیں۔ کانگریس نے ایک مدت تک اس ملک پر راج کیا ہے اور مستقبل میں بھی اس کے امکانات باقی ہیں کیونکہ’ کانگریس مکت بھارت‘ کا مودی کا خواب چکناچور ہوچکا ہے ۔ آئندہ عام انتخابات میں کانگریس ،سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھر سکتی ہے اور کانگریس صدر کی حیثیت سے راہل گاندھی کے وزیراعظم بننے کا امکان بھی برقرار ہے۔ حالانکہ یہ سوال بجا ہے کہ کیا واقعی راہل گاندھی، وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنا چاہیں گے؟ یا انتخابی رزلٹ کے بعد کسی’ منموہن سنگھ‘کو آگے کردیا جائے گا؟ اس سے پہلے اس سوال پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ کیا راہل گاندھی، بھاجپا مخالف پارٹیوں کو متحد کرنے میں کامیاب ہونگے؟ کیونکہ اس کے بغیربی جے پی کی شکست ممکن نہیں۔ ماضی کا ایک تجربہ یہ بھی رہا ہے کہ علاقائی پارٹیوں کو متحد کرنا مینڈکوں کو تولنے کے مترادف ہے، ایک کو لائو تب تک دوسرا پھدک کر کہیں اور پہنچ جاتا ہے۔بہرحال راہل گاندھی کانگریس کے اندرایک امید کی کرن کے طور پر ابھرے ہیں اور اسے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ پارٹی کوریاست ہی نہیں بلکہ مرکزکے اقتدار تک واپس پہنچانے میں کامیاب ہونگے۔ کانگریس کے ایک بڑے لیڈر ویرپا موئلی کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لئے، راہل گاندھی میںدیگر جماعتوں کو ایک ساتھ لانے کی صلاحیت موجودہے۔ سینئر پارٹی رہنما ایم ویرپا موئلی نے کہا کہ ان کے اندر سابق وزرائے اعظم جواہر لعل نہرو اور دادی اندرا گاندھی کی خصوصیات ہیں۔کرناٹک کے سابق وزیر اعلی نے کہا کہ، راہل اپنی شرافت کے لئے جانے جاتے ہیں اور دوسری جماعتوں سے انھیں ضرور جمہوریت، سیکولرزم اور سوشلزم کو آگے بڑھانے لئے تعاون ملے گا۔موئلی کے مطابق، وہ (راہول) ایک مقناطیس کی طرح ہیں جودیگر جماعتوں کو اپنی طرف کھینچ لینگے۔ انہوں نے کہا، کانگریس کو متحد کرنے کے علاوہ، وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہم خیال جماعتوں کے درمیان، فرقہ وارانہ عناصر کے ساتھ لڑنے کے بارے میں بہتر افہام و تفہیم پیدا ہو۔
کیا راہل ،اپوزیشن کو متحد کرپائینگے؟
جس طرح سے ملک کے عوام میں مودی حکومت کے خلاف بیزاری شروع ہوئی ہے ،اس سے اندازہ ہونے لگا ہے کہ آنے والے دن ،بی جے پی کے لئے اچھے نہیں ہیں مگر کانگریس کو اقتدار میں لانے کا انحصار بھی علاقائی اور چھوٹی پارٹیوں کے اتحاد پر منحصر ہے۔ راہل گاندھی انھیں کیسے متحد کرینگے؟یہ اگر لوک سبھا الیکشن سے قبل ایک پلیٹ فارم پر آبھی گئیں تو یہ اتحاد کتنے دن تک باقی رہے گا؟ یہ اہم سوال ہے۔ کلکتہ کے فری لانس صحافی اور سماجی کارکن عبدالعزیز کا خیال ہے کہ راہل گاندھی چھوٹی پارٹیوں کو متحد کرنے میں کامیاب ہونگے جب کہ ایک فیس بک یوزر حسن امام رضوی کا خیال ہے کہ انتخابات کے بعد اگر کوئی صورت نکلتی ہے تو علاقائی پارٹیاں کانگریس کے قریب آئیں گی۔