سیاستہندوستان

کانگریس کا مذہبی بنیاد پرانتخابی منشورآئین کے خلاف: جیٹلی

جے پور:
مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کانگریس کے انتخابی منشور میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات کو مفت بجلی اور دیگر سہولیات دینے کے وعدے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سماج کو بانٹنے والی سیاست ہے۔مسٹر جیٹلی نے آج یہاں بی جے پی کے انتخابی منشور ’راجستھان فخریہ عہد 2018 ‘کو جاری کرنے کے موقع پر ایک صحافی کی طرف سے تلنگانہ میں کانگریس کے انتخابی منشور میں اقلیتوں کے لئے کئے گئے وعدوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق کوئی بھی سیاسی پارٹی مذہبی بنیاد پر سہولیات دینے کا وعدہ نہیں کر سکتی ہے لیکن کانگریس ایسا کرکے سماج کو تقسیم کرناچاہتی ہے۔ملک میں بے روزگاری کا مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس پر الزام لگایا کہ اسے وہ لوگ موضوع بنا رہے ہیں جو لوگ جو 70 سال حکومت میں رہے اور جنہوں نے اس مسئلہ کو پیدا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے 1971 میں غربت کے خاتمے کا نعرہ دیا تھا لیکن آج تک ملک سے غربت دور نہیں ہوئی ہے ۔ بلکہ غریبوں کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔جی ایس ٹی کے سلسلے میں کانگریس کی طرف سے موضوع بنانے کے بارے میں مسٹر جیٹلی نے کہا کہ یہ معیشت کے لئے اچھا قدم ہے اور ٹیکس چوری کرنے والے گرفت میں آئے ہیں۔ اس کے علاوہ تین سو سے زائد ضروری اشیاء پر غیر ضروری ٹیکس کا بوجھ کو کم کیا گیا ہے اور ان کا ٹیکس کا دائرہ 30 فیصد سے کم ہوکرکے 12 سے 18 فیصد رہ گیا ہے۔
انکم ٹیکس ریٹرن بھرنے والوں اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں بھی بڑھ کر دوگنی ہوگئی ہے۔ریاست میں کانگریس کی طرف سے وزیر اعلی کا چہرہ اعلان نہ کئے جانے پر مسٹر جیٹلی نے کہا کہ کانگریس چھ چھ وزرائے اعلی کا نام اچھال رہی ہے تاکہ معاشرے کے تمام طبقوں کو ٖبھرم میں رکھ کر ان کے ووٹ حاصل کئے جا سکیں جبکہ بی جے پی معاشرے میں تمام طبقوں کی ترقی یکساں طور پر چاہتی ہے۔اس موقع پر مرکزی وزیر ارجن میگھوال، پرکاش جاوڈیکر، وزیر اعلی وسندھرا راجے، بی جے پی کے ترجمان سدھانشو چترویدی اوراونکار سنگھ لکھاوت موجود تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close