بلاگمضامین

کیا ہمیں گداگری کی عادت ہو گئی ہے۔۔؟

اورجب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا’’یقینامیں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں‘‘، اُنہوں نے کہا: ’’کیاتوزمین میں اس کوبنائے گاجواس میں فسادکرے گااورخون بہائے گااورہم آپ کی تعریف کے ساتھ آپ کاہرعیب سے پاک ہونابیان کرتے ہیں اور آپ کے لیے پاکیزگی بیان کرتے ہیں‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بے شک میں وہ جانتاہوں جوتم نہیں جانتے‘‘۔(سورہ۔البقرہ۔آیت۔30)
اللہ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا ہے۔خلیفہ ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ اس کی بندگی کریں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی بھیجی ہوئی ہدایت کے مطابق کام کریں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا اور اپنے ازلی دشمن شیطان کے اشاروں پر چلے، تو بدترین بغاوت کے مجرم ہوں گے اور بدترین انجام دیکھیں گے۔اس سلسلے میں انسان کی حقیقت اور کائنات میں اس کی حیثیت ٹھیک ٹھیک بیان کر دی گئی ہے کہ وہ اللہ کا خلیفہ ہے۔
یقیناہم نے امانت کوآسمانوں کے اورزمین کے اورپہاڑوں کے سامنے پیش کیاتو انہوں نے اُ سے اُٹھانے سے انکار کیااور وہ اُس سے ڈر گئے اورانسان نے اُسے اُٹھالیا، یقیناًوہ ہمیشہ سے بڑا ہی ظالم، بہت جاہل ہے۔(سورہ۔الحزاب۔آیت۔72)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ امانت سے مراد یہاں اطاعت ہے۔ اسے حضرت آدم علیہ السلام پر پیش کرنے سے پہلے زمین و آسمان اور پہاڑوں پر پیش کیا گیا لیکن وہ بار امانت نہ اٹھا سکے اور اپنی مجبوری اور معذوری کا اظہار کیا۔ جناب باری عزاسمہ نے اسے اب حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر پیش کیا کہ یہ سب تو انکار کر رہے ہیں۔ تم کہو آپ نے پوچھا اللہ اس میں بات کیا ہے؟ فرمایا اگر بجا لاؤ گے ثواب پاؤ گے اور برائی کے حقدار ہوجا ؤ گے۔ آپ ؑنے فرمایا میں تیار ہوں۔ آپ ؓسے یہ بھی مروی ہے کہ امانت سے مراد فرائض ہیں دوسروں پر جو پیش کیا تھا یہ بطور حکم کے نہ تھا بلکہ جواب طلب کیا تھا تو ان کا انکار اور اظہار مجبوری گناہ نہ تھا بلکہ اس میں ایک قسم کی تعظیم تھی کہ باوجود پوری طاقت کے اللہ کے خوف سے تھرا اٹھے کہ کہیں پوری ادائیگی نہ ہوسکے اور مارے نہ جائیں۔ لیکن انسان جو کہ بھولا تھا اس نے اس بار امانت کو خوشی خوشی اٹھالیا۔اللہ تعالی نے انسان کی فطرت میں حیا،خود داری،غیرت،تحفظ ذات،تحفظ مال، اور تحفظ ناموس کا جذبہ دے کر پیدا فرمایا ہے۔
بلاشبہ یقیناہم نے انسان کوبہترین ساخت پرپیدا کیا۔(سورہ تین آیت۔4)لیکن اسی انسان نے اپنے عمل سے،اپنے ذاتی اغراض اور چند روزہ دنیاوی زندگی کے مقاصد کے لیے اپنے کو برباد کر ڈالہ ہے۔(الا ماشاء اللہ)اور ذلالت اور گمراہی کہ ایسے سمندر میں داخل ہو جاتاہے کہ اللہ کی مدد کے علاوہ اس کے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا ہے۔
پھر اسے (اس کی کج رفتاری کی وجہ سے) پست ترین حالت کی طرف لوٹا دیا۔(سورہ تین آیت۔5)