دوسری طرف شہنواز عالم کو علاقائی اور چھوٹی پارٹیوں کا متحد ہونا ناممکن لگتا ہے۔منصور قاسمی کا بھی کہنا ہے کہ ہندوستانی سیاست کی قلابازیاں دیکھ کر مجھے نہیں لگتا ہے کہ اتحاد ہوگا۔ ماضی کی کوششیں گواہ ہیں۔ حفظ الرحمٰن ایک فیس بک کمنٹ میں لکھتے ہیں کہ علاقائی جماعتوں کو خوش کرپانا بہت ہی مشکل امر ہے مگر شرف الدین عبدالرحمٰن تیمی کاخیال ہے کہ ’’جملے بازوں کو وزارتِ عظمیٰ کی کرسی سے ہٹانے، امن ومحبت کی فضا ہموار کرنے اور ہندوستان کی شناخت گنگا جمنی تہذیب کی بقا کے لئے اپوزیشن پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش یقیناً رنگ لائے گی ۔یہ بات پورے وثوق اور اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ راہل گاندھی کو اپنے اس مشن میں ضرور کامیابی ملے گی۔ ایک فیس بک یوزر کلیم مظہر کا تبصرہ ہے کہ پانچ ریاستوں کے حالیہ انتخابات کے نتائج کو دیکھ کر اقتدار میں آنے کی لالچ میں اپوزیشن پارٹیاں خود ہی کانگریس سے قریب آنے کی کوشش کریں تو اتحاد ممکن ہے، ورنہ حسب توقع نمائندگی نہ ملنے سے ناراض چھوٹی پارٹیوں کو منانا راہل گاندھی کیلئے جوئے شیر لانے جیسا ہوگا۔ایچ آر معین کہتے ہیںکہ راہل پہلے اپنی پارٹی کو متحد کرنے کی مضبوط حکمت عملی بنائیں اور ابھی جن صوبوں میں بمشکل حکومت سازی ہوئی ہے وہاں بلا کسی انتشار کے بہتر گورنینس کا مظاہرہ کریں۔جب کہ لاہور(پاکستان) کے رہنے والے عارف شہزاد کا کہنا ہے کہ بھارت کی جو علاقائی سیاسی پارٹیاں وزیراعظم مودی سے خوش نہیں ہیں وہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کے ساتھ آئینگی اور اس طرح ایک اتحاد قائم ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوپاک کے انتخابات میں کبھی کبھی کسی پارٹی یا لیڈر کی ہوا بھی چل جاتی ہے اور اگر راہل کی ہوا چل گئی تو وہ کامیاب ہوسکتے ہیں۔وہیں دہلی کے لئے فیاض علی معصوم کا خیال ہے کہ راہل کی اپنی ہی پارٹی خانہ جنگی میں مصروف ہے، ایسے میں وہ دوسری پارٹیوں کو کیسے متحد کرینگے؟
راہل ہونگے اگلے پردھان منتری؟
بی جے پی کے تئیں عوام کی ہمدردی کم ہوئی ہے مگر فی الحال حالات ایسے نہیں ہیں کہ عام انتخابات کے بعد کانگریس تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں آجائے۔ اگر کانگریس کو تنہا اکثریت مل جائے تو یقینا راہل گاندھی کو کانگریس وزیراعظم بناسکتی ہے مگر اب تک کے اندازے کے مطابق کانگریس 44سے بڑھ کرڈیڑھ سو لوک سبھا سیٹوں تک چلی جائے تو بڑی بات ہے اور شاید بی جے پی کی سیٹیں گھٹ کر اسی کے آس پاس آجائیں۔ ایسے میں حکومت سازی کے وقت علاقائی پارٹیوں کا کردار اہم ہوجائے گا اور یقینی طور پر ایسی صورت حال میں کانگریس کسی ’منموہن سنگھ ‘کی تلاش کریگی۔