مضامین

گائے کے نام پر ہونگے 2019کے عام انتخابات؟

گائے پرسیاست ،کسان کے لئے مصیبت،عوام کے لئے آفت

میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے گھر ایک بھینس اور دوبیلوںکو پایا۔ہمارے گائوں میں بیشتر کسان گھرانوں کی یہی صورت حال تھی۔ بیلوں سے کھیت جوتے جاتے تھے اور بھینس کا دودھ گھروالوں کے استعمال کے لئے ہوتا تھا۔کچھ لوگ دودھ بیچ کر اپنا گزارہ بھی کرتے تھے۔دھیرے دھیرے ٹریکٹر کا چلن بڑھا اور بیلوں کی ضرورت کم ہوتی گئی اور اب پورے گائوں میں شاید ہی کسی کے پاس بیل ملیں۔گائوں میں گائے کم ہی لوگ رکھتے تھے اور اب مزید کم ہوگئی ہیں کیونکہ دودھ کی ضرورت کو بھینس زیادہ بڑے پیمانے پر پوری کرتی ہے۔البتہ حالیہ ایام میں گائے کی ضرورت دودھ کے لئے کم اور سیاست کے لئے زیادہ ہوگئی ہے۔ ویسے بھی ان دنوں پورے ملک میں پائوچ کے دودھ کا استعمال بڑھ گیا ہے ۔ شہروں سے لے کر گائووں تک میں لوگ اسی کو استعمال کرتے ہیں۔بھارت کے کچھ علاقوں میں اب بھی گوالے، کسان اور ڈیری کاروباری گائے پالنا چاہتے ہیں مگر گائے کو لے کر چل رہی سیاست ،انھیں اس سے باز رکھتی ہے۔ ایشیا کے سب سے بڑے مویشی میلے سونپور میں اب گائیں کم فروخت ہوتی ہیں۔ راجستھان کے مشہور پشکر میلے میں بھی گایوں کی خریدوفروخت بے حد کم ہوگئی ہے ۔ اس کا سبب بھی گائے کو لے کر تیز ہوتی سیاست ہی بتائی جاتی ہے۔ راجستھان کے الور علاقے میں دودھ والی گائے لے جارہے کئی لوگوں کو اب تک ہندوتوادی جماعتوں کی طرف سے مارا جاچکا ہے جس کے سبب اب کوئی بھی ادھر سے گائے خریدنے کی ہمت نہیں کرتا۔راجستھان، ملک کی تنہا ایسی ریاست ہے جہاں گائے کی وزارت قائم ہوئی، حالانکہ گائے کے نام پر سیاست نے اترپردیش میں آفت برپا کر رکھا ہے۔ یہاں بوڑھی گایوں کو لوگ آزادچھوڑ دیتے ہیں اور پھر یہ فصلوں کو چرتی رہتی ہیں۔ اس طرح کسان دن رات اپنے کھیتوں کی رکھوالی پر مجبور ہیں۔ وہ نہ رات کو سوسکتے ہیں اور نہ ہی دن میں آرام کرسکتے ہیں۔اوپر سے یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے اب گایوں کے تحفظ کے لئے ریاست کے غریبوں پر نیا ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غضب تو یہ ہے کہ صرف نارتھ انڈیا میں گائے ’’ممی‘‘ ہے۔ نارتھ ایسٹ انڈیا اورکئی دوسرے صوبوں میں یہ ’’یمی ‘ہے۔ اترپردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، مہاراشٹر، گجرات میں گائے کو وہ حقوق حاصل ہیں جو انسانوں کو بھی نہیں حاصل مگر دوسری طرف بی جے پی کے اقتدار والی آسام ، تری پورہ اورگوا میں اس کے ذبیحے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ گوا میں جب بیف کی کمی ہوتی ہے تو کرناٹک سے لایا جاتا ہے۔کرناٹک میں ایک مدت تک بی جے پی برسراقتدار رہی مگر اس نے اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی۔
گایوں سے پریشان، یوپی کے کسان