گداگری ایک لعنت ہے جو بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھیلتی جارہی ہے۔اب گداگری نے باقاعدہ ایک پیشے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ گداگری سے مراد کسی سے کچھ لینا اور اس کے عوض اس کی جائز خدمت نہ کرناہے۔ گداگری قوم کو اجتماعی طور پر بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ افراد کے اندر غیرت و حمیت کو ختم کر دیتی ہے۔ محنت اور کام کرنے کی صلاحیت برباد کر دیتی ہے، قوم کی ذہنی صلاحیتوں کو یکسر موقوف کردیتی ہے، اقوام اور افراد میں سستی، سہل پسندی اور دولت کی ہوس بڑھ جاتی ہے۔ اخلاقی اور نفسیاتی جرائم عام ہو جاتے ہیں انسان گھٹیا اور ذلیل عادات کا غلام ہو جاتا ہے۔ان گداگروں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے جنہیں دیگر علاقوں سے اغوا کرکے لایا جاتا ہے جبکہ ایسے بچوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے جو غربت کی وجہ سے بھیک مانگنے پرمجبور ہیں کیسے ظالم وجابرلوگ ہیں جو ان معصوم بچوں کو اغوا کرکے بچپن ہی سے اس کام پر لگا کر انکی معصومیت چھین لیتے ہیں اور انہیں گداگری جیسی لعنت میں مبتلا کر کہ انکا مستقبل تاریک کردیتے ہیں۔ اسلام میں گداگری کی اجازت نہیں ہے۔(سوائے چند مفلس نادار اشخاص اور باحالت مجبوری کے باعث)۔
ایک طرف غربت نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے، تو دوسری طرف حالات یہ ہیں کہ امت مرحومہ محنت و مشقت کو چھوڑ کر گداگری کے داغ میں ملوث ہو چکی ہے۔(اِلّا ماشاء اللہ)۔پوری دنیا میں بھکاریوں کا میلہ سا ہے۔ خاص طور پراپنے ملک ہندوستان میں،مساجد کے پاس، مزاروں کے پاس اور جمعہ اور جمعرات کے دن کا یہ عالم ہوتا ہے کہ قدم قدم پر فقیروں کی فوج نظر آتی ہے،مانگنے والوں کا پورا کنبہ صبح اٹھتے ہی اپنی مخصوص جگہوں پرچلاجاتا ہے، اور پھر یہ لوگ مختلف جگہوں،مختلف گاڑیوں کی سمت مختلف انداز میں دوڑ لگا دیتے ہیں۔راہ گیروں اور دکانداروں سے بھی باقاعدگی سے ہر روز بھیک مانگتے ہیں،پردے دار خواتین،چھوٹے چھوٹے بچّے جسم سے اپاہج لوگ(کبھی کبھی یہ لوگ خود کو بھیک مانگنے کے لیے اپاہج تک بنا لیتے ہیں)ان گداگروں کے پاس مختلف الفاظ ہیں۔اللہ کے نام پر دے دو،راہ خدا میںدیں،غریب کو دو اللہ تمہیں دے گا،آج کل نیا انداز ہے کہ نعت شریف یا منقبت سنا کر بھیک مانگا جارہا ہے۔یہ پیشہ ورگداگر اللہ اور رسول ﷺ کا استعمال اپنے کاروبار کے لیے کرتے ہیں۔اللہ خیر کرے۔ان پیشہ ور گداگروں کو اگر کوئی شخص کھانے پینے کی اشیاء لے کر دیتا ہے تو یہ لوگ منع کر دیتے ہیں،کوئی بھی بہانہ بنا کر انکار کردیتے ہیں اور اس کے بدلے روپیے پیسے مانگتے ہیں۔
سب سے بڑھ کر مدرسے میں چھوٹے چھوٹے بچّے کو رسید دے کر لوگوں سے چندہ وصولنے کے لیے بھیج دیا جا تا ہے۔مدرسے کے طلبہ کو اگر رسید نہ بھی دی جائے تو رسد لینے کی لیے،مدرسے کے اخراج کاخرچ لینے کے لیے اساتذہ بے دریغ لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں،گویا کہ معصوم ذہنوں میں شروع سے ہی گداگری کی عادت ڈال دی جاتی ہے۔پھر وہ طالب علم اخراجات کے لیے،مدرسے کی ضرورت کے لیے عوام و خواص سے چاپلوسی کرتا ہے ۔ اللہ رحم کرے۔ عوام اور خواص دونوں چاپلوسی پسند ہوتے ہیں(الا ماشاء اللہ)حق بولنے والوں کو سزا دی جاتی ہے اور عیاری اور مکاری کرنے والوں کو،چاپلوسی کرنے والوں کو منصب دیا جاتا ہے۔
واہ رے قوم مسلم۔۔۔
مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ پیشہ ور گداگر نہ صرف گاڑیوں کے مالک ہیں بلکہ اچھے گھروں کے مالک بھی ہیں۔ دکھانے کو جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں تو انکی جھونپڑیوں میں بھی ڈش کیبل،اور بہترین سامان زیست موجود ہیں۔اجمیر میں ایک ایسے گداگر کی جھونپڑی میں جانے کا اتفاق ہوا،دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس میں اے سی لگا ہوا ہے پوچھنے پر اسنے بتایا کہ میں اکثر بیمار رہتا ہوں اور گرمی برداشت نہیں ہوتی اس لیئے ٹکہ ٹکہ جوڑ کر یہ لگوایا ہے، کیا ہم لوگ انتہائی ضرورت میں بھی ایسے کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا: سوالی جو ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہوگی۔ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ باب من سال الناس تکثرا)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو منبر پر صدقہ اور سوال سے بچنے کے لیے خطبہ دے رہے تھے۔ آپ ﷺنے فرمایا ’’اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر والے ہاتھ سے مراد خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے (ابو داؤد، کتاب الزکوٰۃ، باب ما تجوز فیہ المسئلہ)
حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا: ’’جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگ رہا ہے۔ اب چاہے تو وہ کم کرے یا زیادہ اکٹھے کر لے (مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب النھی عن المسئلہ)
حضرت انس کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے آپﷺ کے پاس آ کر سوال کیا۔ آپﷺ نے اسے پوچھا ’’تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے؟’’وہ کہنے لگا۔ ’’ہاں ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ ہے۔’’آپﷺ نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ۔’’وہ لے آیا تو آپ ﷺنے ان کو ہاتھ میں لے کر فرمایا: کون ان دونوں چیزوں کو خریدتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: ’’میں ایک درہم میں لیتا ہوں۔’’آپ ﷺنے فرمایا: ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے؟’’اور آپ ﷺنے یہ بات دو تین بار دہرائی تو ایک آدمی کہنے لگا: ’’میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔’’آپ ﷺنے دو درہم لے کر وہ چیزیں اس آدمی کو دے دیں۔اب آپ ﷺ نے اس انصاری کو ایک درہم دے کر فرمایا: اس کا گھر والوں کے لیے کھانا خرید اور دوسرے درہم سے کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاؤ۔ جب وہ کلہاڑی لے آیا تو آپ ﷺنے اپنے دست مبارک سے اس میں لکڑی کا دستہ ٹھونکا پھر اسے فرمایا: جاؤ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر یہاں لا کر بیچا کرو اور پندرہ دن کے بعد میرے پاس آنا۔’’پندرہ دن میں اس شخص نے دس درہم کمائے۔ چند درہموں کا کپڑا خریدا اور چند کا کھانا اور آسودہ حال ہوگیا پندرہ دن بعد آپﷺ نے فرمایا: یہ تیرے لیے اس چیز سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن سوال کرنے کی وجہ سے تیرے چہرے پر برا نشان ہو۔’’(نسائی کتاب الزکوٰۃ) باب فضل من لایسئل الناس شیأ)
سب سے زیادہ گداگر مسلمان ہی ہیں،یہ ایک شرم کا مقام ہے اسلامی معاشرے کے لیئے،اور مسلمانوں کے لیئے۔
ہمارے نام ونہاد اسلامی معاشرے میں گداگری نہ صرف ضرورت ہے بلکہ پیشہ بن چکا ہے، پیشہ وربھکاری میدان میں آگئے ہیں وہ گداگر جو کبھی مساجد کے باہر ملا کرتے تھے یا بازار جانے پر ایک طرف سر جھکائے بیٹھے نظر آتے تھے اب وہ ہر گلی ہر محلے ہر بازار و سڑک پر عام نظر آتے ہیں نہ صرف نظر آتے ہیں بلکہ بھیک مانگنے کے کیئے پیروں میں بھی گر پڑتے ہیں وہ فقیر جو کبھی اللہ کے نام پر ہاتھ اٹھائے راستوں
سے گذرا کرتے تھے اب انکی جگہ پیشہ ور بھکاریوں نے لے لی ہے جو ہر بندے کو پکڑ کر، راستہ روک کر، دروازہ کھٹکھٹا کر بھیک وصولنے کو حق سمجھنے لگے ہیں۔ اکثر تو یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کم بھیک ملنے پر بھکاری ہمیں بہترین نصیحتیں سنا کر نکل جاتے ہیں۔
