جمو ں وکشمیر

کشمیر: برہان وانی کے آبائی قصبہ ’ترال‘ میں کرفیو نافذ، سڑکیں سیل

سری نگر: کشمیر انتظامیہ نے حزب المجاہدین کے سابق کمانڈر برہان مظفر وانی کی دوسری برسی سے ایک دن قبل ہی جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ان کے آبائی قصبہ ’ترال‘ میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔ کرفیو کے نفاذ کے علاوہ ترال کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو سیل کردیا گیا ہے۔  موصولہ اطلاعات کے مطابق کرفیو کے نفاذ کا اعلان ہفتہ کی صبح سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں پر نصب لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعہ کیا گیا۔ کرفیو کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور سیکورٹی فورس اہلکار قصبہ ترال میں تعینات کردیے گئے ہیں۔

سیکورٹی اداروں کی جانب سے کرفیو کے نفاذ کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ قصبہ ترال کے ایک رہائشی نے یو این آئی کو فون پر بتایا ’ہفتہ کی صبح پولیس کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ قصبہ میں ضلع مجسٹریٹ کے حکم پر کرفیو نافذ کیا گیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’اعلان میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے گھروں تک ہی محدود رہیں۔ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی‘۔ مذکورہ رہائشی نے بتایا کہ قصبہ میں سیکورٹی فورسز کی ایک غیرمعمولی تعداد نافذ کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ کشمیری مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے برہان وانی کی دوسری برسی کے سلسلے میں 8 جولائی اتوار کے روز ریاست گیر ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ قصبہ ترال میں برہان وانی کے آبائی مقبرے پر جملہ شہدائے کشمیر کے حق میں خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے ایک عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔ سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس ایسے کسی بھی پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے قصبہ ترال میں نہ صرف کرفیو کا نفاذ عمل میں لائی ہے بلکہ قصبہ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو سیل کردیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ قصبہ میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق کرفیو کے سبب ترال کی سڑکیں سنسان منظر پیش کررہی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close