مضامین

گائے کے نام پر دھشت گردی کب تلک؟

 

ملک کے اندر جس طرح کھلے عام خوف و دہشت کی فضا پیدا کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں اس عمل نے اب کچھ زیادہ ہی بھیانک رخ اختیار کرلیاہے.
گائے کے بہانے ملک کی فضا کو نفرت میں تبدیل کرنے اور کھلے عام قانون کی پاسداری نہ کرکے بھگوا تنظیموں نے سیکولر طبقہ کو سوچ میں ڈال دیا ہے.بھگوا جماعت کی کھلے عام دھشت گردی اب ڈهکی چھپی بات نہیں رہی، بلکہ اب ماب لنچنگ میں سبھی طبقات کے لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے.
2014کے لوک سبھا انتخابات میں تاریخی جیت درج کرنے کے بعد عوام کے اندر یہ امید جاگی تھی کہ مہنگائی کم ہوگی،بے روزگاروں کو روزگار ملے گا اور ملک پرامن ماحول میں ترقی کی منازل کو طے کر ے گا. لیکن عوام کے ان توقعات پر نہیں بلکہ اس کے برخلاف ہوگیا.بھگوا تنظیموں کے حوصلے اس قدر بڑھ گئے کہ گائے کے بہانے چلتے پھرتے مخصوص جماعت کے لوگوں کو نشانہ بنایا جانے لگا. دادری کی وہ رات جب عیدالاضحی کے روز پوری دنیا کے مسلمان خوشی میں ڈوبے ہوئے تھے. اس وقت اترپردیش کی اس جگہ پر ھندو دھشت گردوں نے قانون کی دھجیاں اڑائی اور اخلاق کو مارمار کر قتل کردیا گیا بات یہی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے بعد ملزموں کو سزا نہ ہونے،سیاسی رہنماؤں کے کرم فرمائیوں اور نظر کرم کی وجہ سے جموں کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک دن کے اجالے اور رات کی تاریکی میں دھشت گردی کا ایساناچ ناچنے جانے لگا کہ عالمی سطح ہر ملک کی شبیہ پر بدنما داغ لگ گیا.ایک موقع پر وزیر اعظم نے سخت لفظوں استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ لوگ اپنی برائی کو چھپانے کے لیے گئورکشا کا چولا پہن لیتے ہیں جس سے سماج کے اصل گئورکشا کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے.وزیراعظم کے اس بیان کے بعد یہ امید جاگی تھی کہ بھگوا تنظیموں کے فرضی گئو رکشا دلوں پر قانونی شکنجہ ہوگا.لیکن اب تک اس دھشت گری میں سینکڑوں مسلمانوں کی جانیں جاچکی ہیں.
اس بار گئو رکشا دل کی جو کالے کرتوت اترپردیش کے بلند شہر سے آئے ہیں اس نے رونگتے کھڑے کردیے ہیں. بلند شہر کے سیانا کوتوالی علاقے میں گئوکشی کے معاملے میں انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کو جس طرح سے بھگوا آتنکوادیوں نے پیٹ پیٹ کر قتل کردیا وہ بہت ہی بھیانک ہے.ویڈیو میں صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ہزاروں کی بھیڑ کس منظم سازش کے تحت بندوق،لاٹھی سے لیس ہوکر مار ڈالنے کی باتیں کہہ رہا ہے. انسپکٹر کی موت کے پیچھے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دادری کے اخلاق قتل کی جانچ میں کچھ فرقہ پرست لوگوں کا نام سامنے اجاگر کیا تھا، جس سے ناراض لوگوں نے انہیں مار ڈالا. مقتول انسپکٹر کی اہلیہ نے جو سنسنی خیز خلاصہ میڈیا کے سامنے کیا ہے کہ اخلاق کا کیس لینے کے بعد ان کے پاس دباؤ بنایا گیا،خوف و ڈر کی وجہ سے بچوں کو پرائیویٹ کیب میں اسکول بھیجے جانے لگیں.دھشت گردی کے اس کھیل میں بجرنگ دل کے یوگیش کی کالی کرتوت سامنے آچکا ہے کہ کسی ویڈیو میں وہ بھیڑ کو بھڑکانے کا کام کررہا ہے تو کسی ویڈیو میں گائے کو کاٹنے کے پیچھے یوگیش کا نام لیا جارہا ہے.اب تک یوگیش اترپردیش کی پولیش کی گرفت سے باہر ہے لیکن یوگیش شکل بدل کر ویڈیو کررہا ہے ایسے میں سوال یہ کہ گوست کے نام پر ہوہلہ پیدا کردینے والی پولیش اصل ملزم کی پہنچ سے پیچھے کیوں ہے؟ ایف آئی آر میں درج معاملے میں یوگیش کا نام لینے سے اترپردیش کے ڈی جی پی بھی کترارہے ہیں.جو بہت سارے سوالات پیدا کررہے ہیں.
ایسے میں سوال یہ اٹھنا لازمی ہے کہ جب پولیس نے گئوکشی کا معاملہ درج کر تفتیش شروع کردی تو پھر کن لوگوں نے ہائی وے کو جام کرنے پر لوگوں کو آمادہ کیا؟ ویڈیو میں صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ منظم سازش کے تحت بلند شہر کے حالات کو مکدر کرنے کی جو کوشش کی وہ کون لوگ تھے؟؟
اب جبکہ پولس نے اس دھشت گردی میں ملوث بجرنگ دل کے ضلع انچارج سمیت کئی کو نامزد کیا ہے ہے جس میں سمیت چار لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے.یہ حقیقت سامنے آچکا ہیکہ کن لوگوں نے انسپکٹر کو مارا،گائے کو لاد کر لایا سمیت دیگر سوالات سے پردہ اٹھ چکا ہے.
اس سچائی سے اب انکار نہیں کیا جاسکتا ہیکہ جس آتنکواد کے تئیں سرکار نرم گوشہ اختیار کیے ہوئی تھی اب اس نے دھشت گردی پھیلانی شروع کردی ہے حد تو یہ ہوگئی کہ نائب وزیراعلی سمیت بی جے پی کے دیگر اراکین اسمبلی نے قاتل یوگیش کا بچاؤ کررہے ہیں.کل تک مخصوص جماعت کے لوگوں کی نشاندہی کرکے ٹارگیٹ بناجارہا تھا لیکن بلند شہر کے انسپکٹر کے قتل نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ بھگوا دھشت گردی گائے کے بہانے قانون کو بالائے طاق رکھ کر کسی بھی حد کو جاسکتا ہے.ایسے وقت میں ان دھشت گردوں کے اوپر سخت نکیل کسنے کی کوشش کی جانی چاہیے ورنہ وہ دن دور نہیں کہ آج جو سیاسی رہنماء ایسے دھشت گردوں کو پناہ دے رہی ہے وہ اسے ہی نشانہ بنالے اور ملک کو کھلے عام دھشت میں جھونک دے. بقول راحت اندوری:
لگے گی آگ تو آئیں گے کئی گھر زد میں
یہاں پر صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close