اتر پردیش

گئوکشی کے شک میں مسلم نوجوان کی پٹائی، لاش گھسیٹتے ہوئے تصویر ہوئی وائرل

یو پی پولیس نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہونے کے بعد جمعرات کے روز اپنے سرکاری ٹویٹر ہینڈل سے معافی مانگی ہے۔ در اصل، ہاپوڑ میں گئوکشی کے شک میں بھیڑ نے قاسم اور سمیع الدین نام کے دو افراد کی بے رحمی سے پٹائی کی تھی۔ پولیس اہلکاروں نے ڈائل 100 اور ایمبولینس کو فون کیا۔ جب تک کوئی گاڑی آتی، اس سے قبل وہاں موجود لوگوں نے گھسیٹتے ہوئے لاش کو سڑک پر لانے کی کوشش کی۔ اسی دوران کسی نے اس کی تصویر کھینچ لی۔

اس تصویر میں نظر آ رہا ہے کہ چار لوگ خون سے لت پت محمد قاسم کے ہاتھ پیر پکڑ کر لٹکاتے ہوئے لے جا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ پولیس والے بھی چل رہےہیں۔ یو پی پولیس نے مذکورہ معاملہ کو روڈ ریج میں درج کیا تھا اور اب اس تصویر کے وائرل ہو جانے کے بعد یو پی پولیس نے اس حادثہ پر معافی مانگی ہے۔

واضح ہو کہ تصویر میں دکھ رہے تینوں پولیس والے،انسپکٹر اشونی کمار، کانٹیبل لاو اور کانٹیبل اشوک کمار سے جواب مانگا گیا ہے۔ یوپی پولیس نے ٹویٹ کر کے کہا ہے، ہم اس حادثہ کے لئے معافی چاہتے ہیں۔ تصویر میں دکھ رہے تین پولیس والوں کا ٹرانسفر پولیس لائن کر دیا گیا ہے اور تفتیش کا حکم دے دیا گیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close