دہلیہندوستان

گجرات میں اترپردیش اور بہار کے لوگوں پر حملے : کانگریس کا وزیر اعظم پر طنز ، یاد رکھیں ! وارانسی بھی جانا ہے

گجرات میں اترپردیش ، بہار اور مدھیہ پردیش کے لوگوں پر حملوں کو لے کر کانگریس کے لیڈر سنجے نروپم نے کہا کہ وزیر اعظم کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کل کو انہیں ووٹ مانگنے کیلئے وارانسی ہی جانا ہے ۔

دہلی :گجرات کے کئی حصوں میں شمالی ہندوستانیوں پر لگاتار ہورہے حملوں سے سیاسی سرگرمی بڑھ گئی ہے۔ گجرات میں اترپردیش ، بہار اور مدھیہ پردیش کے لوگوں پر حملوں کو لے کر کانگریس کے لیڈر سنجے نروپم نے کہا کہ وزیر اعظم کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کل کو انہیں ووٹ مانگنے کیلئے وارانسی ہی جانا ہے ۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم مودی وارانسی سیٹ سے ہی ممبر پارلیمنٹ ہیں ۔
سنجے نروپم نے کہا کہ گجرات میں اگر یوپی ، بہار اور مدھیہ پردیش کے لوگوں کو مار مار کر بھگایا جائے گا ، تو ایک دن وزیر اعظم کو بھی وارانسی جانا ہے ، یہ یاد رکھنا ، وارانسی کے لوگوں نے انہیں گلے لگایا اور وزیر اعظم بنایا تھا ۔خیال رہے کہ گجرات کے سابرکانٹھا ضلع میں 14 مہینے کی بچی کی مبینہ آبروریزی کے الزام میں بہار کے ایک مزدور کی گرفتاری کے بعد وہاں غیر گجراتیوں کے خلاف تشدد کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا پر غیر گجراتیوں ، خاص کر بہار اور اترپردیش کے لوگوں کے خلاف نفرت آمیز پیغامات پھیلائے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ان پر یہ حملے ہوئے ہیں ۔ وہاں بہار ، اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ، جس کی وجہ سے باہری لوگوں میں ہجومی تشدد کا خوف بیٹھ گیا ہے اور اپنی جان بچانے کیلئے وہ گجرات چھوڑ رہے ہیں ۔ادھر مار پیٹ کے واقعات پر اتوار کو گجرات کے ڈی جی پی شیوا نند جھا نے پریس کانفرنس کی ۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ میں اب تک 342 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی جن علاقوں سے مار پیٹ کی خبریں زیادہ آرہی ہیں ، ان علاقوں میں پولیس کی گشت بڑھا دی گئی ہے۔ ان کے مطابق غیر گجراتیوں خاص طور پر اترپردیش اور بہار کے رہنے والے لوگوں پر حملے گزشتہ ایک ہفتہ میں گاندھی نگر ، مہسانا ، سابرکانٹھا ، پاٹن اور احمد آباد اضلاع میں ہوئے ہیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close