سیاستہندوستان

کچھ لوگ صرف کریڈٹ لیتے ہیں:سونیا گاندھی

نئی دہلی:کانگریس کی سابق چیئرپرسن سونیا گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کا نام لئے گئے بغیر ان پر زبردست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ کام کرتے ہیں اور کچھ اس کا کریڈٹ لینے کے لئے بیتاب رہتے ہیں۔محترمہ سونیا گاندھی نے اندرا گاندھی امن ایوارڈ دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی اپنے آپ کو پروجکیٹ نہیں کیا اور کبھی کسی کام کا کریڈٹ نہیں لیا۔ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کی چیئرپرسن نے کہاکہ ڈاکٹر سنگھ وزیراعظم اندر گاندھی کے ساتھ ڈیڑھ عشرے تک کام کیا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ خود دس برس تک وزیراعظم رہے، انہوں نے کبھی بھی خودستائی نہیں کی اور وہ خودستائی کرنے والے انسان نہیں ہیں۔ڈاکٹر سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے محترمہ سونیا گاندھی نے کہا کہ انہوں نے خود کے لئے کبھی کچھ نہیں مانگا۔ مسٹر مودی پر بالواسطہ حملہ کرتے ہوئے محترمہ سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’کچھ لوگ کام کرتے ہیں اور کچھ کریڈٹ لیتے ہیں۔‘‘انہوںنے کہا کہ ’’ڈاکٹر سنگھ کے مدت کار میں دنیا بھر میں ہندوستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے جب اس ملک کے وزیراعظم کے طور پر ذمہ داری قبول کی تو ملک مشکلوںسے گذررہا تھا۔ کچھ مہینوں کے اندر ہی ان کی پالیسیوں نے اثر دکھانا شروع کیا۔ ان کے مدت کار میں ملک نے سب سے زیادہ معاشی ترقی حاصل کی۔ انہوںنے کہا کہ آنے والے کئی برسوں تک ہم ڈاکٹر سنگھ سے صلاح اور رہنما ئی حاصل کرتے رہیں گے۔
سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کو ملک کی ترقی میں زبردست خدمات کے لئے پیر کے دن ان کو یہاں اندر گاندھی بین الاقوامی امن اور تخفیف اسلحہ اور ترقی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ڈاکٹر منموہن سنگھ کو اندر گاندھی کی 101ویں جینتی پر یہاں منعقد ایک شاندار تقریب میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے یہاں انہیں یہ ایوارڈ دیا۔ اس موقع پر ایوارڈ کے جیوری کے سربراہ ا ور سابق صدر پرنب مکھرجی اور کانگریس کے سابق چیرپرسن محترمہ سونیا گاندھی بھی موجود تھیں۔ڈاکٹر منموہن سنگھ کو 2004 سے 2014 تک وزیراعظم کے طور پر ملک کی معاشی اور سماجی ترقی اور دنیا بھر میں ہندوستان کے امیج کو بہتر بنانے کے لئے یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔محترمہ گاندھی نے ملک کی ترقی میں ڈاکٹر سنگھ کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوںنے اپنے 10 برسوں کے مدت کار میں معاشی شرح نمو کو سب سے زیادہ اونچائی تک پہنچایا اور معیشت کی بنیاد کو مستحکم کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close