جمو ں وکشمیر

کشمیر میں ہڑتال کے پیش نظر ریل خدمات معطل

وادی کشمیر میں چلنے والی ریل خدمات پیر کو ایک بار پھر ایک دن کے لئے معطل کردی گئیں۔ یہ خدمات کشمیری مزاحتمی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے حالیہ شہری ہلاکتوں کے خلاف دی گئی ہڑتال کی کال کے پیش نظر معطل کی گئیں۔ یہ وادی میں پی ڈی پی بی جے پی مخلوط حکومت گرنے اور گورنر راج نافذ ہونے کے بعد تیسری مرتبہ ہے کہ جب ریل خدمات کو سیکورٹی وجوہات کی بناء پر معطل کیا گیا۔

ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہم نے ریاستی پولیس کے مشورے پر آج (پیر کے روز ) چلنے والی تمام ٹرینوں کو منسوخ کردیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’بارہمولہ اور سری نگر کے درمیان کوئی ٹرین نہیں چلے گی۔ اسی طرح سری نگر اور بانہال کے درمیان بھی کوئی ٹرین نہیں چلے گی‘۔انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کی معطلی کا مقصد ریلوے املاک اور مسافروں کو نقصان سے بچانا ہوتا ہے۔

یو این آئی کے پاس موجود اعداد وشمار کے مطابق وادی میں رواں برس کے چھ مہینوں کے دوران ریل خدمات کو کم از کم 18 مرتبہ کلی یا جزوی طور پر معطل رکھا گیا۔ وادی میں اپریل کے مہینے میں ریل خدمات کو آٹھ مرتبہ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر معطل رکھا گیا۔ بتادیں وادی میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مسافر ریل گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

کشمیر میں ملک کے دوسرے حصوں کا سفر کرنے والے بیشتر لوگ جموں کے بانہال تک کا سفر ریل گاڑیوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں تعینات سرکاری اور نجی اداروں کے ملازم بھی اپنی کام کی جگہوں پر پہنچنے کے لئے ریل گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں۔

ریل گاڑیوں کو کشمیر میں آمدورفت کا سستا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم خدمات کی بار بار کی معطلی کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کشمیری مزاحتمی قیادت نے سیکورٹی فورسز کی جانب سے بقول ان کے انتقام گری کے تحت آپریشن آل آوٹ اور کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز کو کشمیر خصوصاً جنوبی کشمیر میں بحال کرنے اور منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کرنے کے خلاف آج ’وادی بند‘ کی کال دے رکھی ہے۔

ریلوے کے ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ ماضی میں بھی احتجاجی مظاہروں کے دوران ریلوے املاک کو بڑے پیمانے کا نقصان پہنچایا گیا۔ وادی کشمیر میں سال 2016 میں حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل خدمات کو قریب چھ مہینوں تک معطل رکھا گیا تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close