اترپردیش میں آوارہ گایوں کے قہر سے شہریوں کا جینا حرام ہوگیاہے۔ کئی مقامات پر کھلے میں گھوم رہی گائیں کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں، لیکن کسان اس کے خلاف کچھ بھی کر پانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور شدید سردی میں کھیت میں آوارہ گایوں سے اپنی فصل کو بچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں شکایت کے بعد بھی انتظامیہ خاموش ہے۔ مرکز میں مودی اور ریاست میں یوگی حکومت کے آنے کے بعد سے گایوں کی حفاظت کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہو گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں، گائے سے متعلق ہوئے پُر تشدد واقعات نے کسانوںکو خوفزدہ کررکھاہے۔ یوپی کے جونپور، اعظم گڑھ، گورکھ پور، فیض آباد، الہ آباد، مرزا پور، بنارس، بلند شہر، مظفر نگر، آگرہ، متھرا اور علی گڑھ سمیت کئی اضلاع کے کسان، گایوں کے فصل برباد کرنے سے بے حد پریشان ہیں اور کسان انہیں قریبی اسکولوں، پولس اسٹیشنوں اور سرکاری عمارتوں میں بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ وہ سرد راتوں میں جانوروں سے اپنی فصل بچانے کے لئے جاگنے پر مجبور ہیں۔ ایک کسان نے بتایا کہ ہماری فصلیںمسلسل ضائع ہو رہی ہے، ہم بہت پریشان ہیں۔ ادھر علی گڑھ میں بوڑھے مویشیوں کے مسائل سے نمٹنے کے لئے، انتظامی عملہ نے کچھ زندہ گایوں کو دفن کردیا۔ الہ آباد سے خبر ہے کہ جب سے بوڑھے جانوروں کی فروخت کو لے کر سیاست تیز ہو ئی ہے، کسان اپنے بیکار جانوروں کو دریا کے کنارے لے جاتے ہیں، وہاں اس کی پوجاکی جاتی ہے پھر اس کے پیچھے کچھ کیمیکل لگایا جاتا ہے، جس سے مویشی بے قابو ہو کر بے تحاشہ بھاگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کا راستہ بھی بھول جاتا ہے۔ خبر ہے کہ کسانوں نے 24-25 دسمبر کی رات کو فصلوں کی تباہی کے بعد، علی گڑھ کے گورئی گاؤں کے ایک سرکاری اسکول اور ہیلتھ سینٹر کے اندر 700 سے 800 آوارہ گایوں کو لاکر بند کردیا۔ ایک کسان کے مطابق، گائیں ہماری فصلوں کو برباد کر رہی ہیں۔ ہم نے حکومت سے گایوں کے لئے شیلٹرہوم کا مطالبہ کیا تھا، لیکن انتظامیہ کی طرف سے کچھ نہیں کیا گیا ۔ متھرامیں گزشتہ دنوں لوگوں نے پریشان ہوکر گاؤں کے ایک اسکول میں پانچ گایوں کو بند کر دیا،بعد میں پولس نے گایوں کو اسکول سے نکالا مگر کسی گوشالہ میں بھیجنے کے بجائے، انھیں آزاد چھوڑ دیا جس سے کسانوں کی مصیبت مزید بڑھ گئی۔حالانکہ دوسری طرف کارب گائوں کے ایک اسکول میں بند گایوں نے بھوک اور پیاس سے دم توڑ دیا۔متھرا کے ہی بھگت نگریا علاقے میں کسانوں نے سینکڑوں آوارہ گایوں کو ایک اسکول میں بند کردیا۔ اس سے پریشان اسکول ٹیچرس نے خود کو بچوں سمیت کمرے میں بند کر دیا۔محکمہ کے افسران کواس صورت حال سے مطلع کیا گیا اور پولیس کنٹرول روم کو بھی بتایا گیا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور مجبور ہوکر اساتذہ نے جانوروں کو اسکول میں رہنے دیا اور بچوں کو اسکول کے قریب ایک کھیت میں پڑھانا شروع کردیا۔ ایک فیس بک یوزرعلی رضا کہتے ہیں کہ گائے کبھی مسئلہ نہیں تھی مگر یو پی میں یو گی کے آنے کے بعد یہ ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ دو دن پہلے مجھے اپنی کمپنی میں ایک سیکیورٹی گارڈ منہ لٹکا ئے بیٹھا ملا۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگاکہ بہت دکھی ہوں۔ میرا گھر متھراضلع میں ہے۔ جب سے یو گی آیاہے، جھنڈ کی جھنڈ گائیں ہماری فصلوں کو کھا رہی ہیں۔ کھیت میں کچھ بھی نہیں بچ رہا ہے۔ گھروالے رات رات بھر پہرا دے رہے ہیںمگر کب تک حفاظت کریں۔