عرفہ کے دن ایک شخص لوگوں سے مانگ رہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سنا تو اسے کہنے لگے ’’آج کے دن اور اس جگہ تو اللہ کے سوا دوسروں سے مانگتا ہے؟’’پھر اسے درے سے پیٹا۔ (احمد بحوالہ مشکوٰۃ باب من لایحل لہ المسئلہ فصل ثالث) حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں صدقہ کا مال تقسیم فرما رہے تھے دو آدمی آپ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے صدقہ کا سوال کیا۔ وہ خود کہتے ہیں آپ ﷺنے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا، پھر نگاہ نیچی کی آپﷺ نے ہمیں قوی اور طاقتور دیکھ کر فرمایا: اگر تم چاہو تو تمہیں دے دیتا ہوں لیکن صدقہ کے مال میں مالدار اور قوی کا کوئی حصہ نہیں جو کما سکتا ہو۔’’(ابو داؤد، نسائی، کتاب الزکوٰۃ، باب مسئلہ القوی المکتسب)
جوضرورت مند افراد ہیں جو بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، ان کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔ سورۃ البقرہ میں ہے ’’اے محمدﷺلوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ خدا کی راہ میں کس طرح کا مال خرچ کرنا کہہ دو جو چاہو خرچ کرو لیکن جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ کو اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور مسافروں کو (سب کو دو)اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے‘‘۔ لیکن بد قسمتی سے بھیک مانگنے والوں میں ضرورت مند اور مستحق نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جن لوگوں نے گداگری کو بطور پیشہ اپنایا ہے۔ ان میں اکثریت دو تین سال کے بچوں سے لیکر 70/80 سال عمر کے مردوزن شامل ہیں۔ بعض بد کردار نوجوان عورتوں نے اسے فحاشی کے لائسنس کے طور پر اپنا رکھا ہے۔ بھیک مانگنے کی آڑ میں مردوں کو دعوت گناہ دی جاتی ہے۔(الا ماشاء اللہ)
حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا تو آپ ﷺنے مجھے دے دیا۔ پھر ایک دفعہ مانگا تو آپﷺ نے دیا۔ پھر فرمایا: ’’اے حکیمؓ! یہ دنیا کا مال دیکھنے میں خوشنما اور مزے میں میٹھا ہے لیکن جو اسے سیر چشمی سے لے اس کو تو برکت ہوگی اور جو جان لڑا کر حرص کے ساتھ لے اس میں برکت نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسی ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا (دینے والا) ہاتھ نچلے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہوتا ہے۔’’حکیم ؓکہنے لگے: ’’یا رسول اللہﷺ! اس ذات کی قسم! جس نے آپﷺ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ میں آج کے بعد مرتے دم تک کسی سے کچھ نہ مانگوں گا۔’’ (پھر آپ ؓکا یہ حال رہا کہ) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ ؓ کو سالانہ وظیفہ دینے کے لیے بلاتے تو وہ لینے سے انکار کر دیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور خلافت میں انہیں وظیفہ دینے کے لیے بلایا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حاضرین سے کہنے لگے: ’’لوگو! تم گواہ رہنا میں حکیم ؓکو اس کا حق جو غنائم کے مال میں اللہ نے رکھا ہے دیتا ہوں اور نہیں لیتا۔’’غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے ہوئے عہد کا اتنا پاس تھا کہ انہوں نے تاحین حیات سوال تو درکنار کسی سے کوئی بھی چیز قبول نہیں کی۔ (بخاری، کتاب الوصایا، باب تاویل قول اللہ تعالیٰ من بعد وصیہ توصون بھااودین)
