پٹنہ

کنہیا کمار کے حامیوں سے ہوئی ان بن کے بعد جونیئر ڈاکٹر گئے ہڑتال پر

پٹنہ: آخر کار سخت تیور اپناتے ہوئے پٹنہ ایمس کے جونیئر ڈاکٹر ہڑتال پر چل گئے ۔ دراصل ڈاکٹروں کا الزام ہے کہ جے این یو طالب علم یونین کے سابق صدر کنہیا کمار اور ان کے حامیوں نے جونیئر ڈاکٹر کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔ہڑتال پر جانے سے پہلے جونیئر ڈاکٹروں نے محکمہ صحت کے پرنسپل سکریٹری اور وزیر صحت کو خط لکھ کر واقعہ کی معلومات دیتے ہوئے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
معلومات کے مطابق طالب علم رہنما کنہیا کمار روہتاس میں منعقد پروگرام کے بعد اتوار کو پٹنہ لوٹے۔ پٹنہ واپس لوٹنے کے بعد وہ اےآئی ایس ایف کے ریاستی سکریٹریسشیل کمار سے ملنے پٹنہ ایمس پہنچ گئے۔یہاں آرتھوپیڈک محکمہ کے جونیئر ڈاکٹر نے حامیوں سے باہر جانے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ مریض کے پاس صرف ایک تیمار دار ہی رہ سکتا ہے۔ اس کے بعد کنہیا کمار کے حامی بات چیت کی تصویر اور ویڈیو بنانے لگے۔ اس پر جونیئر ڈاکٹر اویناش پانڈے بھڑک گئے۔ سشیل کمار نے جب جونیئر ڈاکٹر اویناش پانڈے سے کہا کہ مرکزی وزیر رام کرپال یادو جب ان سے ملنے آئے تھے، تب بھی ان کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگ تھے۔ اس وقت کسی کو منع نہیں کیا گیا۔ لیکن کنہیا کمار کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود اویناش پانڈے اپنی بات پر اڑے رہے۔ جونیئر ڈاکٹر کے کہنے پر اسپتال کے سیکورٹی گارڈ کنہیا کمار کے حامیوں کو وارڈ سے باہر کرنے لگے۔ اس کے بعد حامیوں اوراسپتال کے سیکورٹی گارڈ کے درمیان جھڑپ ہوگئی، جس کے بعد ایمس کے جونیئر ڈاکٹر آج ہڑتال پر چل گئے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close