اب گائے کا بوجھ بھی کسان پر
اترپردیش کی حکومت نے ریاست کے لوگوں پرایک نیا ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کے باشندوں کو یہ ٹیکس گایوں کی خدمت کے لئے دینا پڑے گا۔ یعنی یوپی کے وہ کسان جو اب تک قرض کے سبب مر رہے تھے اور وہ کاروباری جو نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے سبب تباہ حال تھے، انھیں اب ’’گوماتا کی سیوا‘‘ بھی کرنی پڑے گی۔ حکومت کے نئے فرمان کے مطابق خواہ یوپی میں انسان محفوظ نہ ہوں، خواتین سے ریپ کے سب سے زیادہ واقعات ہوتے ہوں مگر اب پولس اور انتظامیہ کو نئی ذمہ داری گایوں کے تحفظ کی دی گئی ہے۔گزشتہ دنوںاتر پردیش کے چیف منسٹر نے آوارہ گایوں کی حفاظت کے لئے ایک نیا فرمان جاری کیا ۔ انہوں نے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ حکم دیا کہ سڑکوں پر گھومنے والی تمام آوارہ گایوں کے مالکوں کی شناخت کریں اور ان کے خلاف کاروائی کریں۔اسی کے ساتھ یوگی نے گایوں کو تحفظ دینے کا بھی پولس کو حکم دیا۔ انہوں نے گایوں کے تحفظ کے لئے ریاست کے عوام پر ایک نیا ٹیکس عائد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ’’کائو سیس‘‘ عوام سے وصول کرکے گایوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت گوشالائوں کے لئے فنڈز مختلف محکموں سے لئے جائیں گے۔ اکسائز آئیٹم پر 0.5 فیصد،ٹیکس لگایا جائے گا۔ ٹول ٹیکس پر بھی گایوں کے لئے اسی قدر وصول کیا جائے گا۔ اتر پردیش ایکسپریس وے اتھارٹی اور منڈی پریشد پر بھی گائے ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔خواہ ریاست میں اسکول اور اسپتال نہ ہوں مگر اب اس منصوبے کے تحت ہر ضلع کے دیہی اور شہری علاقوں میں گوشالے تعمیر کیئے جائیں گے۔ ایک فیس بک یوزرامتیاز عالم کا خیال ہے کہ یوپی میں گائے ’ممی‘ ہے اور مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اسے احترام کی نگاہ سے احتیاطاً دیکھیں۔اس کا لازمی نتیجہ آوارہ جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔اس آوارگی کی خبریں میڈیا میں بھی آنے لگی ہیں ۔امتیازعالم کے مطابق ان دنوں بہار میں نیل گائیں بڑی مصیبت بن گئی ہیں اور انھیں ہندو ہی مار رہے ہیں۔ چنانچہ آنے والے دنوں میں گایوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونے والاہے۔
گائے مسئلہ کیوں بن گئی؟
گائے اس قدر اہم ہوتی جارہی ہے کہ اب اس کے آگے انسانی جان کی بھی قیمت نہیں رہی۔گزشتہ دنوں گائے کے تحفظ کے نام پر اترپردیش کے بلند شہر میں تشدد برپا کیا گیا اور ایک پولس افسر کی جان لی گئی۔ بلند شہر کی چنگاری سے پورے اترپردیش کو آگ لگانے کی تیاری تھی مگر عوام نے سمجھداری کا ثبوت دیا اور اس چنگاری کو سلگنے سے پہلے ہی بجھا دیا۔ 3 دسمبر، 2018 کو بلند شہر میں مبینہ طور پر گائے کشی کے نام پر شروع ہوئے تنازعے کو جس طرح سے بڑھایا گیا، اس میں پولیس کے انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی موت ہوگئی۔ پولس افسر کے خلاف بھگوا جماعتوں کی طرف سے بہت پہلے سے منفی تشہیر کی جارہی تھی۔ انھیں ہندو مخالف بتایا جارہا تھا اور بی جے پی کے لیڈران ان کو ہٹانے کی مانگ کر رہے تھے۔ تشدد کے اس واقعے میں ایک مقامی نوجوان کی بھی ہلاکت ہوئی۔ خود وزیراعلیٰ یوگی نے اس سنگین معاملے کو ایک حادثہ کہہ کر معمولی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔دوسری طرف اب بھی ریاستی پولس ،حکومت کے دبائو میں کام کر رہی ہے اور اصل ملزموں کو پکڑنے کے بجائے گائے کشی کے جھوٹے کیس تیار کر مسلمانوں کو پکڑ رہی ہے۔ بالی وڈ کے معروف ایکٹر نصیر الدین شاہ نے بجا طور پر کہا ہے کہ ہم نے بلند شہر تشدد میں دیکھا کہ گائے کی موت کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے نہ کہ پولیس افیسر کی موت کو، مجھے اپنے بچوں کے تعلق سے انتہائی ڈر لگتا ہے کہ اگر کہیں میرے بچوں کو ہجوم نے گھیر لیا اور ان سے پوچھا جائے کہ تم ہندو ہو یا مسلمان؟ تو کیا ہوگا؟
گائے پر سیاست؟
گائے پر سیاست کے سوال پر دہلی کے صحافی شرف الدین عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ عجب سرزمین کی غضب صورتحال ہے کہ بے چاری گائے کا ووٹ بھلے ہی نہ ہو،مگر بھارت میں اسے ایک ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ان کے مطابق گائے ایک سیاسی ہتھیار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ادھر ممبئی کے ڈاکٹر عبدالرحمٰن خان کا خیال ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دے دیا جائے تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔جب کہ عزیرانجم کا کہنا ہے کہ سیاسی مفادات کی خاطرگائے کی جانب توجہ دی جارہی ہے۔شاہین باغ، نئی دہلی میں رہنے والے شیخ نظام الدین کہتے ہیں کہ گائے عام ہندووں کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ،یہ تو صرف چند سیاسی لوگوں کا ہتھکنڈہ محض ہے۔پاکستان کے لاہور سے تعلق رکھنے والے عارف شہزاد ایک فیس بک تبصرہ میں کہتے ہیں کہ جب حکومت مذہبی جنونیوں کی سرپرستی کریگی تو ایسے ہی مسائل کھڑے ہونگے، وہ خواہ انڈیا ہو یا پاکستان۔ اسی تعلق سے منظور احمد کا کمنٹ ہے کہ ’’جانور تو انسان بننے سے رہا مگر انسان جانور بن گئے ہیں۔جب کہ انیس الرحمٰن چشتی کہتے ہیں کہ گائے ’ماتا‘ سے مسئلہ بن نہیں رہی ہے بلکہ بنایا جارہا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ فرضی اعتقاد اس قدر مضبوط کردی گئی ہے کہ اب اس کا دل سے نکالنا مشکل ترین امرہوگیا ہے۔
سال گزشتہ بھارت کئی صوبوں میں اسمبلی الیکشن ہوئے اور انتخاب میں گائے بھی ایک ایشو رہی مگر یہ ایشو بی جے پی کو جیت نہیں دلاپایا۔ خود راجستھان کے گائے منتری بھی الیکشن ہارگئے۔ گایوں کے تحفظ کے نام پر انسانوں کے قتل کے لئے بدنام راجستھان کے الور ضلع میںنواسمبلی سیٹوں میں سے ،بی جے پی کے کھاتے میں صرف 2 نشستیں گئیں۔جب کہ گزشتہ انتخابات میں اسے تمام 9 نشستیں مل گئی تھیں۔ اس کے بعد سوال پوچھے جارہے ہیں کہ کیا یہ گائے کے نام پر ہونی والی سیاست کی ہار ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close