دہلی

کیجریوال کی سولر پینل منصوبہ کی مخالفت

نئی دہلی:وزیر اعلی اروند کیجریوال کی سولر پینل کی منصوبہ بندی کے خلاف کسانوں نے آواز بلند کی ہے اور اس منصوبہ بندی کے بہانے کسانوں کی زمین لے کر کمپنیوں کو دینے کی سازش قرار دیا ہے. کانگریس سے منسلک کسان لیڈر ڈاکٹر نریش کمار نے اس سکیم کے خلاف کسانوں کو متحرک کرنا شروع کر دیا ہے. اس بابت اتوار صبح 11 بجے یہاں مہا پنچایت کا انعقاد کیا گیا. یہاں جاری ایک بیان میں دہلی کسان بچاؤ سنگھرش سمیتی کے صدر، نریش کمار نے بتایا، ” میں نے سب 47 دیہات میں خود جاکر کسانوں سے بات چیت کی ہے. ان سب کا کہنا ہے کہ جب ایک ایکڑ زمین سے پرائیویٹ کمپنی 20 لاکھ روپے کی بجلی پیدا کرے گی تو کسانوں کو صرف ایک لاکھ روپے کیوں. کسان اپنی زمین کو 25 سال تک پرائیویٹ کمپنی کو دینے کے لئے تیار نہیں ہیں، کیونکہ 25 سال بعد ایک ایکڑ زمین کی قیمت ایک ارب روپے سے زیادہ ہو گی. ساتھ ہی اس اسکیم میں بہت ساری خامیاں بھی ہیں جیسے کہ دہلی ماسٹر پلان 2021 کی خلاف ورزی، لینڈ ریفارم ایکٹ کے تحت دفعہ 81 کی خلاف ورزی. ” انہوں نے کہا، ” کھیوٹ جو چار چار پیڑھیوں سے چلی آ رہی ہے، اس کے الگ ہوئے بغیر یہ منصوبہ آخر کیسے نافذ ہو سکتا ہے. ہر انچ زمین میں ہر شخص شریک ہوتا ہے، اور ایک ایک کھیوٹ میں 25 سے 30 کسانوں کا حصہ ہوتا ہے. ” کمار نے کہا، ” کسانوں کا مطالبہ ہے کہ پی پی پی ماڈل کے تحت کسان اور کمپنی کی 50-50 فیصد کی شراکت ہو. کسان کی سرمایہ اس کی زمین ہے، لہذا سب کو اس کے علاوہ کم از کم ایک لاکھ روپے رایلٹی دی جائے، ساتھ ہی ہر سال رائلٹی میں 10 فیصد کا اضافہ ہو. ایک ہزار یونٹ بجلی مفت ملے، معاہدہ 25 سال کی جگہ 10 سال کا ہو. ماسٹر پلان، دفعہ 81 کی خلاف ورزی ختم کی جائے اور سب کی کھیوٹ الگ کی جائے. دہلی کے کسانوں کو سولر پلانٹ لگانے کی حوصلہ افزائی کی جائے، ساتھ ہی دہلی حکومت دہلی فنانشل کارپوریشن مناسب شرح سود پر قرض فراہم کرائے. ” قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلی اروند کیجریوال کی صدارت میں گزشتہ دنوں ہوئی دہلی کابینہ کی میٹنگ میں دہلی کے گرین بیلٹ کے تمام 47 دیہات میں سولر پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا. نجف گڑھ مٹیالا، منڈکا، بوانا، نریلا، مہیپال پور اسمبلی حلقہ میں گرین بیلٹ کے گاؤں آتے ہیں. حکومت کے فیصلے کے مطابق، اس کی منصوبہ بندی کے تحت چھ ایکڑ ذراعت زمین میں ایک میگاواٹ کا سولر پلانٹ لگے گا. اس کے بدلے کسان کو ایک لاکھ روپے فی ایکڑ فی سال بطور کرایہ دیا جائے گا، جس میں ہر سال چھ فیصد کا اضافہ ہو گا. ایک ہزار یونٹ مفت بجلی دی جائے گی. کسان اور نجی کمپنی کے درمیان 25 سال کا معاہدہ ہوگا. یہ نجی کمپنیاں چار پانچ روپے فی یونٹ بجلی بیچیںگی. جس میں ہر سال چھ فیصد کا اضافہ ہو گا. ایک ہزار یونٹ مفت بجلی دی جائے گی. کسان اور نجی کمپنی کے درمیان 25 سال کا معاہدہ ہو گا. یہ نجی کمپنیاں چار پانچ روپے فی یونٹ بجلی بیچے گی.

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close