بہار کے سابق وزیراعلی لالوپرساد یادو سال بھر پہلے کہہ چکے ہیں کہ 2019 کے عام انتخابات میں راہل گاندھی، غیر بی جے پی پارٹیوں کے لئے وزیراعظم کے امیدوار ہوں گے۔ آر جے ڈی رہنما نے کہا تھا کہ میری پارٹی اور میری حمایت ابھی سے راہل گاندھی کو ہے۔ ملک کے عوام کا ایک طبقہ راہل کو ابھی سے ملک کے اگلے وزیراعظم کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اظہار خیال کیا۔ سی سی آر یو ایم کے طبیب اور فروغ اردو کے لئے کام کرنے والے ڈاکٹر سید احمد خان کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی پرائم منسٹر کے عہدے کے لئے پوری طرح مناسب شخص ہیں جب کہ فاطمہ نور بھی انھیں اگلے وزیراعظم کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ادھرجامعہ نگر،نئی دہلی میں ایک مسجد کے امام مولانا زین اللہ نظامی کا خیال ہے کہ اگر راہل گاندھی چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلیں تو ان کا وزیراعظم بننا ممکن ہے۔جب کہ صحافی محمدشارب ضیاء رحمانی کہتے ہیں کہ لوک سبھاالیکشن میں علاقائی پارٹیوں کااہم کردارہوگا، اگر مایاوتی اور ممتابنرجی کے بغیریوپی اے کی حکومت نہیں بن رہی ہوگی تب راہل گاندھی وزیراعظم نہیں بن سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’’پپو‘‘ کاجو پروپیگنڈہ پھیلادیاگیاتھا، راہل اب اس سے نکل چکے ہیں۔ کلیم مظہر کے مطابق راہل کا وزیراعظم بننا مشکل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فی الحال جیسی صورت حال ہے مشکل ہے چونکہ بڑی پارٹی اور اس کا لیڈر ہونے کے زعم میں مقامی پارٹیوں کو ترجیح دینے کا مزاج نہیں ہے۔ادھر انصار احمد مصباحی کا ماننا ہے کہ راہل گاندھی ملک کے اگلے وزیراعظم ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ راہل کی راہ کی رکاوٹ، میڈیا کی جانبداری اور مودی کے کھوکھلے وعدے تھے۔ میڈیا تھوڑا سا غیرجانبدار ہوا ہے جب کہ مودی کے جھوٹے وعدوں کی بھی پول کھل گئی ہے لیکن انہیں تمام اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کرنے میں پوری طاقت جھونکنی ہوگی اور اس بات کا یقین دلانا ہوگا کہ یہ جنگ راہل بمقابلہ مودی نہیں ہے۔ بہرحال بھاجپا کی بڑھتی قوت سے پریشان اس کی حلیف پارٹی شیو سینا نے بھی راہل کے بی جے پی سے مقابلے کے لئے سامنے آنے پر دبے الفاظ میں خوشی کا اظہار کیا ہے۔
وراثت کا بوجھ
نہرو خاندان کے چشم وچراغ راہل گاندھی کے کندھوں پر کانگریس کو سنبھالنے کی انتہائی اہم ذمہ داری ہے۔سال بھر پہلے وہ پارٹی صدر بنے تھے اور تب سے وہ لگاتارپارٹی کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ امیٹھی کے 48 سالہ ایم پی ،تقریبا پانچ سال تک کانگریس پارٹی کے نائب صدررہ چکے ہیں۔ جنوری 2013 میں راہول گاندھی کانگریس کے نائب صدر بنے تھے اور گزشتہ سال وہ صدر بن گئے۔ان سے پہلے ان کی ماں کانگریس صدر تھیں۔ سونیا گاندھی نے 1998 ء میں کانگریس کے صدرکے طور پر ذمہ داری سنبھالی تھی۔ سونیا سب سے زیادہ مدت تک کانگریس کی صدر رہی ہیں۔جب سونیا گاندھی صدر بنائی گئی تھیں تب کانگریس مشکلوں سے دوچار تھی اور انھوں نے اسے اقتدار تک پہنچانے کا کام کیا تھامگرجب راہل گاندھی صدر بنائے گئے تب کانگریس کا زیادہ برا حال تھا اور پارٹی ،لوک سبھا میں 44سیٹوں تک سمٹ کر رہ گئی تھی۔ ان کے بھولے پن کے سبب بی جے پی کے لیڈران انھیں ’’پپو‘‘کہہ رہے تھے مگر گجرات کے اسمبلی الیکشن میں بہتر رزلٹ دے کر اور تین ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو جیت دلاکر راہل نے ثابت کردیا ہے وہ ’’پپو‘‘نہیں ہیں بلکہ بڑے بڑے پھینکووں کی ہوا نکال سکتے ہیں۔ ذرا یاد کریں جب سال بھر پہلے راہل گاندھی ، کانگریس صدر بنائے گئے تھے تو وزیراعظم نریندر مودی نے انھیں ’اورنگ زیب‘قرار دیتے ہوئے کانگریس وراثت کو مغل وراثت کی مثل قرار دیاتھا۔تب انھیں یہ بھی یاد نہیں رہا تھا کہ یہ وراثت بی جے پی میں بھی جاری ہے۔ بی جے پی میں پریم کمار دھومل کے بیٹے اورانوراگ ٹھاکر بھی پارلیمان کے رکن بنائے گئے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے بیٹے پنکج سنگھ ، ایم ایل اے ہیں۔ جینت سنہا، پیوش گوئل، پنکج سنگھ، پنکجا منڈے، پونم مہاجن، ورون گاندھی جیسے درجنوں نام ہیں جو بی جے پی میںنسل پرستی کی علامت ہیں۔
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
موجودہ وقت راہل کے سامنے ایک بڑے چیلنج کی طرح ہے۔یہ وقت ان کے لئے کسی امتحان کی گھڑی سے کم نہیںہے کیونکہ کانگریس گزشتہ چند سالوں سے ایک دم بے جان تھی اور تین ریاستوں میں جیت کے بعد اس میں پہلی بار زندگی کی رمق دکھائی پڑ رہی ہے۔کانگریس کو دوبارہ اقتدار تک پہنچانے کا کام مشکل ہے کیونکہ راستہ آسان نہیں ہے۔ راہل کی سیاسی برتری کی راہ میں اس وقت ،ملک کی سب سے طاقتور سیاسی شخصیت کی حیثیت سے وزیر اعظم نریندر مودی کھڑے ہیں۔حالانکہ کانگریسیوں کو امید ہے کہ وہ اس مشکل کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہونگے۔ جس طرح انھوں نے تین ریاستوں میں کانگریس کو اقتدار تک پہنچایا ہے، باقی ریاستوں اور مرکز میں بھی پہنچائینگے۔2018میں ان کے سامنے تین اہم ریاستوں کے الیکشن کا چیلنج تھا جسے انھوں نے جیت لیاہے اب 2019میں ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج لوک سبھا الیکشن کا ہے۔ تین ریاستوں کے انتخابات مودی بمقابلہ راہل تھے اور عام انتخابات بھی اسی طرح ہونگے۔کانگریس کو جس آب حیات کی ضرورت تھی وہ اسے تین ریاستوں سے مل چکا ہے اور راہل گاندھی نے اپنی قابلیت کو منوالیاہے، اب2019 کا لوک سبھا الیکشن ان کے سامنے ہے اور اس میں کانگریس کو سب سے بڑی پارٹی بنانا ہی ان کا نشانہ نہیں ہوناچاہئے بلکہ اسے اقتدار تک لانے کا چیلنج بھی ان کے سامنے ہے:
قناعت نہ کر عالم رنگ وبو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close