حضرت قبیصہ بن مخارق ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک شخص کا ضامن ہوا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہاں ٹھہرو تاآنکہ ہمارے پاس صدقہ آئے۔ پھر ہم تیرے لیے کچھ کریں گے۔ پھر مجھے مخاطب کر کے فرمایا: قبیصہ! تین شخصوں کے علاوہ کسی کو سوال کرنا جائز نہیں۔ ایک وہ جو ضامن ہو اور ضمانت اس پر پڑ جائے جس کا وہ اہل نہ ہو۔ وہ اپنی ضمانت کی حد تک مانگ سکتا ہے۔ پھر رک جائے۔ دوسرے وہ جسے ایسی آفت پہنچے کہ اس کا سارا مال تباہ کردے وہ اس حد تک مانگ سکتا ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے اور تیسرے وہ شخص جس کو فاقہ کی نوبت آ گئی ہو۔ یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین معتبر شخص اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں کو فاقہ پہنچا ہے اسے سوال کرنا جائز ہے تا آنکہ اس کی محتاجی دور ہو جائے۔ پھر فرمایا: اے قبیصہ ان تین قسم کے آدمیوں کے سوا کسی اور کو سوال کرنا حرام ہے اور ان کے سوا جو شخص سوال کر کے کھاتا ہے وہ حرام کھا رہا ہے۔’’(مسلم، کتاب الزکوٰۃ باب من لایحل لہ المسئلہ)
ایک سب سے خطرناک قسم گداگری یہ بھی ہے کہ ہماری نام ونہاد مسلم حکومتیں دوسرے ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے قوم کے نام پر بھیک مانگتی ہیں۔پاکستان نے چند روز قبل سعودی عرب سے بھیک مانگا ہے۔ اس بھیک کا بڑا حصہ مانگنے والوں کے ذاتی کھاتوں میں جمع ہو جاتا ہے لیکن قوم پر گداگری کا نیا کھاتہ کھل جاتا ہے۔خود کفیل کیسے بنا جاتا ہے اس طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔
تعمیر مساجد کے لیے،کبھی مدرسہ کی تعمیر کے لیے،کبھی لڑکی کی شادی کے نام پر،بھیک مانگ کر صدقہ خیرات جمع کرکے کہ لڑکی کو شاندار جہیز دے گیں،براتیوں کے طعام اور قیام کا انتظام اسی مال سے کریں گے،جو ان پر حرام ہے۔ میرے اسلامی بھائیوںمحنت و مشقت،جفاکشی، غیرت و خودداری انبیائے اکرام علیہ السلام کی سنت ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ بھیک مانگ رہا ہے اسے روک کر تلاشی لی تو ایک وقت کا کھانا اس کے پاس سے ملا ،آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ تیرے پاس ایک وقت کا کھاناموجود ہے اور پھر بھی تو لوگوں سے سوال کرتا ہے۔آپ رضی اللہ عنہ نے اعلان کر دیا اور تمام خدام قوم وملّت رضوان اللہ علیھم اجمعین کو فرمان جاری کیا کہ جس کے پاس ایک بھی وقت کاکھاناموجودہو اس کو بھیک نہ دیا جائے،اور نہ ہی وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔اگر ایسا نہ ہوا تو اس کی پکڑ کی جائے گی،اور وہ سخت سزاکاحق دار ہوگا۔بارہا ںرحمت عالم ﷺ فاقہ کش رہے لیکن کبھی آپ ﷺ نے دست درازی نہیں کی۔مہینوں آپ ﷺ کے گھر سے دھواں نہیں نکلتا تھا۔(یعنی کھانانہیں پکتا تھا) پھر بھی آپ ﷺ نے کسی سے کچھ نہیں کہا،اگر آپ ﷺ اپنے ساتھیوں سے زبان کھولتے اور اپنے حالات کے متعلق بیان کرتے تو اصحاب رسول ﷺ اپنی زندگی بیچ بیچ کے آپ ﷺ کی ضرورت کو پورا کرتے،نہ کبھی آپ ﷺکے خاندان والوں نے ،اور نہ ہی امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنھما نے،نہ ہی صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے نہ بزرگوان دین رحمتہ اللہ علیہ نے ،کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا،پھر ہمیں بھیک مانگے کی دلیل کہاں سے ملی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
(تفسیر ابن کثیر، فیوض الرحمان،تفہیم القرآن،ماہنامہ القانون،مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کی تفسیر تیسیر القرآن اور دیگر مضامین سے ماخوذ)

Show More

ریاض فردوسی

محمد ریاض الدین فردوسی ابن محمد شرف الدین قادری(ریٹائرڈ وائرلیس آپریٹر۔پٹنہ۔۔۔پولیس بہار)۔سکہ ٹولی عالم گنج ڈاکٹر ضیاء الہدى لین۔نزد سکہ ٹولی مسجد پٹنہ۔7۔بہار۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close